معروف سینئر اداکارہ حنا خواجہ بیات نے انکشاف کیا ہے کہ معاشرے میں مکمل پردہ یا حجاب کرنے والی خواتین کو دیگر خواتین کی نسبت زیادہ ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران کہی۔
حنا خواجہ بیات، جو اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل پر مدلل گفتگو کرنے کے لیے بھی جانی جاتی ہیں، نے اس حوالے سے اپنے ایک ذاتی سماجی تجربے کا تذکرہ کیا۔
اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے یہ جاننے کے لیے کہ معاشرہ مختلف لباس پہننے والی خواتین کے ساتھ کیسا رویہ رکھتا ہے، ایک تجربہ کیا جس میں دو لڑکیوں کو مختلف حلیوں میں ایک بازار سے گزارا گیا۔
تجربے کے پہلے مرحلے میں ان لڑکیوں کو عام دیسی لباس میں بازار سے گزارا گیا، جس کے دوران لوگوں نے انہیں دیکھا تو سہی لیکن کسی نے کوئی نامناسب حرکت نہیں کی۔
حنا بیات کے مطابق، دوسرے مرحلے میں انہی لڑکیوں کو دوپٹہ اوڑھ کر بازار بھیجا گیا، جہاں انہیں کچھ لوگوں کی جانب سے نامناسب رویے اور چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنا پڑا۔
تجربے کا تیسرا اور حیران کن مرحلہ تب سامنے آیا جب وہی لڑکیاں مکمل حجاب میں بازار گئیں، جہاں انہیں مزید تنگ کیا گیا۔
اداکارہ نے اپنے مشاہدے کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجربہ ان کے لیے بھی انتہائی حیران کن تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض مرد شاید یہ سمجھتے ہیں کہ مکمل پردے میں موجود خاتون خود کا دفاع کرنے سے قاصر ہوگی، اسی لیے وہ انہیں زیادہ ہراساں کرتے ہیں۔
حنا بیات نے مزید کہا کہ اس کے برعکس، سادہ اور باوقار لباس میں پراعتماد نظر آنے والی خواتین کو مرد زیادہ مضبوط تصور کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ انہیں تنگ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔
اداکارہ کے اس بیان کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی آراء من قسم ہیں۔
ایک جانب کچھ صارفین نے ان کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پردے کا حکم اللہ کی جانب سے ہے۔
دوسری جانب، کئی صارفین نے اداکارہ کے تجربے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ ہراسانی کے واقعات میں خواتین کا اعتماد ایک اہم پہلو ہوتا ہے۔
کچھ سوشل میڈیا صارفین نے اپنے ذاتی تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے حنا بیات کی بات کی تائید کی اور معاشرتی رویوں میں بہتری لانے پر زور دیا۔
حنا بیات نے اپنے کیریئر کا آغاز بطور میزبان کیا تھا اور وہ ماضی میں بھی سماجی مسائل کو اجاگر کرنے والے مختلف پروگراموں کا حصہ رہی ہیں۔
اداکارہ کے اس بیان نے ایک بار پھر عوامی حلقوں میں خواتین کے تحفظ اور معاشرتی رویوں پر بحث کو تازہ کر دیا ہے۔



اپنی رائے دیں