خیبر پختونخوا میں جاری خصوصی انتظامی اقدامات کے تناظر میں صوبے کے 12 قبائلی اور جنوبی اضلاع میں امن و امان کی بحالی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے ایک نئے نظام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں علاقائی ترقیاتی کونسل کی تشکیل کے لیے انتخابی عمل کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے۔
حکام کے مطابق اس کونسل کا بنیادی مقصد ترقیاتی امور اور انتظامی فیصلوں میں مقامی آبادی کی براہ راست شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔ اس اقدام سے عوامی مسائل کو متعلقہ حکام تک پہنچانے اور مقامی ترجیحات کے مطابق ترقیاتی منصوبوں کی نشاندہی کرنے میں مدد ملے گی۔
نئے انتظامی ڈھانچے کے تحت 12 اضلاع پر مشتمل اس کونسل میں ہر ضلع سے دو قبائلی عمائدین یا ملک منتخب کیے جائیں گے۔ اس طرح مجموعی طور پر 24 ارکان پر مشتمل ایک نمائندہ کونسل تشکیل دی جائے گی جو علاقے کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔
کونسل کے ارکان کا انتخاب روایتی جرگہ نظام، مقامی قبائلی روایات اور باہمی مشاورت کے ذریعے عمل میں لایا جا رہا ہے۔ پہلے مرحلے میں شمالی وزیرستان، خیبر، بنوں اور ٹل کے علاقوں میں انتخابی عمل شروع کیا گیا ہے جہاں ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مشاورتی اجلاس منعقد ہوئے۔
ان جرگوں اور مشاورتی نشستوں میں قبائلی مشران، ملک، علمائے کرام، مقامی عمائدین اور تاجر برادری کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی۔ اجلاسوں کے دوران سیکیورٹی چیلنجز، امن و امان کی مجموعی صورتحال اور عوام کو درپیش بنیادی مسائل پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
جن اضلاع میں یہ نیا نظام نافذ کیا جا رہا ہے ان میں باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے بالائی و زیریں علاقے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، لکی مروت اور بنوں بھی اس انتظامی دائرہ کار کا حصہ ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ دو روز کے دوران باقی ماندہ اضلاع میں بھی جرگوں کے ذریعے نمائندوں کے انتخاب کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔ متعلقہ اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور ضلعی انتظامیہ اس پورے مشاورتی عمل میں سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔
جرگوں میں شریک قبائلی عمائدین نے نئے انتظامی نظام پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ شرکاء نے سرکاری اداروں اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا تاکہ علاقے میں پائیدار امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
علاقائی ترقیاتی کونسل مقامی آبادی اور انتظامی اداروں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرے گی۔ یہ کونسل نہ صرف ترقیاتی منصوبوں کے لیے سفارشات مرتب کرے گی بلکہ علاقائی مسائل کے حل کے لیے ٹھوس تجاویز بھی پیش کرنے کی مجاز ہوگی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ تمام 12 اضلاع سے نمائندوں کے انتخاب تک جرگوں اور مشاورتی اجلاسوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اس عمل کی تکمیل کے بعد ہی 24 رکنی علاقائی ترقیاتی کونسل اپنی باقاعدہ ذمہ داریاں سنبھال لے گی۔
یہ اقدام صوبے کے قبائلی اور جنوبی اضلاع میں انتظامی خلا کو پر کرنے اور عوامی ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ایک اہم کڑی ہے۔ مقامی سطح پر فیصلوں میں شمولیت سے علاقے میں اعتماد سازی کا عمل مزید مستحکم ہوگا۔
حکومتی حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد عوامی مسائل کے حل کے لیے ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنا ہے جہاں مقامی لوگ اپنی آواز مؤثر طریقے سے اٹھا سکیں۔ اس سے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت اور مقامی ضروریات کا خیال رکھنا آسان ہو جائے گا۔
امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس کونسل کے قیام سے مقامی آبادی کے مسائل کے حل میں تیزی آئے گی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل ممکن ہو سکے گی۔ انتظامیہ کی جانب سے اس عمل کو شفاف اور مشاورت پر مبنی رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔




اپنی رائے دیں