وزیراعظم شہباز شریف سے صدر آزاد جموں و کشمیر نے اسلام آباد میں ملاقات کی جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور خطے میں جاری ترقیاتی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران باہمی دلچسپی کے امور بھی زیر بحث آئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے کشمیری عوام کی حق خودارادیت کے حصول کے لیے جاری منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا ایک بار پھر اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے۔
وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنے تک کشمیری عوام کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت ہر صورت جاری رکھے گا۔
شہباز شریف نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی عمل کو مزید تیز کرنے اور وہاں کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور اس سلسلے میں تمام تر وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ مقامی آبادی کو صحت، تعلیم اور بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔
ملاقات میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ خان بھی موجود تھے۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور پاکستان عالمی فورمز پر ان کا مقدمہ بھرپور انداز میں لڑتا رہے گا۔
صدر آزاد کشمیر نے کشمیری عوام کے لیے پاکستان کی مسلسل حمایت اور یکجہتی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی جانب سے ملنے والی سفارتی حمایت کشمیریوں کے حوصلے بلند رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہے اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی ضمانت دے سکتا ہے۔
وزیراعظم نے ہدایت کی کہ آزاد کشمیر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو سکے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو اس ضمن میں خصوصی اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ملاقات کے دوران مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ وزیراعظم نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا نوٹس لے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق دلوانے میں کردار ادا کرے۔
پاکستان کا موقف رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ وفاقی حکومت اس حوالے سے اپنی خارجہ پالیسی میں کشمیر کاز کو ہمیشہ سرفہرست رکھتی ہے اور ہر عالمی فورم پر اس کا اعادہ کرتی ہے۔
آزاد کشمیر کے صدر نے وزیراعظم کو مقبوضہ وادی کی تازہ ترین صورتحال سے آگاہ کیا اور کہا کہ کشمیری عوام پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں۔ پاکستان کی حمایت ان کے لیے ایک مضبوط سہارا ہے۔
ملاقات کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں باہمی مشاورت سے کشمیریوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حق خودارادیت کے حصول کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں گی۔





اپنی رائے دیں