مواد پر جائیں
پیر، 2 نومبر 2026 22 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
ٹانک میں فائرنگ کے بعد چار پولیو ورکرز اغوا، پولیس کی تلاش شروعیوکرین اور روس میں ایئر الرٹ ایپس ہیک، جعلی ایٹمی و کیمیائی وارننگز جاریاسکردو: میاں، بیوی اور دو بچوں کے قتل میں ملوث مرکزی ملزم گرفتارآئی سی سی نے سری لنکا کے خلاف فائنل میں سست اوور ریٹ پر پاکستان ٹیم پر جرمانہ عائد کر دیالاہور: نوکری کا جھانسہ دے کر شادی شدہ خاتون سے زیادتی، ایک ملزم گرفتاربھارتی ٹی وی اداکار انوج ٹھاکر 33 برس کی عمر میں انتقال کر گئےامریکا اور اسرائیل کے حملے پر ایران کا طویل اور سخت ردعمل کا انتباہپاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے انتخابات، شکیل مسعود چیئرمین منتخبآسٹریلیا نے انگلینڈ کے خلاف ہوم وائٹ بال سیریز کے لیے اسکواڈز کا اعلان کر دیاآئرش ویمن کرکٹر ربیکا اسٹوکیل نے ڈوپنگ ضابطے کی خلاف ورزی کا اعتراف کرلیاسائبر حملے ٹیکنالوجی کی ناکامی نہیں، ناقص سیکیورٹی وجوہات ہیں: بلال بن ثاقبکراچی میں اسکول وینز میں گیس سلینڈر اور زائد طلبہ بٹھانے پر پابندی عائدپاکستان میں سونے کی قیمتوں میں دو ہزار چار سو روپے فی تولہ اضافہیورپی ممالک میں سپر مارکیٹس کے فریزر سائبر حملے کی زد میںسندھ حکومت کا اسکول وینز میں سی این جی اور ایل پی جی سلنڈرز پر پابندی کا فیصلہافغان کرکٹ ٹیم نے ون ڈے رینکنگ میں چھٹی پوزیشن حاصل کر لیپاکستان میں پہلی بار کلر گریڈنگ کی جدید تربیت دینے کا فیصلہانسٹاگرام کی دوستی شادی میں تبدیل، اطالوی دلہن لاہور پہنچ گئیچائنا کمیونسٹ پارٹی کا عوام سے جڑے رہنے کا ماڈل قابلِ تقلید ہے: اسحاق ڈارلاہور میں سموگ اور وائرسز کا حملہ، 7 روز میں 35 ہزار سے زائد مریض رپورٹ
لاہور

لاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیا

موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی لاہور میں فضائی آلودگی کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

لاہور کی فضا زہریلی، ایئر کوالٹی انڈیکس 300 سے تجاوز کر گیا

لاہور میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی فضائی آلودگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے باعث شہر کی فضا انتہائی مضرِ صحت ہو چکی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شہر کا مجموعی ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 300 کی خطرناک سطح کو عبور کر گیا ہے۔

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق لاہور میں فضائی آلودگی کی اوسط شرح 330 ریکارڈ کی گئی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی سطح میں فرق پایا گیا ہے، تاہم بعض مقامات پر صورتحال انتہائی تشویشناک حد تک خراب ہو چکی ہے۔

ملتان روڈ پر فضائی آلودگی کی شرح سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ جی ٹی روڈ اور شاہدرہ کے علاقوں میں ایئر کوالٹی انڈیکس 500 تک پہنچ چکا ہے، جسے طبی ماہرین انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک قرار دیتے ہیں۔

دیگر علاقوں کی صورتحال پر نظر ڈالیں تو ڈی ایچ اے فیز 6 میں اے کیو آئی 357، کاہنہ نو میں 342 اور پنجاب یونیورسٹی کے اطراف میں 335 ریکارڈ کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار شہر میں بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی عکاسی کرتے ہیں۔

شہر کے مضافاتی اور دیگر مقامات پر بھی فضا کا معیار متاثر ہوا ہے۔ برکی روڈ پر اے کیو آئی 247، سفاری پارک میں 246، ایجرٹن روڈ پر 241 جبکہ واہگہ بارڈر کے قریب یہ شرح 199 ریکارڈ کی گئی ہے۔

ماہرینِ ماحولیات نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ فضائی آلودگی کی یہ بلند سطح سانس اور پھیپھڑوں کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے شدید خطرات کا باعث بن سکتی ہے۔ آلودہ فضا آنکھوں اور گلے کی جلن کا سبب بھی بن رہی ہے۔

طبی ماہرین نے خصوصاً بچوں، بزرگوں اور دمے کے مریضوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ غیر ضروری طور پر کھلی فضا میں نکلنے سے گریز کیا جائے اور گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے۔

موسم کی تبدیلی اور ہوا میں نمی کے تناسب میں کمی کے باعث سموگ کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔ فضائی آلودگی میں اضافے کی بڑی وجوہات میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور تعمیراتی سرگرمیاں شامل ہیں جو شہر کی فضا کو مسلسل بوجھل کر رہی ہیں۔

شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کی فٹنس کو یقینی بنائیں اور دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کو سڑکوں پر نہ لائیں۔ اس کے علاوہ کوڑا کرکٹ جلانے سے گریز کرنے کی بھی سختی سے تلقین کی گئی ہے تاکہ فضا کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔

محکمہ ماحولیات کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق، فضائی آلودگی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر تعلیمی اداروں اور دفاتر میں بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ کھلی جگہوں پر ورزش کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔

آئندہ چند روز کے دوران موسم کی صورتحال اور ہوا کے رخ میں تبدیلی کے ساتھ ہی فضائی معیار میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم، تب تک شہریوں کو اپنی صحت کے تحفظ کے لیے انتہائی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے فضائی آلودگی کی نگرانی کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ بروقت اعداد و شمار حاصل کر کے شہریوں کو آگاہی فراہم کی جا سکے اور ہنگامی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

لاہور کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں