مواد پر جائیں
بدھ، 28 اکتوبر 2026 17 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:57
بریکنگ
بلوچستان: سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز میں 9 دہشت گرد ہلاکامریکا کی ایران پر ممکنہ بڑے حملے کی تیاری، خلیجی ممالک کو آگاہ کر دیاکراچی کے علاقے ڈیفنس میں شہریوں کو ہراساں کرنے کی ویڈیوز، پولیس کی تحقیقات جاریکراچی: شاہ فیصل کالونی میں بھائی نے فائرنگ کر کے دو بہنوں کو قتل کر دیاخیبر پختونخوا میں تجاوزات کیخلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز، غیر قانونی تعمیرات مسماردرآمدی گندم کی آمد، آٹے اور گندم کی قیمتوں میں کمی کا امکانبھارت: مائیکروسافٹ ملازم کو نوکری چھوڑنے پر 11 لاکھ کی پیشکش، انٹرنیٹ پر بحثثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے نہم جماعت سائنس گروپ کے نتائج کا اعلان کر دیاآئی سی سی رینکنگ میں بڑی تبدیلی، مارکو جینسن اور ابھیشیک شرما نمبر ون بن گئےکراچی: عمرہ ویزے کی آڑ میں غیر قانونی سفر کی کوشش ناکام، دو بھائی گرفتارملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، چھوٹے کاروباری طبقے میں تشویشعالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، برینٹ کی قیمت 115 ڈالر سے تجاوز کر گئیمصر میں آوارہ کتوں کے حملے میں پندرہ ماہ کی بچی جاں بحقصادق سنجرانی کے ہاں اکیس سال بعد بیٹے کی پیدائش، مبارکبادیںترکیہ سپر لیگ: گالاتاسرائے اور فینرباہچے میچ کے بعد کھلاڑی آپس میں الجھ پڑےلاہور ہائیکورٹ نے کوٹ لکھپت کے ایس ایچ او کی سزا معطل کر دیآئی سی سی کا ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر حارث رؤف پر جرمانہایڈیشنل چیف سیکریٹری افتخار علی سہو سے پنشنرز کے نمائندوں کی ملاقاتبیریئر ہٹانے اور کار سرکار مداخلت کیس، ایمان مزاری کا بیان سامنے آ گیالاہور کے علاقے غازی آباد میں سسرالیوں کے مبینہ تشدد سے بہو جاں بحق
پاکستان

اسلام آباد: غیر قانونی گردہ پیوندکاری کیس میں دو ملزمان کی ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے قائداعظم انٹرنیشنل اسپتال میں غیر قانونی گردہ پیوندکاری کے مقدمے میں نامزد ڈاکٹر نادر حسین اور سید عدیل حیدر کی ضمانت منظور کر لی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال میں غیر قانونی گردہ پیوندکاری کے سنگین مقدمے کی سماعت کی۔ جسٹس شہزاد ملک کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کے نامزد ملزمان ڈاکٹر نادر حسین اور سید عدیل حیدر کی جانب سے دائر کردہ درخواست ضمانت پر فیصلہ سنایا۔

عدالت نے دونوں ملزمان کی دو، دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرنے کا حکم دیا ہے۔ یہ ملزمان قائداعظم انٹرنیشنل اسپتال میں غیر قانونی طور پر اعضا کی پیوندکاری کے آپریشن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے۔

تفتیشی حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ڈاکٹر نادر حسین کے دفتر سے 12 لاکھ 94 ہزار روپے کی نقدی برآمد ہوئی تھی۔ یہ رقم مبینہ طور پر گردے کی غیر قانونی پیوندکاری کے آپریشن کے عوض وصول کی گئی تھی، جس کے بعد ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں انسانی اعضا کی پیوندکاری سے متعلق ایچ او ٹی اے ایکٹ 2010 کی دفعات 9، 10 اور 11 کے ساتھ ساتھ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 109 بھی شامل کی گئی ہے۔ اس کیس میں مجموعی طور پر 13 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں سے تفتیش جاری ہے۔

اب تک کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پانچ ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے جبکہ دو ملزمان ضمانت پر رہا ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ چھ ملزمان تاحال مفرور ہیں جن کی گرفتاری کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

تفتیشی ریکارڈ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ ملزم ڈاکٹر نادر حسین اب تک 55 سے زائد ایسے آپریشنز کر چکے ہیں جن میں گردہ عطیہ کرنے والے افراد کا وصول کنندگان سے کوئی خاندانی تعلق نہیں تھا۔ یہ عمل قانون کی صریح خلاف ورزی ہے۔

تحقیقات سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ گردے عطیہ کرنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے غریب مزدور طبقے سے تھا۔ ان افراد کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے کا جھانسہ دے کر اپنے اعضا فروخت کرنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔

حکام کی جانب سے کیس میں نامزد ملزمان، جن میں ایجنٹ سلیم خان اور سید عدیل حیدر شامل ہیں، کے تمام بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو باقاعدہ خطوط ارسال کر دیے گئے ہیں۔ مالیاتی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کا عمل بھی جاری ہے۔

قانون نافذ کرنے والے ادارے اس نیٹ ورک کے دیگر سہولت کاروں اور مفرور ملزمان کی تلاش میں مصروف ہیں۔ اس کیس نے طبی شعبے میں غیر قانونی سرگرمیوں اور انسانی اعضا کی اسمگلنگ کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔

عدالت کی جانب سے ضمانت کی منظوری کے بعد قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ مقدمے کی باقاعدہ سماعت کے دوران مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ استغاثہ کی جانب سے ملزمان کے خلاف ٹھوس شواہد پیش کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

پاکستان میں انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے خلاف قوانین کافی سخت ہیں، جن کا مقصد غریب اور کمزور طبقے کے استحصال کو روکنا ہے۔ اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے حکومتی ادارے مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

اسپتال انتظامیہ اور متعلقہ طبی بورڈز بھی اس معاملے پر اپنی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اسپتال کی سطح پر کوئی باقاعدہ نیٹ ورک کام کر رہا تھا یا یہ انفرادی سطح پر ہونے والی غیر قانونی سرگرمیاں تھیں۔

متاثرہ مزدوروں کے بیانات اور دیگر شواہد کو کیس کا اہم حصہ بنایا گیا ہے۔ عدالت کی جانب سے ضمانت کا فیصلہ ملزمان کو ٹرائل کے دوران پیش ہونے کا پابند بناتا ہے، جبکہ کیس کی اگلی سماعت پر مزید قانونی کارروائی متوقع ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں