پشاور ہائیکورٹ میں خیبرپختونخوا کے غیر فعال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کی حفاظتی تحویل اور ان کے حراستی مقام سے متعلق دائر اہم درخواست پر سماعت ہوئی ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت اور اعلیٰ پولیس حکام کو اس معاملے پر تفصیلی جواب جمع کروانے کی ہدایت جاری کی ہے۔
صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج لگائے جانے کے بعد سے سہیل آفریدی منظرِ عام سے غائب ہیں جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے یہ تصدیق کی گئی تھی کہ انہیں اور ان کی کابینہ کے چند ارکان کو تحویل میں لیا گیا ہے۔
سہیل آفریدی کے بھائی محمد عامر کی طرف سے پشاور ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ صوبے میں ایمرجنسی نافذ کیے جانے والی رات مسلح اور نقاب پوش افراد انہیں وزیر اعلیٰ ہاؤس سے لے گئے تھے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ صوبائی حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ سہیل آفریدی کا فوری سراغ لگائیں اور انہیں عدالت کے روبرو پیش کریں تاکہ آئین کے تحت ان کی حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی اور صوبائی رہنما اس حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ حفاظتی تحویل کے بعد انہیں کہاں رکھا گیا ہے، تاہم پارٹی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں ایم پی او تھری کے تحت تحویل میں لیا گیا ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس سید ارشد علی کی طرف سے استفسار کیا گیا تھا کہ غیر فعال وزیر اعلیٰ کو کہاں رکھا گیا ہے، جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق انہیں پشاور کے شاہی مہمان خانے سمیت دو مقامات پر رکھا گیا ہے۔
شاہی مہمان خانہ پشاور کے گورنر ہاؤس اور وزیر اعلیٰ ہاؤس کے قریب چھاؤنی کے علاقے میں واقع ایک تاریخی سرکاری عمارت ہے، جسے برطانوی دور میں تعمیر کیا گیا تھا اور اسے سرکاری مہمانوں کی رہائش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
اگست 2019 میں صوبائی حکومت نے اس تاریخی عمارت کو قبائلی اضلاع سے منتخب ہونے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی رہائش کے لیے اسمبلی سیکریٹریٹ کے حوالے کر دیا تھا، جہاں مبینہ طور پر اب سیاسی شخصیات کو رکھے جانے کے چرچے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بتایا کہ سہیل آفریدی، جنید اکبر، بابر سلیم سواتی اور گلگت بلتستان کے سابق وزیر اعلیٰ خالد خورشید کو پشاور ہی سے تحویل میں لیا گیا تھا، جن میں سے خالد خورشید کو عدالت میں پیش کرنے کے بعد اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
صوبائی ایڈوائزری کونسل میں وزارت اطلاعات کا قلمدان سنبھالنے والی ثمر ہارون بلور نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سہیل آفریدی اور جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں اور مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ ان کے مطابق ان افراد کا اپنے اہلخانہ سے رابطہ بھی بحال ہے۔
ثمر ہارون بلور کا کہنا تھا کہ احتیاطی تحویل سے مراد ریاست کی جانب سے کسی شخص کو قانون کے تحت اس خدشے کے پیشِ نظر حراست میں لینا ہے کہ وہ مستقبل میں امنِ عامہ یا قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کا اس معاملے پر کہنا ہے کہ پاکستان میں کسی کو حفاظتی تحویل میں لینے کے لیے عام طور پر مینٹیننس آف پبلک آرڈر یعنی ایم پی او تھری کا قانون استعمال کیا جاتا ہے، جو ڈپٹی کمشنر یا محکمہ داخلہ کو یہ اختیار دیتا ہے۔
ماہرینِ قانون عبدالمعیز جعفری اور عثمان وڑائچ کے مطابق اس قانون کے تحت بغیر مقدمہ چلائے افراد کو حراست میں رکھا جا سکتا ہے، تاہم عدالت کو اس کی وجوہات سے آگاہ کرنا اور قانونی تقاضوں کو پورا کرنا آئینی طور پر لازمی ہوتا ہے۔
عدالتِ عالیہ کی جانب سے اس کیس کی مزید سماعت کے دوران فریقین کے دلائل سنے جائیں گے اور یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا حراست کے دوران آئین کے آرٹیکل 10 کے تحت فراہم کردہ بنیادی حقوق کے تقاضے پورے کیے گئے ہیں یا نہیں۔





اپنی رائے دیں