اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے سحر سے باہر نکل آئیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر اپوزیشن جماعت سوشل میڈیا کے پروپیگنڈا اور دباؤ سے آزاد ہو کر زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کرے تو اس کی سیاسی بقا اور استحکام کے لیے یہ انتہائی سودمند ثابت ہو گا۔
وزیر دفاع کا یہ مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی سیاسی فضا میں مختلف جماعتوں کے درمیان مکالمے اور کشیدگی کا ملا جلا ماحول پایا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی سیاست کے اصولوں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ جمہوریت میں غیر لچکدار رویے اور ناقابل واپسی فیصلے کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی کیونکہ حالات بدلتے رہتے ہیں۔
خواجہ آصف نے ماضی کے سیاسی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کے اندر دشمنیاں اور دوستیاں دائمی نہیں ہوتیں بلکہ وقت اور حالات کے ساتھ باہمی تعلقات کا رخ بدلتا رہتا ہے۔ ان کے نزدیک سیاستدانوں کے لیے ہمیشہ دروازے کھلے رہنے چاہئیں تاکہ ضرورت پڑنے پر قومی مفاد میں راستے نکالے جا سکیں۔
مولانا فضل الرحمان کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما کا کہنا تھا کہ وہ اپنی ہی جماعت کے کسی دوسرے رہنما کے بیان پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں گے۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ جے یو آئی کے سربراہ کی جانب سے کچھ روز قبل سخت زبان استعمال کی گئی تھی جس پر انہوں نے سیاسی نکتہ چینی کی تھی۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ سیاسی میدان میں اختلاف رائے ایک فطری عمل ہے لیکن جب گفتگو میں تلخی حد سے بڑھ جائے تو اس پر سیاسی ردعمل دینا بھی سیاسی جماعتوں کا حق بن جاتا ہے۔ ان کے مطابق پارلیمانی روایات کے دائرے میں رہ کر ہی تمام امور پر بحث ہونی چاہیے تاکہ جمہوریت کا وقار برقرار رہے۔
تحریک انصاف کے اندرونی حالات کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ اس وقت پی ٹی آئی کی صفوں کے اندر سے بھی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی کے اندر موجود سنجیدہ حلقے اب اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ محاذ آرائی اور مزاحمتی سیاست کو اب خیرباد کہہ دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پی ٹی آئی کی قیادت احتجاجی سیاست کو چھوڑ کر آئینی اور پارلیمانی دائرے میں آ کر سیاسی عمل کا حصہ بنتی ہے تو انہیں سیاسی میدان میں کافی زیادہ گنجائش اور پذیرائی مل سکتی ہے۔ ان کا ماننا تھا کہ لچکدار رویہ ہی جمہوری نظام کو مضبوط کرتا ہے۔
وزیر دفاع نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ملک کو اس وقت سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے تاکہ معاشی چیلنجز سے مؤثر طریقے سے نمٹا جا سکے اور تمام جماعتوں کو اس میں اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہو گا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خواجہ آصف کے یہ بیانات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سرد و گرم تعلقات کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتے ہیں اور آنے والے دنوں میں پارلیمانی سیاست پر اس کے اچھے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
پارلیمنٹ کے اندر اور باہر رہنماؤں کے ایسے بیانات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی فضا میں مکالمے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے تاکہ ملکی مسائل کا آئینی حل تلاش کیا جا سکے اور محاذ آرائی کا خاتمہ ہو۔
موجودہ سیاسی منظر نامے میں پارلیمنٹ کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات پس پشت ڈال کر ایوان کے اندر سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہیے۔
اس تناظر میں وزیر دفاع نے ایک بار پھر دہرایا کہ اگر اپوزیشن جماعت اپنے رویے میں تبدیلی لائے اور غیر ضروری دباؤ سے باہر نکلے تو قومی سیاست میں ایک نئے اور مثبت دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔
آخرمیں انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ جمہوری اقدار کو فروغ دینا اور آئین کی بالا دستی قائم رکھنا تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے تاکہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نکالا جا سکے۔



اپنی رائے دیں