مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:57
بریکنگ
خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر مریم نواز برہم، پولیس افسران کو چار ہفتوں کی مہلتسیالکوٹ موٹروے پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو حادثہ، ایک اہلکار شہید، 5 زخمیپیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب، حکومت مخالف حکمت عملی پر غورسہ ملکی سیریز: ہیری بروک کی تاریخی ڈبل سنچری، انگلینڈ کا سری لنکا کو 430 رنز کا ہدفانگلینڈ کا راولپنڈی میں شاندار کھیل، ون ڈے میں ریکارڈ 429 رنز بنا ڈالےپنجاب میں امن و امان کا جائزہ: مریم نواز کی پولیس کو 4 ہفتے کی مہلتبڑھتی عمر میں بھی جِلد کو جوان رکھنے والی غذائیں کون سی ہیں؟قائداعظم یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر جسپال کی مدت میں توسیعجامعہ کراچی میں اسکول آف نرسنگ کے قیام کیلیے بھرپور تعاون کا اعلانفرانسیسی صدر میکرون کے نئے دفاتر کی تیاری کے لیے 23 لاکھ یورو مختصکراچی میں ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، ہنڈی حوالہ میں ملوث دو ملزمان گرفتارکراچی میں مشترکہ کارروائی، بدنام زمانہ منشیات فروش قاسم عرف قاسو گرفتارخیبرپختونخوا کے سرکاری گوداموں سے زہریلی گندم کی سپلائی کا انکشافپنجاب کے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا شیڈول جاریعمان کے سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث سنا دیبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملے سے قبل دیگر فنکاروں کی ریکی کا انکشافآسٹریلوی فاسٹ بولر میگن شٹ طبی ضوابط کی خلاف ورزی پر دو میچوں کیلئے معطلجعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، سات روز میں دو ہزار مقدمات درجریلوے پٹریوں پر پتھر اور میٹرو ٹریک پر کنکریٹ کیوں استعمال ہوتی ہے؟پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت آغاز، ہنڈرڈ انڈیکس میں اضافہ
پاکستان

این سی سی آئی اے میں عملے کی کمی، پنجاب پولیس سے 300 افسران و اہلکار طلب

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے پنجاب پولیس سے ڈیپوٹیشن پر نفری مانگ لی۔

این سی سی آئی اے میں عملے کی کمی، پنجاب پولیس سے 300 افسران و اہلکار طلب

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اپنے دائرہ کار میں توسیع اور تفتیشی عمل کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پنجاب پولیس سے 300 افسران اور اہلکار ڈیپوٹیشن پر طلب کر لیے ہیں۔

اس اقدام کا مقصد ایجنسی میں درپیش عملے کی کمی کو پورا کرنا ہے تاکہ سائبر کرائم سے متعلق مقدمات کی تفتیش اور دیگر امور کو بروقت نمٹایا جا سکے۔ یہ فیصلہ ڈی جی این سی سی آئی اے کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں آئی جی پنجاب کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے جس میں مختلف رینکس کے افسران کی خدمات مانگی گئی ہیں۔ ان میں 30 ڈی ایس پیز، 30 انسپکٹرز، 115 سب انسپکٹرز، 25 اے ایس آئیز اور 100 ہیڈ کانسٹیبلز و کانسٹیبلز شامل ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر 107 افسران و اہلکاروں کی ناموں پر مشتمل فہرست این سی سی آئی اے کو فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ مزید 193 افراد کی فراہمی کے لیے عمل جاری ہے۔

ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے لیے مرد و خواتین دونوں افسران و اہلکار اہل قرار دیے گئے ہیں۔ تاہم اس کے لیے کچھ بنیادی شرائط و ضوابط کا تعین کیا گیا ہے تاکہ ایجنسی کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔

امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی عمر 48 سال سے کم ہو اور وہ جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں۔ تعلیمی قابلیت کے حوالے سے کم از کم بی اے یا آئی سی ایس کی ڈگری ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

مراسلے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے واضح کیا گیا ہے کہ صرف ایماندار اور اے گریڈ سروس ریکارڈ کے حامل افسران کو ہی تعیناتی کے لیے زیر غور لایا جائے گا۔ یہ ایک اہم شرط ہے تاکہ تفتیشی عمل کو غیر متنازع بنایا جا سکے۔

جن افسران یا اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی سنگین سزائیں موجود ہیں یا وہ کسی جاری انکوائری کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اس تعیناتی کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا۔ ایجنسی کا مقصد بہترین افرادی قوت کا انتخاب کرنا ہے۔

سائبر کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر این سی سی آئی اے کی استعداد کار بڑھانا ناگزیر ہو چکا تھا۔ پنجاب پولیس سے ملنے والی یہ نفری ایجنسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔

حکام کا ماننا ہے کہ تجربہ کار پولیس افسران کی شمولیت سے سائبر کرائم کے پیچیدہ مقدمات کی تفتیش میں تیزی آئے گی۔ اس سے نہ صرف کیسز کے حل کی شرح بڑھے گی بلکہ مجرموں تک پہنچنے میں بھی آسانی ہوگی۔

پنجاب پولیس اور این سی سی آئی اے کے مابین اس تعاون کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف وفاقی اداروں میں صوبائی پولیس کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں تاکہ قومی سطح پر سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔

امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی تمام 300 افسران و اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد این سی سی آئی اے اپنی مکمل آپریشنل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو جائے گی۔

یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مستعد ادارہ تشکیل دینا ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں