مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:57
بریکنگ
ایران کا کسی بھی جارحیت کی صورت میں زیرِ سمندر کیبلز کو نشانہ بنانے کا انتباہاردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہمشرقِ وسطیٰ میں نئی سکیورٹی ساخت: ترکی، پاکستان اور سعودی عرب کا مکہ اتحادبرفانی چیتے کا تحفظ قومی ذمہ داری ہے: عطا تارڑآر فور ممالک کا اجلاس، سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کا اعادہدانتوں کی صحت: صرف برش کرنا کافی نہیں، متوازن غذا کا انتخاب بھی ناگزیربولیویا میں مالک کی وفاداری میں برسوں سے اسپتال کے باہر بیٹھا مرغاپاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فلو ویکسین کی عدم دستیابی کا معاملہسعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ کے چیئرمین مقررپریانکا چوپڑا نے سیف علی خان کی نئی فلم سے کنارہ کشی اختیار کر لیپاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیرکراچی میں گدھوں کی آڑ میں چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکامفرانس میں ہنگاموں کے باعث پیرس سینٹ جرمین اور لیون کا میچ ملتویمصنوعی ذہانت کا کمال: جنوبی افریقی مصنفہ نے 20 ماہ میں 371 کتابیں لکھ ڈالیںنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقاتپروفیسر محمود الحق حقانی انتقال کر گئے، نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی
کاروبار

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیر

ملکی معیشت کی مضبوطی کیلئے ٹیکسٹائل کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیر

پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی برآمدات ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ محض خام مال یا دھاگے کی برآمد کافی نہیں، بلکہ برآمدات کی اصل قوت جانچنے کیلئے مصنوعات میں مقامی سطح پر شامل کی جانے والی قدر یعنی ویلیو ایڈیشن کو بڑھانا ہوگا۔

عالمی منڈی میں اب مقابلہ صرف سستی پیداوار کا نہیں بلکہ معیار، ڈیزائن اور بروقت ترسیل کا ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور بہتر مارکیٹنگ کے بغیر ہم اپنی پیداواری صلاحیت کا مکمل فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

صنعتی ماہرین کے مطابق، کپاس سے تیار ہونے والے مختلف درجوں کے سامان کی قیمت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اگر پاکستان جدید مشینری، بہتر ڈیزائننگ اور عالمی برانڈنگ پر توجہ مرکوز کرے تو کم مقدار میں بھی زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے صنعتی تحقیق اور تربیت یافتہ افرادی قوت کا کردار کلیدی ہے۔

برآمدات میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، ہڑتالیں اور ترسیلی نظام میں خامیاں اکثر آرڈرز کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہ مسائل عالمی خریداروں کا اعتماد مجروح کرتے ہیں، جس سے پاکستان کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ دور میں خریدار ماحول دوست پیداوار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مصنوعات کی فراہمی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر پیداواری لاگت بڑھ جائے تو صنعتکار کے لیے منافع برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں خریدار اضافی قیمت ادا کرنے کے بجائے دیگر ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل صنعت کیلئے ایک طویل مدتی اور ناقابل تبدیل پالیسی تشکیل دے، جس میں صنعتکاروں، کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے نمائندے شامل ہوں۔ ایسی پالیسی کا مقصد پیداواری لاگت کو کم کرنا اور برآمد کنندگان کو آسان مالیاتی سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

چھوٹے کاروباری اداروں کو جدید مشینری اور توانائی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے مالی معاونت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، بینکاری نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ ادائیگیوں میں تاخیر اور ورکنگ کیپیٹل کے مسائل حل ہو سکیں۔

صنعتی پالیسی میں مزدوروں کے تحفظ، مناسب اجرت اور پیشہ ورانہ تربیت کو لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ صنعت اور مزدور کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہو۔ جب تک مزدوروں کی فلاح اور پیداواری عمل میں بہتری نہیں آئے گی، تب تک پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 5 ارب ڈالر سے زائد کا حجم خوش آئند ہے، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 249 ملین ڈالر زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے لیکن اسے حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کو بنگلا دیش، ویتنام اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کی مثالوں سے سیکھنا ہوگا، جنہوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد پر توجہ مرکوز کر کے اپنی معیشت کو مستحکم کیا۔ ان ممالک کی کامیابی کا راز جدید ٹیکنالوجی اور بروقت ترسیل کی صلاحیت میں مضمر ہے۔

حکومت کو ٹیکسٹائل صنعت کی ترقی کیلئے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ مصنوعات کی قدر میں اضافے کے بغیر زیادہ ڈالر کمانا ناممکن ہے، اور یہی راستہ پاکستان کو معاشی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

ٹیکسٹائل کی صنعت میں توانائی کی مناسب قیمتیں اور بجلی و گیس کی مستقل فراہمی بنیادی ضرورت ہے۔ موثر ٹرانسپورٹ اور آسان ٹیکس نظام کے بغیر صنعتکار عالمی منڈی میں مقابلہ نہیں کر سکتے، لہذا ان سہولیات کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے۔

آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ اس کا براہ راست تعلق روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی سے ہے۔ ایک مستحکم صنعتی پالیسی ہی ملک کو معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

کاروبار کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں