پاکستان اور سوڈان نے سیکیورٹی، انسدادِ دہشت گردی اور ادارہ جاتی تعاون کے شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس عزم کا اظہار سوڈان کے وزیرِ داخلہ لیفٹیننٹ جنرل بابیکر سمرا مصطفیٰ علی کے دورہ پاکستان کے دوران کیا گیا۔
سوڈانی وزیرِ داخلہ نے راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف آف آرمی اسٹاف جنرل سید عاصم منیر سے ملاقات کی۔ آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی و عالمی سیکیورٹی کی صورتحال اور تعاون بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے سوڈان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا اور مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے قریبی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔ سوڈانی وزیر نے علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات کا اعتراف کیا۔
اس سے قبل سوڈانی وزیرِ داخلہ نے نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے دفترِ خارجہ میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان سوڈان کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری بھی اس ملاقات میں موجود تھے۔ سوڈانی وزیرِ داخلہ نے مشکل وقت میں پاکستان کی جانب سے فراہم کردہ طبی اور انسانی امداد پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔
ایک روز قبل سوڈانی وزیرِ داخلہ نے وزیراعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات کی تھی۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان سوڈان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، دفاع اور تعلیم سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کا خواہشمند ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس امید کا اظہار کیا کہ سوڈان موجودہ بحران سے نکل کر ایک پرامن اور مستحکم ملک کے طور پر ابھرے گا۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ، او آئی سی، جی-77 اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر سوڈان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سوڈانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان کی جانب سے ملنے والی گرم جوشی اور مہمان نوازی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سوڈان میں امن و امان کی بحالی کے لیے پاکستان کی سفارتی حمایت اور ثالثی کے کردار کی بھی تعریف کی۔



اپنی رائے دیں