مواد پر جائیں
ہفتہ 26، جمادی الاول 1448ھ 7، نومبر 2026ء آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
انڈر 19 ایشیا کپ: عثمان خان کی شاندار سنچری، پاکستان کی متحدہ عرب امارات کے خلاف فتحترک پارلیمنٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دیاپ ڈیٹ: سمندر میں تیل و گیس کی تلاش: ترک سیسمک جہاز کی کراچی آمد کے انتظامات مکملپاکستان کا بیرونی قرض 10 برس میں دگنا ہو کر 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیاکراچی میں 350 مشتبہ کال سینٹرز جعل سازی میں ملوث، سائبر کرائم ایجنسی کا انکشافاسلام آباد میں تین روزہ پاکستان ٹورازم، سپورٹس اینڈ فیملی فیسٹیول کا آغازامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا عہدے پر برقرار رہنے کا عزم، ایران جنگ کا دفاعوزیراعظم مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتے ہیں، سیاسی مخالفت نہیں چاہتے: رانا ثنا اللہامریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج: 2028 کے صدارتی مقابلے کی ہلچل شروعمیگھن مارکل کے والد تھامس مارکل بچوں کی نازیبا ویڈیوز رکھنے کے الزام میں گرفتارنیو انگلینڈ پیٹریٹس کے رننگ بیک ٹریویون ہینڈرسن نیورولوجیکل مسائل کے باعث ٹیم سے باہرخیبر پختونخوا میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا فیصلہچین کی ترقی پذیر ممالک میں کلین ٹیکنالوجی کے لیے 132 ارب ڈالر کی سرمایہ کاریامریکہ میں اکتوبر کے دوران ملازمتوں میں توقع سے زیادہ اضافہٹیسلا کا سائبر ٹرک کی پیداوار بند کرنے کا اعلان، توجہ سائبر کیب پر مرکوزبرطانوی کامیڈین رسل برینڈ کو مزید الزامات کا سامنا کرنے کا خدشہخلیج میں آئل ٹینکر پر مبینہ میزائل حملہ، ایک ملاح ہلاکیورپی یونین نے ٹک ٹاک پر نقصان دہ الگورتھم کے الزامات عائد کر دیےانگلش رگبی ٹیم کے فلائی ہاف فن اسمتھ آسٹریلیا کے خلاف میچ کے لیے فٹبرطانیہ میں بچوں کے لیے اسنیپ چیٹ کا فرینڈ فائنڈر فیچر معطل
کاروبار

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیر

ملکی معیشت کی مضبوطی کیلئے ٹیکسٹائل کے شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور ویلیو ایڈیشن کے ذریعے عالمی منڈی میں مسابقت بڑھانے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیرتصویر: ایکسپریس

پاکستان کی معیشت میں ٹیکسٹائل کا شعبہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی برآمدات ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا اہم ذریعہ ہیں۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ محض خام مال یا دھاگے کی برآمد کافی نہیں، بلکہ برآمدات کی اصل قوت جانچنے کیلئے مصنوعات میں مقامی سطح پر شامل کی جانے والی قدر یعنی ویلیو ایڈیشن کو بڑھانا ہوگا۔

عالمی منڈی میں اب مقابلہ صرف سستی پیداوار کا نہیں بلکہ معیار، ڈیزائن اور بروقت ترسیل کا ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات عالمی سطح پر اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہیں، لیکن جدید ٹیکنالوجی اور بہتر مارکیٹنگ کے بغیر ہم اپنی پیداواری صلاحیت کا مکمل فائدہ اٹھانے سے قاصر ہیں۔

صنعتی ماہرین کے مطابق، کپاس سے تیار ہونے والے مختلف درجوں کے سامان کی قیمت میں بہت فرق ہوتا ہے۔ اگر پاکستان جدید مشینری، بہتر ڈیزائننگ اور عالمی برانڈنگ پر توجہ مرکوز کرے تو کم مقدار میں بھی زیادہ زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے۔ اس کیلئے صنعتی تحقیق اور تربیت یافتہ افرادی قوت کا کردار کلیدی ہے۔

برآمدات میں حائل رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کی لوڈ شیڈنگ، ہڑتالیں اور ترسیلی نظام میں خامیاں اکثر آرڈرز کی بروقت تکمیل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ یہ مسائل عالمی خریداروں کا اعتماد مجروح کرتے ہیں، جس سے پاکستان کو معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ دور میں خریدار ماحول دوست پیداوار اور بین الاقوامی معیار کے مطابق مصنوعات کی فراہمی کو ترجیح دیتے ہیں۔ اگر پیداواری لاگت بڑھ جائے تو صنعت کار کے لیے منافع برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں خریدار اضافی قیمت ادا کرنے کے بجائے دیگر ممالک کا رخ کر لیتے ہیں۔

حکومت کو چاہیے کہ ٹیکسٹائل صنعت کیلئے ایک طویل مدتی اور ناقابل تبدیل پالیسی تشکیل دے، جس میں صنعتکاروں، کاشتکاروں اور برآمد کنندگان کے نمائندے شامل ہوں۔ ایسی پالیسی کا مقصد پیداواری لاگت کو کم کرنا اور برآمد کنندگان کو آسان مالیاتی سہولیات فراہم کرنا ہونا چاہیے۔

چھوٹے کاروباری اداروں کو جدید مشینری اور توانائی کی بچت کرنے والی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے مالی معاونت فراہم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، بینکاری نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ ادائیگیوں میں تاخیر اور ورکنگ کیپیٹل کے مسائل حل ہو سکیں۔

صنعتی پالیسی میں مزدوروں کے تحفظ، مناسب اجرت اور پیشہ ورانہ تربیت کو لازمی حصہ بنانا چاہیے تاکہ صنعت اور مزدور کے مفادات میں ہم آہنگی پیدا ہو۔ جب تک مزدوروں کی فلاح اور پیداواری عمل میں بہتری نہیں آئے گی، تب تک پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔

رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ٹیکسٹائل برآمدات میں 5 ارب ڈالر سے زائد کا حجم خوش آئند ہے، جو گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 249 ملین ڈالر زیادہ ہے۔ یہ اضافہ ایک مثبت اشارہ ہے لیکن اسے حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان کو بنگلا دیش، ویتنام اور تھائی لینڈ جیسے ممالک کی مثالوں سے سیکھنا ہوگا، جنہوں نے ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمد پر توجہ مرکوز کر کے اپنی معیشت کو مستحکم کیا۔ ان ممالک کی کامیابی کا راز جدید ٹیکنالوجی اور بروقت ترسیل کی صلاحیت میں مضمر ہے۔

حکومت کو ٹیکسٹائل صنعت کی ترقی کیلئے فوری اقدامات اٹھانے ہوں گے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید اضافہ کیا جا سکے۔ مصنوعات کی قدر میں اضافے کے بغیر زیادہ ڈالر کمانا ناممکن ہے، اور یہی راستہ پاکستان کو معاشی استحکام کی طرف لے جا سکتا ہے۔

آخر میں، یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، بلکہ اس کا براہ راست تعلق روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور غربت میں کمی سے ہے۔ ایک مستحکم صنعتی پالیسی ہی ملک کو معاشی بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

کاروبار کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں