ترکی کی حالیہ خارجہ اور سکیورٹی پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی مشرقِ وسطیٰ کے اہم ممالک کے ساتھ مختلف اتحادوں اور تعاون کے نظاموں کا قیام ہے۔ انقرہ اپنی اس پالیسی کو ’علاقائی ملکیت‘ کا نام دیتا ہے، جس کا مقصد خطے کے مسائل کا حل مقامی سطح پر تلاش کرنا ہے۔
اس حکمتِ عملی کے تحت ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر ’مکہ اتحاد‘ قائم کیا ہے، جبکہ قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے ساتھ ’بدر‘ اتحاد کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد خطے میں ایک مربوط سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینا ہے۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کے مطابق، جب بیرونی طاقتیں خطے کے معاملات میں مداخلت کرتی ہیں تو عدم استحکام بڑھتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے کے ممالک کو اپنی سلامتی، اقتصادی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے کے لیے منظم ادارہ جاتی ڈھانچوں کی ضرورت ہے۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر 7 اگست کو دستخط کیے گئے، جس میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب شامل ہیں۔ اس معاہدے کی اہم شق کے مطابق، کسی ایک رکن ملک پر بیرونی مسلح حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مماثلت رکھتا ہے۔
ترکی کی وزارتِ دفاع کے مطابق، مکہ اتحاد کا مقصد کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ اجتماعی دفاع اور بازدار قوت کو مضبوط بنانا ہے۔ ترک پارلیمان سے منظوری کے بعد اس معاہدے کے تحت عملی فوجی تعاون کا دائرہ کار مزید وسیع ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب، 21 اکتوبر کو دوحہ میں ترکی، قطر، پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان ’بدر‘ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ اس کا بنیادی مقصد دفاعی صنعت میں مشترکہ منصوبوں، تحقیق و ترقی، بنیادی ڈھانچے اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔
بدر اتحاد میں شامل ممالک ترکی کے پہلے مقامی جنگی طیارے ’کان‘ منصوبے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ یہ مفاہمت رکن ممالک کے درمیان طویل المدت اور پائیدار تزویراتی شراکت داری قائم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
ترکی کی وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق، ’آر 4‘ (ترکی، مصر، پاکستان، سعودی عرب) گروپ بھی علاقائی مسائل پر مکالمے کے لیے ایک اہم فورم بن چکا ہے۔ اس گروپ کے وزرائے خارجہ اب تک چھ مرتبہ ملاقاتیں کر چکے ہیں۔
استنبول میں آر 4 اور یورپی ممالک کے ’ای 3‘ گروپ کے وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ اس کا مقصد مشرقِ وسطیٰ اور یورپ سے متعلق اہم امور پر ہم آہنگی پیدا کرنا اور علاقائی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ دفاعی معاہدے مکمل طور پر نافذ ہو جاتے ہیں تو مکہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا اجتماعی دفاعی ڈھانچہ ابھرے گا، جس میں ترکی، پاکستان اور سعودی عرب مرکزی کردار ادا کریں گے۔
ترکی اپنی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی دفاعی صنعت کے لیے نئی منڈیاں تلاش کر رہا ہے۔ مکہ اور بدر اتحاد کے ذریعے انقرہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ عسکری سازوسامان کی مشترکہ پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کو فروغ دینے کا خواہاں ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی اس اتحاد کے بارے میں مثبت رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ تاہم، یہ دیکھنا باقی ہے کہ مستقبل میں یہ اتحاد خطے میں درپیش سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کس حد تک عملی اقدامات اٹھانے میں کامیاب ہوتا ہے۔
مجموعی طور پر، ترکی کی یہ نئی خارجہ پالیسی مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے توازنِ طاقت کی عکاس ہے۔ پاکستان کے لیے یہ اتحاد نہ صرف دفاعی اعتبار سے اہم ہے بلکہ یہ علاقائی ممالک کے ساتھ اقتصادی اور تزویراتی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔




اپنی رائے دیں