مواد پر جائیں
منگل، 27 اکتوبر 2026 16 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:37
تازہ
تہران اجلاس کا مرکزی موضوع سعودی عرب کی صورتحال تھا، خواجہ آصفکراچی: مختلف علاقوں میں پولیس مقابلے، 6 زخمیوں سمیت 8 ملزمان گرفتارخواتین کو بلیک میل کرنے والے 3 ملزمان گرفتار، این سی سی آئی اے کی کارروائییومِ سیاہ کشمیر: پاکستان کا کشمیریوں کی جدوجہد کی حمایت کا اعادہامریکی دھمکیاں بے اثر، خطے میں تعاون ہی امن کی ضمانت ہے: محسن رضائیانقرہ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کی سربراہی پروفیسر ڈاکٹر آئیکُت کشمیر کے سپردگورنر خیبر پختونخوا کی پشاور ماسٹر پلان کے اہداف پر عملدرآمد تیز کرنے کی ہدایتترک سفیر کی وزیر دفاع خواجہ آصف سے ملاقات، دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاقراولپنڈی: سسرالیوں کا خاتون پر مبینہ تشدد، بال کاٹنے اور زیورات چھیننے کا الزامبھارت: پسند کی شادی کیلئے لڑکی 100 فٹ بلند موبائل ٹاور پر چڑھ گئیدفتر خارجہ میں اہم سفارتی تقرریوں اور تبادلوں کی تیاریاںلاہور فیشن ویک: تیسرے روز مشرقی و مغربی ملبوسات کا حسین امتزاجبرطانوی بینک بارکلیز کی ہزاروں ملازمین کی چھانٹی کی تیاریایف پی ایس سی کے ملتوی ٹیسٹوں کی نئی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیاسرکاری اور مالیاتی اداروں کے ڈیجیٹل نظاموں پر سائبر حملوں کا خدشہکویت میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کیلئے جدید نظام متعارفروزگار کیلئے مقامی انڈسٹری کا فروغ انتہائی ضروری ہے، مریم نوازرواں سال جولائی سے ستمبر تک کا توشہ خانہ ریکارڈ جاریاہلیہ سنیتا آہوجا کے الزامات پر بالی ووڈ اداکار گووندا کی خاموشی ختمایف بی آر کا ٹیکسٹائل اسپننگ یونٹس میں ویڈیو کیمرے لگانے کا حکم
دنیا

یمن تنازع کا سفارتی حل: مصر کا سعودی عرب کے ساتھ رابطوں میں تیزی

مصری وزیر خارجہ اور انٹیلی جنس چیف نے ریاض میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور اہم پیغام پہنچایا۔

یمن تنازع کا سفارتی حل: مصر کا سعودی عرب کے ساتھ رابطوں میں تیزی

مصر نے یمن کے جاری تنازع کے پرامن اور سفارتی حل کے لیے اپنی کوششیں تیز کر دی ہیں، جس کا مقصد خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔ اس سلسلے میں مصری قیادت کی جانب سے سعودی عرب کے ساتھ مسلسل رابطے کیے جا رہے ہیں۔

حال ہی میں مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی اور انٹیلی جنس کے سربراہ حسن رشاد نے ریاض کا دورہ کیا ہے۔ اس دورے کے دوران انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور صدر عبدالفتاح السیسی کا خصوصی پیغام پہنچایا۔

ملاقات میں یمن کی موجودہ صورتحال اور خطے کی سکیورٹی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ مصر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یمن کے بحران کا واحد پائیدار حل صرف بات چیت اور سیاسی مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

مصر کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ سعودی عرب کی علاقائی خودمختاری اور سرحدوں کے دفاع کے لیے قاہرہ ہر ممکن تعاون کے لیے پرعزم ہے۔ تاہم، یہ معاونت سعودی سرزمین کے تحفظ تک محدود رہے گی اور یمن میں براہ راست فوجی کارروائیوں کا حصہ نہیں ہوگی۔

قاہرہ کا موقف ہے کہ حوثیوں کو باب المندب کے قریب قبضے میں لیے گئے علاقوں سے انخلا کرنا چاہیے تاکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ مصر نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔

سعودی عرب اور مصر کے درمیان دہائیوں پر محیط گہرے سفارتی اور معاشی تعلقات قائم ہیں۔ سعودی عرب مصر کا ایک اہم معاشی شراکت دار ہے جو توانائی کی فراہمی اور مرکزی بینک میں سرمایہ کاری کے ذریعے قاہرہ کی معیشت کو سہارا دیتا رہا ہے۔

یاد رہے کہ 2015 میں جب یمن میں تنازع شدت اختیار کر گیا تھا تو مصر نے سعودی اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس وقت مصر کا کردار بنیادی طور پر بحری راستوں کی نگرانی اور تحفظ تک محدود رکھا گیا تھا۔

سن 2022 میں امریکی ثالثی کے نتیجے میں یمن میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا، جس کے بعد سے خطے میں عسکری کارروائیوں کی شدت میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ مصر اسی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے کا خواہاں ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق مصر کی یہ سفارتی کوششیں خطے میں ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات میں بہتری کے بعد ایک اہم پیش رفت ہیں۔ قاہرہ خطے میں کسی بھی نئی کشیدگی سے بچنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔

مصر کا ماننا ہے کہ یمن میں جاری خانہ جنگی نہ صرف انسانی المیے کا سبب بن رہی ہے بلکہ یہ بحیرہ احمر کی تجارت کے لیے بھی خطرہ ہے۔ اس لیے سیاسی حل کے لیے بین الاقوامی برادری کا متحرک ہونا ضروری ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مصری قیادت کے پیغام کو سراہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے باہمی مشاورت کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔

مستقبل میں مصر کی جانب سے یمن کے معاملے پر مزید سفارتی سرگرمیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔ قاہرہ کا مقصد تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے تاکہ یمن کے عوام کو طویل المدتی ریلیف مل سکے۔

مصر کی یہ پالیسی اس کے قومی مفادات اور خطے میں امن و امان کے قیام کے عزم کی عکاس ہے۔ سعودی عرب کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری کو برقرار رکھتے ہوئے مصر نے ہمیشہ اعتدال پسندانہ موقف اختیار کیا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں