نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے اپنے دائرہ کار میں توسیع اور تفتیشی عمل کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پنجاب پولیس سے 300 افسران اور اہلکار ڈیپوٹیشن پر طلب کر لیے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد ایجنسی میں درپیش عملے کی کمی کو پورا کرنا ہے تاکہ سائبر کرائم سے متعلق مقدمات کی تفتیش اور دیگر امور کو بروقت نمٹایا جا سکے۔ یہ فیصلہ ڈی جی این سی سی آئی اے کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں آئی جی پنجاب کو باضابطہ مراسلہ ارسال کر دیا گیا ہے جس میں مختلف رینکس کے افسران کی خدمات مانگی گئی ہیں۔ ان میں 30 ڈی ایس پیز، 30 انسپکٹرز، 115 سب انسپکٹرز، 25 اے ایس آئیز اور 100 ہیڈ کانسٹیبلز و کانسٹیبلز شامل ہیں۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق پنجاب پولیس کی جانب سے ابتدائی طور پر 107 افسران و اہلکاروں کی ناموں پر مشتمل فہرست این سی سی آئی اے کو فراہم کر دی گئی ہے، جبکہ مزید 193 افراد کی فراہمی کے لیے عمل جاری ہے۔
ڈیپوٹیشن پر تعیناتی کے لیے مرد و خواتین دونوں افسران و اہلکار اہل قرار دیے گئے ہیں۔ تاہم اس کے لیے کچھ بنیادی شرائط و ضوابط کا تعین کیا گیا ہے تاکہ ایجنسی کے معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
امیدواروں کے لیے ضروری ہے کہ ان کی عمر 48 سال سے کم ہو اور وہ جسمانی طور پر مکمل فٹ ہوں۔ تعلیمی قابلیت کے حوالے سے کم از کم بی اے یا آئی سی ایس کی ڈگری ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔
مراسلے میں شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے واضح کیا گیا ہے کہ صرف ایماندار اور اے گریڈ سروس ریکارڈ کے حامل افسران کو ہی تعیناتی کے لیے زیر غور لایا جائے گا۔ یہ ایک اہم شرط ہے تاکہ تفتیشی عمل کو غیر متنازع بنایا جا سکے۔
جن افسران یا اہلکاروں کے خلاف کسی قسم کی سنگین سزائیں موجود ہیں یا وہ کسی جاری انکوائری کا سامنا کر رہے ہیں، انہیں اس تعیناتی کے لیے اہل نہیں سمجھا جائے گا۔ ایجنسی کا مقصد بہترین افرادی قوت کا انتخاب کرنا ہے۔
سائبر کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کے پیش نظر این سی سی آئی اے کی استعداد کار بڑھانا ناگزیر ہو چکا تھا۔ پنجاب پولیس سے ملنے والی یہ نفری ایجنسی کو جدید خطوط پر استوار کرنے میں مددگار ثابت ہوگی۔
حکام کا ماننا ہے کہ تجربہ کار پولیس افسران کی شمولیت سے سائبر کرائم کے پیچیدہ مقدمات کی تفتیش میں تیزی آئے گی۔ اس سے نہ صرف کیسز کے حل کی شرح بڑھے گی بلکہ مجرموں تک پہنچنے میں بھی آسانی ہوگی۔
پنجاب پولیس اور این سی سی آئی اے کے مابین اس تعاون کو اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل بھی مختلف وفاقی اداروں میں صوبائی پولیس کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں تاکہ قومی سطح پر سیکیورٹی کو یقینی بنایا جا سکے۔
امید کی جا رہی ہے کہ جلد ہی تمام 300 افسران و اہلکاروں کی تعیناتی کا عمل مکمل کر لیا جائے گا، جس کے بعد این سی سی آئی اے اپنی مکمل آپریشنل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کے قابل ہو جائے گی۔
یہ اقدام وفاقی حکومت کی جانب سے سائبر سیکیورٹی کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کا حصہ ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل دور کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط اور مستعد ادارہ تشکیل دینا ہے۔





اپنی رائے دیں