پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے دنیا بھر کی پرائیویٹ کرکٹ لیگز میں شرکت کے خواہشمند قومی کھلاڑیوں کے لیے نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ (این او سی) جاری کرنے کی پالیسی میں ترمیم کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
کرکٹ بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اس نئی پالیسی کا بنیادی مقصد انتظامی امور کو بہتر بنانا اور قومی ٹیم کے لیے کھلاڑیوں کی دستیابی کو پہلی ترجیح بنانا ہے۔
نئے فریم ورک کے تحت قومی کرکٹرز کو غیر ملکی فرنچائز ٹورنامنٹس میں حصہ لینے کی اجازت حاصل کرنے کے لیے طے شدہ وقت کی سختی سے پابندی کرنا ہوگی۔
پی سی بی کے مطابق کسی بھی کھلاڑی کی این او سی درخواست کا جائزہ اس کے سینٹرل کنٹریکٹ کی نوعیت اور آنے والے بین الاقوامی کرکٹ شیڈول کی روشنی میں لیا جائے گا۔
بورڈ نے وضاحت کی ہے کہ ان اقدامات کا مقصد کھلاڑیوں کے جسمانی ورک لوڈ کو بہتر طریقے سے سنبھالنا اور ان کی فٹنس کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔
عالمی سطح پر مختلف لیگز میں مسلسل شرکت کے باعث کھلاڑیوں کی تھکاوٹ اور ان کے زخمی ہونے کے خدشات کو کم کرنے کے لیے یہ ضوابط لاگو کیے گئے ہیں۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ کرکٹ کے تیزی سے پھیلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں تمام کرکٹرز کے لیے ایک یکساں اور شفاف معیار برقرار رکھا جائے گا۔
بورڈ کے مطابق ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میچز میں بہترین قومی کھلاڑیوں کی دستیابی کو ہر صورت ترجیح دی جائے گی۔
کرکٹ بورڈ آئندہ دنوں میں این او سی کی درخواست کے طریقہ کار اور منظوری کے لیے مقرر کردہ تفصیلی معیار سے کھلاڑیوں کو باضابطہ طور پر آگاہ کرے گا۔
اس کے ساتھ ہی پی سی بی کھلاڑیوں کی پیش رفت اور بین الاقوامی سطح پر کارکردگی پر ان نئے ضوابط کے اثرات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتا رہے گا۔
پاکستان کرکٹ بورڈ ملکی کرکٹ کے مفادات اور بین الاقوامی مواقع کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے اس فریم ورک کے تحت عمل درآمد جاری رکھے گا۔



اپنی رائے دیں