ایران اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں مگر کسی بھی معاہدے تک پہنچنا تاحال فریقین کے لیے ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
ایک سینیئر ایرانی عہدیدار نے منگل کے روز برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے اس صورتحال کی تصدیق کی ہے۔
عہدیدار کے مطابق دونوں ممالک کے مابین جنگ کے خاتمے کے لیے فی الحال کوئی حتمی اور قابلِ عمل معاہدہ طے نہیں پا سکا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے اس ماحول میں خلیجی ریاست قطر نے فریقین کے درمیان پائے جانے والے فاصلوں کو مٹانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
قطری ثالثی کا مقصد امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے میں کسی بھی ممکنہ نئی کشیدگی اور محاذ آرائی کو روکنا ہے۔
سفارتی سرگرمیوں کے متوازی طور پر گزشتہ شب امریکی فورسز نے ایران کے جزیرے قشم کو اپنے فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔
ان کارروائیوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ایک امریکی عہدیدار نے انہیں دفاعی نوعیت کا اقدام قرار دیا ہے۔
امریکی حکام کے مطابق قشم جزیرے پر کیے جانے والے ان حملوں کا بنیادی ہدف زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل تھے۔
یہ میزائل مبینہ طور پر خطے میں موجود امریکی اثاثوں اور تنصیبات کے خلاف استعمال کیے جا رہے تھے جنہیں نشانہ بنایا گیا۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے اس معاملے پر مزید وضاحت دیتے ہوئے بتایا ہے کہ یہ فضائی حملے دائرہ کار میں محدود تھے۔
دوسرے عہدیدار کا کہنا تھا کہ ان حملوں سے ہرگز یہ اشارہ نہیں ملتا کہ امریکہ خطے میں کسی بڑی فوجی یلغار کا ارادہ رکھتا ہے۔
خطے میں امن کے قیام کے لیے قطری سفارت کار دونوں فریقوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
مفاہمت کی ان کوششوں کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود خلیج کو کم کرنا اور سفارتی ڈیڈ لاک کو توڑنا ہے۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال میں اہم تبدیلیاں دیکھنے میں آ رہی ہیں۔
عالمی طاقتیں بھی مشرق وسطیٰ میں جاری اس محاذ آرائی کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔
جزیرہ قشم پر ہونے والے ان حالیہ حملوں کے بعد فریقین کے مابین تناؤ میں اضافے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں۔
تاہم دونوں اطراف سے سفارتی رابطوں کو بھی تاحال مکمل طور پر منقطع نہیں کیا گیا ہے۔
خطے میں امن و امان کی بحالی کے لیے بین الاقوامی سطح پر مختلف تجاویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔


اپنی رائے دیں