لاہور کے علاقے کوٹ لکھپت میں ایک شادی شدہ خاتون کو نوکری کا جھانسہ دے کر زیادتی کا نشانہ بنائے جانے کا دلخراش واقعہ پیش آیا ہے۔ پولیس نے اس گھناؤنے جرم میں فوری طور پر کارروائی کرتے ہوئے ایک مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ تھانے میں مقدمہ درج کر لیا گیا تھا۔ ایس پی ماڈل ٹاؤن نے اس افسوسناک واقعے کی تفصیلات میڈیا اور عوام کے ساتھ شیئر کی ہیں۔
ابتدائی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ متاثرہ خاتون کو ملزمان نے ملازمت کا جھانسا دے کر اپنے جال میں پھنسایا تھا۔ خواتین کا استحصال کرنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملزم ذیشان نے خاتون کو کام دلوانے کا بہانہ بنایا تھا۔ اس مقصد کے لیے ملزم نے خاتون کو چنگی اسٹاپ پر ملاقات کے لیے بلایا تھا۔
چنگی اسٹاپ پر ملنے کے بعد ملزم نے خاتون کو فیکٹری میں نوکری کی پیشکش کی آڑ میں مختلف مقامات پر گھمایا۔ کام کے بہانے گھمانے کا مقصد خاتون کو اعتماد میں لینا اور اسے غیر محفوظ جگہ پر لے جانا تھا۔
اس کے بعد ملزم نے خاتون کو مزید بہلایا پھسلایا اور ورغلایا۔ ورغلا کر ملزم خاتون کو غلام بھٹی کالونی میں لے گیا۔
غلام بھٹی کالونی میں یہ ملزم خاتون کو اپنے ایک اور ساتھی کے گھر لے گیا۔ اس گھر میں ملزمان نے اپنے مذموم عزائم کو عملی جامعہ پہنایا۔
ایس پی ماڈل ٹاؤن کے مطابق ملزم وسیم اور اس کے ساتھی ذیشان نے مل کر خاتون کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ یہ تمام گھناؤنا فعل مذکورہ گھر کے اندر انجام دیا گیا۔
واردات کو مکمل کرنے کے بعد ملزمان نے متاثرہ خاتون کو سڑک پر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ ملزمان نے خاتون کو ٹھوکر نیاز بیگ کے مقام پر لاوارث حالت میں چھوڑ دیا۔
ٹھوکر نیاز بیگ پر خاتون کو چھوڑنے کے بعد دونوں ملزمان موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ پولیس نے اطلاع ملنے پر فوری طور پر ٹیمیں تشکیل دے کر تفتیش کا دائرہ وسیع کیا۔
پولیس کی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس واقعے میں ملوث ملزم وسیم کو دبوچ لیا ہے۔ گرفتار ملزم کو مزید تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دوسرے مفرور ملزم ذیشان کی گرفتاری کے لیے مسلسل چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ مفرور ملزم کو جلد ہی قانون کی گرفت میں لایا جائے گا۔
پولیس حکام نے اپنے بیان میں مزید واضح کیا ہے کہ خواتین کا استحصال کرنے والے کسی بھی قسم کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ اس نوعیت کے سنگین جرائم میں ملوث تمام ملزمان کو قرار واقع سزا دلوائی جائے گی۔

اپنی رائے دیں