لاہور کے علاقے ہرنس پورہ میں پولیس نے ایک ایسے نوسرباز کو حراست میں لے لیا ہے جو سگریٹ کے خالی ڈبوں کے اندر ریت بھر کر دکان داروں کے ہاتھوں فروخت کیا کرتا تھا۔ پولیس حکام کے مطابق اس مجرمانہ سرگرمی کا انکشاف اس وقت ہوا جب اس حوالے سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی کے ساتھ وائرل ہوئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی اس ویڈیو کا ایس پی کینٹ نے فوری طور پر نوٹس لیا اور متعلقہ پولیس کو ملزم کی گرفتاری کے لیے احکام جاری کیے۔ پولیس ذرائع کا بتانا ہے کہ ملزم انتہائی چالاکی کے ساتھ دکان داروں کو اپنا نشانہ بنا رہا تھا اور سادہ لوح افراد اس کے اس فریب کو سمجھنے سے قاصر تھے۔
ابتدائی تحقیقات اور پولیس ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق گرفتار ہونے والے ملزم کی شناخت انیل کے نام سے ہوئی ہے جو دکان داروں کو یہ تاثر دیتا تھا کہ وہ کسی معروف سگریٹ کمپنی کا باقاعدہ سیلز مین ہے۔ اس جعلی شناخت کی آڑ میں وہ دکان داروں کو دھوکہ دے کر ریت سے بھرے ہوئے سگریٹ کے پیکٹ تھما دیتا تھا اور نقد رقم لے کر فرار ہو جاتا تھا۔
واقعے کی سنگین نوعیت کو دیکھتے ہوئے کینٹ پولیس نے فوری طور پر جدید ترین ٹیکنالوجی اور اردگرد کے علاقوں میں لگے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کی مدد سے تفتیش کا آغاز کیا۔ پولیس نے تکنیکی ذرائع کو بروئے کار لاتے ہوئے اس نوسرباز کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا اور آخرکار اسے قانون کی گرفت میں لے آئے۔
گرفتاری کے وقت پولیس نے ملزم کے قبضے سے بھاری مقدار میں ریت بھرے ہوئے سگریٹ کے پیکٹ، بڑی تعداد میں خالی ڈبے اور ایک ہیٹ سیلنگ استری بھی برآمد کی ہے۔ ہیٹ سیلنگ استری کا استعمال پیکٹوں کو دوبارہ بالکل اصلی حالت میں سیل کرنے کے لیے کیا جاتا تھا تاکہ کسی کو شک نہ گزرے۔
پولیس کے مطابق ملزم کی جانب سے شہر کے مختلف علاقوں میں جا کر دکانوں پر سگریٹ فراہم کرنے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل کر لی گئی ہے جو تفتیش کے دوران ایک اہم ثبوت کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس فوٹیج میں ملزم کو بآسانی دکان داروں کے ساتھ لین دین کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔
واقعے کے بعد پولیس نے ملزم انیل کے خلاف ضابطے کے مطابق مقدمہ درج کر لیا ہے اور اس سے مزید تفتیش کا سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ اس مکروہ دھندے میں ملزم کے ساتھ کوئی اور افراد بھی ملوث تھے یا وہ اکیلا ہی یہ سب کچھ کر رہا تھا۔
شہر میں اس نوعیت کے فراڈ سامنے آنے پر تاجر برادری اور مقامی دکان داروں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے تاہم پولیس کی بروقت کارروائی کو سراہا بھی گیا ہے۔ پولیس کا عزم ہے کہ شہریوں اور دکان داروں کو اس طرح کے نوسربازوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسے عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائیاں بلا تعطل جاری رہیں گی۔
پکڑے جانے والے ملزم کے پاس سے برآمد ہونے والے سگریٹ کے ڈبے دیکھنے میں بالکل اصلی معلوم ہوتے تھے کیونکہ وہ ان میں بڑی مہارت سے ریت بھر کر انہیں سیل کر دیتا تھا۔ دکان دار عام طور پر سیل بند پیکٹ دیکھ کر اس پر شک نہیں کرتے تھے اور اسے اصلی مال سمجھ کر خرید لیتے تھے۔
ایس پی کینٹ کے احکامات کے بعد پولیس ٹیموں نے اس کیس کو ٹیکنیکل بنیادوں پر حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل شواہد اور کیمروں کی مدد سے ملزم تک پہنچنا نسبتاً آسان ہو گیا اور اسے قانون کے کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا۔
مقدمے کے اندراج کے بعد تفتیشی افسران ملزم سے مزید بازپرس کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس نے اب تک کتنے دکان داروں کو اپنا نشانہ بنایا اور کتنی رقم بٹوری۔ پولیس حکام کے مطابق تفتیش مکمل ہونے کے بعد ملزم کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پولیس کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس نوعیت کے جرائم کے خلاف سوشل میڈیا کی مانیٹرنگ بھی کی جاتی ہے۔ جیسے ہی کوئی شکایت یا ویڈیو سامنے آتی ہے تو متعلقہ حکام فوری کارروائی عمل میں لاتے ہیں تاکہ قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جا سکے۔
شہر میں اس طرح کے فراڈ کی روک تھام کے لیے پولیس نے دکان داروں کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سیلز مین سے سامان خریدتے وقت احتیاط سے کام لیں۔ مقامی انتظامیہ کا ماننا ہے کہ اس قسم کے عناصر کے خلاف عوامی آگاہی بھی اس گھناؤنے کاروبار کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔





اپنی رائے دیں