مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 5:38
بریکنگ
خواتین اور بچوں کے خلاف جرائم پر مریم نواز برہم، پولیس افسران کو چار ہفتوں کی مہلتسیالکوٹ موٹروے پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کو حادثہ، ایک اہلکار شہید، 5 زخمییوکرین کے دارالحکومت کیف پر روسی میزائل حملہ، امن مذاکرات کی کوششوں کو دھچکاملک بھر میں انسداد پولیو مہم کا آغاز 2 نومبر سے ہوگاامریکا کا سعودی عرب میں موجود سفارتی عملے اور اہل خانہ کو انخلا کا حکمپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کے درمیان دفاعی تعاون کا اہم معاہدہانگلینڈ کا راولپنڈی میں شاندار کھیل، ون ڈے میں ریکارڈ 429 رنز بنا ڈالےپنجاب میں امن و امان کا جائزہ: مریم نواز کی پولیس کو 4 ہفتے کی مہلتبڑھتی عمر میں بھی جِلد کو جوان رکھنے والی غذائیں کون سی ہیں؟قائداعظم یونیورسٹی کے قائم مقام وائس چانسلر ڈاکٹر ظفر جسپال کی مدت میں توسیعجامعہ کراچی میں اسکول آف نرسنگ کے قیام کیلیے بھرپور تعاون کا اعلانفرانسیسی صدر میکرون کے نئے دفاتر کی تیاری کے لیے 23 لاکھ یورو مختصکراچی میں ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، ہنڈی حوالہ میں ملوث دو ملزمان گرفتارکراچی میں مشترکہ کارروائی، بدنام زمانہ منشیات فروش قاسم عرف قاسو گرفتارخیبرپختونخوا کے سرکاری گوداموں سے زہریلی گندم کی سپلائی کا انکشافپنجاب کے پرائیویٹ میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں داخلوں کا شیڈول جاریعمان کے سلطان کا 44 سال بعد برطانیہ کا دورہ، شاہ چارلس نے حدیث سنا دیبالی ووڈ اداکار ٹائیگر شروف پر حملے سے قبل دیگر فنکاروں کی ریکی کا انکشافآسٹریلوی فاسٹ بولر میگن شٹ طبی ضوابط کی خلاف ورزی پر دو میچوں کیلئے معطلجعلی اور ٹیمپرڈ نمبر پلیٹس کیخلاف کریک ڈاؤن، سات روز میں دو ہزار مقدمات درج
پاکستان

خیبرپختونخوا کے سرکاری گوداموں سے زہریلی گندم کی سپلائی کا انکشاف

گورنر انسپکشن ٹیم کی رپورٹ میں اضاخیل گودام کی گندم میں خطرناک زہر کی تصدیق کی گئی ہے۔

خیبرپختونخوا کے سرکاری گوداموں سے زہریلی گندم کی سپلائی کا انکشاف

خیبرپختونخوا میں عوام کی صحت کے ساتھ سنگین کھلواڑ کا ایک ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے جہاں سرکاری گوداموں سے انسانی صحت کے لیے انتہائی مضر اور زہریلی گندم کی سپلائی کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس اہم معاملے نے صوبائی سطح پر شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیونکہ یہ غلہ براہ راست شہریوں کے استعمال میں لایا جانا تھا۔

تفصیلات کے مطابق صوبے کے سرکاری گوداموں سے تقسیم کی جانے والی گندم کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ نوشہرہ کے علاقے اضاخیل میں قائم سرکاری گوداموں میں موجود گندم کے ذخیرے کے لیبارٹری ٹیسٹ کے نتائج نے خطرے کی بڑی گھنٹی بجا دی ہے۔

گورنر انسپکشن ٹیم نے اس پورے معاملے پر ایک تفصیلی انکوائری رپورٹ تیار کی ہے جو باضابطہ طور پر گورنر خیبرپختونخوا کو پیش کر دی گئی ہے۔ اس رپورٹ میں محکمہ خوراک کے اعلیٰ حکام کی جانب سے شدید غفلت، لاپرواہی اور فرائض سے غفلت برتنے کی واضح نشاندہی کی گئی ہے۔

