مواد پر جائیں
ہفتہ، 24 اکتوبر 2026 13 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 3:18
بریکنگ
اردن کے علاقے کرک میں چرچ پر حملہ، جنازے کے دوران فائرنگ سے 7 افراد جاں بحقلاہور: مزنگ میں طالبہ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار، مقدمہ درجماسکو: ڈرون حملوں کے خطرے کے باعث فضائی آپریشن متاثر، پابندیاں ختمحکومت نے پیٹرول کی قیمت برقرار، ڈیزل مہنگا کر دیاملتان: شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے زیادتی کا واقعہگوادر میں دہشت گردی کی بڑی کوشش ناکام، خاتون سمیت 10 دہشت گرد ہلاکدانتوں کی صحت: صرف برش کرنا کافی نہیں، متوازن غذا کا انتخاب بھی ناگزیربولیویا میں مالک کی وفاداری میں برسوں سے اسپتال کے باہر بیٹھا مرغاپاکستان میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی فلو ویکسین کی عدم دستیابی کا معاملہسعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان جنرل اتھارٹی فار ڈیفنس ڈویلپمنٹ کے چیئرمین مقررپریانکا چوپڑا نے سیف علی خان کی نئی فلم سے کنارہ کشی اختیار کر لیپاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافے کیلئے ویلیو ایڈڈ مصنوعات پر توجہ ناگزیرکراچی میں گدھوں کی آڑ میں چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکامفرانس میں ہنگاموں کے باعث پیرس سینٹ جرمین اور لیون کا میچ ملتویمصنوعی ذہانت کا کمال: جنوبی افریقی مصنفہ نے 20 ماہ میں 371 کتابیں لکھ ڈالیںنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی ترک صدر رجب طیب اردوان سے اہم ملاقاتپروفیسر محمود الحق حقانی انتقال کر گئے، نماز جنازہ آج ادا کی جائے گیقومی اسمبلی: پارلیمانی سیکرٹری آئی ٹی فائیو جی کا مطلب بتانے میں ناکامخیبر پختونخوا میں دہشت گردی کا خاتمہ چند ماہ میں ممکن ہے، رانا ثناء اللہوزیر مملکت حذیفہ رحمان کا مولانا فضل الرحمان کے بیانات پر ردعمل
سائنس و ٹیکنالوجی

مصنوعی ذہانت کا کمال: جنوبی افریقی مصنفہ نے 20 ماہ میں 371 کتابیں لکھ ڈالیں

جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی مصنفہ نے جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے ریکارڈ وقت میں سینکڑوں کتابیں شائع کر کے عالمی سطح پر بحث چھیڑ دی۔

مصنوعی ذہانت کا کمال: جنوبی افریقی مصنفہ نے 20 ماہ میں 371 کتابیں لکھ ڈالیں

جنوبی افریقہ کی ایک مصنفہ، جو 'کورل ہارٹ' کے قلمی نام سے لکھتی ہیں، نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی مدد سے محض 20 ماہ کے قلیل عرصے میں 371 کتابیں شائع کرکے دنیا بھر میں حیرت کے ڈیرے ڈال دیے ہیں۔ یہ انوکھا کارنامہ ٹیکنالوجی اور ادب کے امتزاج پر ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔

مصنفہ کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ 14 برسوں سے اشاعتی صنعت سے وابستہ ہیں اور اے آئی کے استعمال سے قبل بھی درجنوں کتابیں تحریر کرچکی ہیں۔ انہوں نے تقریباً 20 ماہ قبل کتاب نویسی کے عمل میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا اور ایک مربوط نظام وضع کیا۔

اس نظام کو تیار کرنے میں انہیں ابتدائی تین ماہ صرف ہوئے۔ مصنفہ مختلف کاموں کے لیے الگ الگ اے آئی ماڈلز کا انتخاب کرتی ہیں۔ ان کے مطابق چیٹ جی پی ٹی مکالموں کی بہتری کے لیے موزوں ہے، جبکہ کہانی کی ساخت کے لیے کلاؤڈ جیسے ماڈلز زیادہ کارگر ثابت ہوتے ہیں۔

کورل ہارٹ نے واضح کیا کہ وہ محض ایک کمانڈ کے ذریعے کتاب نہیں لکھواتیں۔ وہ پہلے خود کہانی کا بنیادی تصور، کرداروں کی تفصیلات، اسلوب اور ابواب کا خاکہ تیار کرتی ہیں، جس کے بعد ان کا وضع کردہ نظام اس معلومات کی بنیاد پر ابتدائی مسودہ تیار کرتا ہے۔

مصنفہ کے مطابق، اے آئی سے تیار کردہ پہلا مسودہ براہِ راست اشاعت کے قابل نہیں ہوتا۔ اسے پہلے کہانی کے پلاٹ، کرداروں کے تسلسل اور دیگر تکنیکی خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایڈٹ کیا جاتا ہے، جس کے بعد ایک انسانی پروف ریڈر اس کا حتمی جائزہ لیتا ہے۔

ان کی شائع کردہ 371 کتابوں میں زیادہ تر رومانوی ناول شامل ہیں۔ مصنفہ کا دعویٰ ہے کہ وہ اب تک ڈیجیٹل، پرنٹ اور آڈیو فارمیٹ میں 10 لاکھ سے زائد کتابیں فروخت کرچکی ہیں، اور رواں برس ان کی آمدنی 10 لاکھ ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے۔

ان کی ایک کتاب ایمازون کی ٹاپ 100 بیسٹ سیلرز کی فہرست میں بھی شامل ہو چکی ہے۔ اس کامیابی کے باوجود انہیں سوشل میڈیا پر شدید تنقید اور بعض اوقات دھمکیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے، کیونکہ کچھ حلقے اے آئی کے استعمال کو ادب کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔

مصنفہ کا موقف ہے کہ کتاب کا معیار قارئین کا ردعمل طے کرتا ہے۔ ان کے مطابق اگر کتاب ناقص ہو تو قارئین اسے مسترد کر دیتے ہیں، لہٰذا کتابوں کی فروخت اس بات کا ثبوت ہے کہ قارئین اس مواد کو قبول کر رہے ہیں۔

عالمی سطح پر جاری بحث پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا لوگ کتاب کو اس لیے ناپسند کر رہے ہیں کہ وہ ناقص ہے، یا صرف اس لیے کہ اس میں مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا ہے؟ ان کے نزدیک ٹیکنالوجی محض ایک معاون ذریعہ ہے۔

کورل ہارٹ اب ایک ایسے ادارے کی سربراہی کر رہی ہیں جہاں سیکڑوں افراد کو اے آئی کے ذریعے کتابیں لکھنے کی تربیت دی جا چکی ہے۔ وہ اب اے آئی مصنفین کے لیے 'او تھری دم' نامی ایک خصوصی سافٹ ویئر متعارف کرانے کی بھی تیاری کر رہی ہیں۔

ادبی حلقوں میں یہ معاملہ اب ایک سنگین بحث بن چکا ہے کہ آیا مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کو تخلیقی ادب کا درجہ دیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ انسانی جذبات اور تخیل کا نعم البدل کوئی مشین نہیں ہو سکتی۔

دوسری جانب، ٹیکنالوجی کے حامیوں کا ماننا ہے کہ اے آئی مصنفین کے لیے ایک طاقتور ٹول ہے جو لکھنے کی رفتار اور پیداواری صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی مصنفین کو پیچیدہ کاموں سے نکال کر کہانی کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرنے میں مدد دیتی ہے۔

مستقبل میں اس طرح کے مزید واقعات سامنے آنے کی توقع ہے کیونکہ اے آئی ماڈلز میں مسلسل بہتری آ رہی ہے۔ یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ آیا یہ ٹیکنالوجی روایتی اشاعتی صنعت کو مکمل طور پر تبدیل کر دے گی یا یہ صرف ایک محدود رجحان تک محدود رہے گی۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں