کراچی کے علاقے کورنگی سو کوارٹر میں شادی کی خوشی میں کی جانے والی ہوائی فائرنگ کے نتیجے میں ایک 9 سالہ بچہ جاں بحق ہو گیا۔ یہ افسوسناک واقعہ اس وقت پیش آیا جب علاقے سے ایک بارات گزر رہی تھی اور فائرنگ کے دوران ایک گولی گھر کی چھت پر سوئے ہوئے معصوم بچے کو جا لگی۔
ایس ایچ او زمان ٹاؤن عدنان بخاری نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ کورنگی سو کوارٹر 51 سی کے قریب سے ایک بارات شادی ہال کی جانب جا رہی تھی۔ اسی دوران بارات میں شامل افراد کی جانب سے کی گئی ہوائی فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
متاثرہ بچہ جس کی شناخت از ان کے نام سے ہوئی ہے، اپنے گھر کی چھت پر سو رہا تھا۔ فائرنگ کے نتیجے میں ایک گولی براہ راست بچے کے سینے پر لگی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا۔
واقعے کے فوراً بعد اہل خانہ نے زخمی بچے کو تشویشناک حالت میں جناح ہسپتال منتقل کرنے کی کوشش کی، تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔
پولیس نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے فوری طور پر کارروائی کا آغاز کیا اور علاقے سے گزرنے والی بارات کا سراغ لگا لیا۔ حکام کے مطابق کوسٹ گارڈ چورنگی پر واقع ایک شادی ہال سے دولہا کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایس ایچ او زمان ٹاؤن کے مطابق پولیس ٹیم نے موقع پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور بارات میں شامل افراد سے پوچھ گچھ شروع کر دی۔ دولہا کی گرفتاری کے بعد اب پولیس فائرنگ کرنے والے اصل ملزمان کی تلاش میں مصروف ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ فائرنگ کرنے والے دیگر افراد کی شناخت کے لیے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ اس سلسلے میں شادی ہال کے عملے اور باراتیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
کراچی میں ہوائی فائرنگ کے واقعات ایک سنگین مسئلہ بن چکے ہیں جس سے آئے روز قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ شہری انتظامیہ کی جانب سے بارہا تنبیہ کے باوجود شادی کی تقریبات میں اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ کا سلسلہ نہیں رک سکا۔
اس سے قبل بھی شہر کے مختلف علاقوں میں اندھی گولیوں کا شکار ہو کر کئی شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ اکتوبر کے مہینے میں کراچی میں اندھی گولیاں لگنے سے 43 شہری زخمی ہوئے تھے، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
پولیس نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ ملوث ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے اور معصوم شہریوں کی زندگیوں سے کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
واقعے کے بعد علاقے میں سوگ کی فضا قائم ہے اور اہل خانہ کی جانب سے انصاف کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ پولیس تفتیش مکمل ہونے کے بعد مزید قانونی کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔
شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ شادی کی تقریبات میں اسلحہ لانے اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف سخت ترین سزائیں دی جائیں تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا سدِباب ممکن ہو سکے۔


اپنی رائے دیں