انکوائری رپورٹ کے مطابق لیبارٹری تجزیے میں اس بات کی حتمی تصدیق ہو گئی ہے کہ اضاخیل گوداموں میں موجود سیلاب سے متاثرہ گندم میں ایک انتہائی خطرناک زہر پایا جاتا ہے۔ اس زہر کو سائنسی زبان میں افلاٹاکسن کہا جاتا ہے جو انسانی جان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

پاکستان کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ یعنی پی سی ایس آئی آر کی جانب سے جاری کردہ لیبارٹری رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ متاثرہ گندم انسانی خوراک کے لیے کسی بھی صورت میں موزوں نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ غلہ صحت کے لیے اس قدر مضر ہے کہ اسے استعمال کرنے والے شہریوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے تھے۔

ذرائع ابلاغ کو ملنے والی تفصیلات سے یہ بات بھی عیاں ہوئی ہے کہ متعلقہ گودام کے دو بلاکس میں واقع چھ گوداموں میں رکھی گئی گندم ماضی میں سیلابی پانی کی زد میں آ کر شدید متاثر ہوئی تھی۔ پانی میں ڈوبنے اور بھیگنے کے باوجود اس غلے کو تلف کرنے یا محفوظ بنانے کے بجائے مبینہ طور پر غفلت برتی گئی۔

انکوائری رپورٹ میں اس بات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ پرووینشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی یعنی پی ڈی ایم اے کی جانب سے بروقت سیلاب کا الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ اس انتباہ کے باوجود گوداموں کو سیلابی پانی سے محفوظ رکھنے کے لیے کوئی حفاظتی اقدامات یا پیشگی تدابیر اختیار نہیں کی گئیں۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ سیلاب کا ریلہ گزرنے اور پانی اترنے کے بعد گندم کی حالت کا تکنیکی جائزہ لینے کے لیے کسی قسم کی اسیسمنٹ کمیٹی تشکیل نہیں دی گئی۔ ذمہ داران نے صورتحال کی سنگینی کو نظر انداز کرتے ہوئے غفلت کا مظاہرہ جاری رکھا اور متاثرہ غلے کو بروقت چیک نہیں کیا۔

گورنر انسپکشن ٹیم نے اپنی اس تفصیلی رپورٹ میں معاملے کے تمام ذمہ داران کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی و انتظامی اقدامات کرنے کی سفارش کی ہے۔ ٹیم نے سفارش کی ہے کہ اس غفلت میں ملوث اعلیٰ سرکاری افسران کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔

سفارشات کے مطابق سیکرٹری فوڈ، ڈائریکٹر فوڈ اور اضاخیل گودام کے انچارج کو فوری طور پر ان کے عہدوں سے معطل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ محکمہ جاتی قوانین کے تحت سخت کارروائی کا بھی عندیہ دیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی مجرمانہ غفلت کا اعادہ نہ ہو۔

رپورٹ میں یہ بھی سفارش کی گئی ہے کہ اس سنگین غفلت اور عوام کی زندگیوں سے کھیلنے والے ذمہ دار افسران اور اہلکاروں کے خلاف اینٹی کرپشن کے تحت باضابطہ مقدمات درج کیے جائیں۔ اس اقدام کا مقصد قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا اور غفلت کے مرتکب عناصر کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔

صوبائی سطح پر اس رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غلّے کی فراہمی کے اس پورے نظام کی شفاف تحقیقات کی جائیں اور ملوث تمام عناصر کو سخت سزا دی جائے۔

متاثرہ گوداموں سے ملنے والی اس زہریلی گندم کے معاملے نے حکومتی کارکردگی اور اداروں کی نگرانی کے نظام پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ غریب عوام کے لیے مختص خوراک کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں