مواد پر جائیں
جمعرات، 22 اکتوبر 2026 11 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 11:38
بریکنگ
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری، پولنگ 20 دسمبر کو ہوگیٹھٹھہ: موبائل فون نہ ملنے پر 12 سالہ بیٹے کا والد پر تیز دھار آلے سے حملہصادق آباد: سفاک ماں کا 4 سالہ بیٹے پر تشدد، ویڈیو وائرل ہونے پر پولیس متحرکمالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو کی پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریفاسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰنئی دہلی میں تاریخی ریس کورس مسجد کو خالی کرنے کا نوٹسکراچی میں اگلے تین روز تک موسم گرم اور خشک رہنے کی پیشگوئیاحتجاج کی ناکام حکمت عملی کی پوری پارٹی ذمہ دار ہے، شوکت یوسفزئیفنکار کبھی اپنے کام سے مکمل مطمئن نہیں ہوتے، علی عظمتگندم کی وافر دستیابی، تمام صوبوں میں مؤثر اقدامات کی ہدایتوسیم کیس: چائلڈ پروٹیکشن بیورو کا ملتان میں یتیم خانے کا دورہ، 16 بچے تحویل میںملک بھر میں روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہمنصوبہ بدر علاقائی امن اور دفاعی تعاون کا عکاس ہے: خواجہ آصفمیر رضا کیس: جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ پر جے آئی ٹی بنانے کا فیصلہبیرسٹر گوہر کا پارٹی رہنماؤں کو باہمی بیان بازی سے گریز کی ہدایتفیس بک اور انسٹاگرام صارفین کے لیے اکاؤنٹ ہیکنگ کے خطرے پر اہم الرٹ جاریپشاور: اضاخیل گودام کی سیلاب زدہ گندم مضرِ صحت قرار، ذمہ داروں کی معطلی کی سفارش107 سالہ برطانوی شہری نے طویل العمری کا دلچسپ راز بتا دیاکریڈٹ کارڈز کے ذریعے اخراجات میں کمی اور کیش بیک کا حصولکشمیر چوک انڈر پاس منصوبہ: آئندہ دس دنوں میں اہم پیش رفت ہو گی، محسن نقوی
دنیا

اسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰ

برطانوی اخبار کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر حملے کی ہدایت کی تھی جو امریکی مخالفت پر منسوخ ہوا۔

اسرائیل نے رواں ماہ ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی، برطانوی اخبار کا دعویٰ

برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے رواں ماہ کے اوائل میں ایران کے خلاف ایک بار پھر بڑے پیمانے پر حملے کرنے کی تیاریوں کی ہدایت جاری کی تھی۔ اس معاملے سے قریبی واقفیت رکھنے والے تین باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے دس اکتوبر کو اختتامِ ہفتہ کے دوران ایک کثیر روزہ بمباری مہم شروع کرنے کی مکمل تیاری کر لی تھی۔ اس مجوزہ فوجی کارروائی کے دوران ایرانی جوہری تنصیبات، اہم حکومتی اہداف کے ساتھ ساتھ بجلی گھروں جیسی شہری بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا جانا مقصود تھا۔

تاہم باخبر ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ خطرناک فوجی مشن آخری وقت پر منسوخ کر دیا گیا جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تنازع کو ہوا دینے کی مخالفت تھی۔ بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل خطے میں کسی بھی قسم کے بڑے تنازع کو دوبارہ بھڑکانے یا شروع کرنے کے حق میں بالکل نہیں تھے۔ اس تمام صورتحال کے باوجود امریکی صدر اور اسرائیلی وزیرِ اعظم کی جانب سے تاحال ایران کے خلاف جارحانہ بیانات کا سلسلہ جاری ہے اور دونوں رہنماؤں کا اصرار ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو ایرانی حکومت کے خلاف تاحال نامکمل رہنے والے اپنے مشن کو ضرور پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہیے۔

رپورٹ کے مطابق مجوزہ بمباری کی یہ منصوبہ بندی اس شدت اور پیمانے پر تیار کی گئی تھی جو فروری میں شروع ہونے والے مشترکہ امریکا اور اسرائیل کے سابقہ حملوں سے بھی کہیں زیادہ وسیع ہونی تھی۔ اگرچہ یہ بات تاحال مکمل طور پر واضح نہیں ہو سکی ہے کہ آیا اس مجوزہ آپریشن میں امریکی افواج نے براہِ راست طور پر شامل ہونا تھا یا نہیں، لیکن ذرائع کا اس بات پر اصرار ہے کہ یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب آنے والے ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف دوبارہ نئے حملے شروع کر سکتے ہیں۔

ایک سینیئر اسرائیلی اہلکار کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے پیر کے روز اسرائیل کا اہم دورہ کیا جہاں انہوں نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو سمیت دیگر اعلیٰ ترین عسکری و سیاسی حکام کے ساتھ تفصیلی ملاقاتیں اور مشاورتی بات چیت کی۔ اس دورے کے دوران اسرائیلی حکام نے مبینہ طور پر ایرانی سرزمین پر موجود اہداف کی ایک بالکل نئی اور تازہ ترین فہرست امریکی وزیرِ دفاع کے سامنے پیش کی جو جدید انٹیلی جنس معلومات پر مبنی تھی اور اس میں شہری بنیادی ڈھانچے کے وہ مقامات بھی شامل تھے جنہیں اس سال کے آغاز پر ہونے والی کارروائیوں کے دوران نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔

دوسری جانب برطانوی اخبار کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج گزشتہ کئی ہفتوں سے انتہائی ہائی الرٹ کی حالت میں موجود ہے اور اس نے ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے جمعرات سے لے کر ستائیس اکتوبر کو طے شدہ اسرائیلی پارلیمانی انتخابات تک اپنے تمام فوجیوں کی چھٹیاں تاحال منسوخ کر رکھی ہیں۔ اس حوالے سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال ضمیر کا کہنا تھا کہ فوجیوں کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا یہ فیصلہ بنیادی طور پر ملک کے جمہوری انتخابات کو مکمل طور پر محفوظ ماحول میں اور مقررہ وقت پر منعقد کرانے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔

خطے میں کشیدگی کی حالیہ لہر نے بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کی فضا پیدا کر دی ہے کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی عسکری تیاریاں بڑے تصادم کا خطرہ ظاہر کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی عسکری قیادت نے تمام ممکنہ جنگی حالات سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے رکھی ہے اور کسی بھی حکم پر فوری عمل درآمد کے لیے فوج کو پوری طرح تیار رکھا گیا ہے۔

برطانوی جریدے نے یہ نکتہ بھی واضح کیا ہے کہ ایران کو درپیش سکیورٹی خدکات میں اس کے حساس تنصیبات کے ساتھ ساتھ اقتصادی و صنعتی مراکز بھی شامل ہیں۔ ان مراکز کو نشانہ بنائے جانے کی صورت میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا بالخصوص توانائی کی رسد پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہیں۔

امریکی حکومت اور پینٹاگون کے ذرائع کا کہنا ہے کہ واشنگٹن خطے میں سفارتی حل کو ترجیح دیتا ہے لیکن ساتھ ہی اپنے اتحادی اسرائیل کے دفاع کے لیے بھی ہر وقت پرعزم ہے۔ اس دوطرفہ سفارتی اور عسکری توازن کو برقرار رکھنا امریکی انتظامیہ کے لیے اس وقت ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے کیونکہ انتخابی سرگرمیاں اپنے عروج پر ہیں۔

اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو ملکی سیاست میں اندرونی دباؤ کا بھی سامنا کر رہے ہیں جہاں پارلیمانی انتخابات کی گہما گہمی عروج پر ہے۔ ایسے نازک وقت میں سلامتی کے معاملات کو سیاسی بیانیے کا حصہ بنانا اسرائیلی حکومت کی روایتی حکمت عملی کا اہم حصہ رہا ہے تاکہ عوامی توجہ کو اندرونی مسائل سے ہٹایا جا سکے۔

دوسری طرف تہران کی جانب سے بھی اسرائیلی اور امریکی دھمکیوں کے جواب میں دفاعی تیاریاں مکمل رکھنے کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کا مؤقف رہا ہے کہ کسی بھی قسم کی جارحیت کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا تاکہ ملکی خودمختاری کا ہر قیمت پر دفاع کیا جا سکے۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا خیال ہے کہ آنے والے چند ہفتے خطے کی سیاست اور جنگی صورتحال کے حوالے سے انتہائی فیصلہ کن ثابت ہوں گے۔ امریکی انتخابات کے بعد واشنگٹن کی پالیسیوں میں ممکنہ تبدیلی دونوں ممالک کے درمیان فوجی حکمت عملی کو نیا رخ دے سکتی ہے۔

اس تمام صورتحال میں اقوام متحدہ اور دیگر عالمی طاقتیں فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی مسلسل اپیل کر رہی ہیں۔ عالمی برادری کو خدشہ ہے کہ اگر اس بار تنازع پھیلا تو اس کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت اس کی لپیٹ میں آ جائے گی۔

اسرائیل اور امریکا کے درمیان انٹیلی جنس اور عسکری تعاون کی یہ تازہ ترین کڑی دونوںممالک کے گہرے اسٹریٹجک تعلقات کی عکاس ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا سفارتی کوششیں اس کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہیں یا خطہ ایک اور بڑی جنگ کا شکار ہوتا ہے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں