مواد پر جائیں
منگل، 3 نومبر 2026 23 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ:
بریکنگ
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کی صورتحال پر اہم جائزہ اجلاسامریکہ کا آبنائے ہرمز میں ایران کے جزیرے پر فضائی حملہاے سی سی رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز کے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلانکراچی پورٹ کو جدید بنانے کے منصوبوں پر کام تیز، نئی ٹیکنالوجی کا استعمالاوورسیز پاکستان فاؤنڈیشن کے ملازمین کو حکومت کی اعلان کردہ تنخواہ سے بھی کم معاوضہ ملنے کا انکشافبھارتی شہر پنچکولا کے اسکول میں بچے کا بچی پر تشدد، پرنسپل اور عملے کے خلاف مقدمہ درجکراچی: نارتھ ناظم آباد میں مزدا ٹرک کی ٹکر سے طالبعلم جاں بحق، دوسرا زخمیراولپنڈی: گھر سے 37 لاکھ روپے مالیت کے زیورات چرانے والی ملازمہ گرفتارفوجی فاؤنڈیشن نے پرل کانٹی نینٹل ہوٹلز کی مالک کمپنی کے 19.70 فیصد حصص خرید لیےسعودی عرب میں نومبر سے جنوری تک معمول سے زائد بارشوں کی پیش گوئیسپریم کورٹ نے بیوی پر تشدد کے ملزم آئی بی ملازم کی اپیل خارج کر دیسمندری طوفان مرسو انڈیا کے مشرقی ساحل سے ٹکرا گیابیلجیم میں سیاسی بحران، وفاقی بجٹ پر مذاکرات ناکام ہونے پر وزیراعظم نے استعفیٰ دے دیاامریکی سپریم کورٹ نے کیلیفورنیا میں بیلٹس روکنے کی ٹرمپ انتظامیہ کی درخواست مسترد کر دیپاک چین تعلقات کے استحکام کا اعادہ، چینی وزیر کا دورہ اسلام آبادمالی سال کی پہلی سہ ماہی میں معیشت مستحکم، زرِمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں اضافہشمالی کوریا نے بائنس ہیکنگ میں ملوث ہونے کا امریکی الزام مسترد کر دیاایڈرین ہیملٹن مانس نے پی آئی اے کے نئے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھال لیںساؤتھ ایشین فٹ بال چیمپئن شپ: پاکستانی کوچ نے سیمی فائنل تک رسائی کا ہدف مقرر کر لیاامریکہ نے روانڈا اور ساؤتھ افریقہ کو ایگوآ سے نکالنے کا اعلان کیا
عدالت

لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے مقدمے میں عمر قید کا ملزم سات سال بعد بری کر دیا

عدالت نے ایف آئی آر میں تاخیر اور گواہوں کا قیامِ موقع ثابت نہ ہونے پر محمد اشرف کی اپیل منظور کر لی۔

لاہور ہائیکورٹ نے قتل کے ایک مقدمے میں عمر قید کی سزا پانے والے ملزم کو سات سال کے طویل عرصے کے بعد تمام الزامات سے بری کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے۔ عدالتِ عالیہ کے معزز جج جسٹس فاروق حیدر نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کی جانے والی اپیل پر سماعت مکمل کرنے کے بعد یہ فیصلہ صادر کیا۔

اس اہم عدالتی فیصلے کا تحریری متن جاری کر دیا گیا ہے جس میں مقدمے سے متعلق تمام قانونی پہلوؤں اور شواہد کا تفصیلی احاطہ کیا گیا ہے۔ منڈی بہاوالدین کے علاقے میں پیش آنے والے اس واقعہ کا مقدمہ دو ہزار انیس میں مقامی پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا۔

ٹرائل کورٹ نے اس مقدمے کی سماعت کے بعد دو ہزار اکیس میں جرم ثابت ہونے پر ملزم کو عمر قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ ماتحت عدالت کے اس فیصلے کے خلاف ملزم کے وکلا نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا اور سزا کو چیلنج کیا تھا۔

ملزم محمد اشرف پر سکندر فردوس نامی شخص کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا سنگین الزام عائد کیا گیا تھا جس کے خلاف استغاثہ نے عدالت میں گواہ پیش کیے تھے۔ تاہم دفاعی وکلا نے مقدمے کی ابتدائی کارروائی اور دستاویزات میں موجود خامیوں کو عدالت کے سامنے نمایاں کیا۔

عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ استغاثہ اس بات کا کوئی بھی ٹھوس اور قابلِ قبول ثبوت پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہا کہ مقدمہ درج کرنے میں ساڈھے چار گھنٹے کی تاخیر کیوں ہوئی۔ پولیس کی جانب سے ابتدائی اطلاعی رپورٹ کے اندراج میں تاخیر کے اسباب غیر واضح رہے۔

تحریری فیصلے میں مزید اس بات کی نشان دہی کی گئی ہے کہ مقتول کا پوسٹ مارٹم بھی کافی تاخیر سے کیا گیا جو استغاثہ کے پورے مؤقف پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑتا ہے۔ پولیس کی طرف سے عدالتی کارروائی کے لیے تیار کردہ بنیادی دستاویزات کی تیاری میں بھی تاخیر برتی گئی۔

عدالت نے وقوعے کے مقام اور مدعیہ کے بیان میں موجود تضادات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لیا اور شواہد کا قانونی معیار پر پرکھا۔ مقدمے کی مدعیہ نے اپنے ابتدائی بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ واقعہ کے روز اپنے بیٹے کے ہمراہ موٹر سائیکل پر سوار ہو کر بیٹی کے گھر جا رہی تھی۔

مدعیہ کے بیان کے مطابق ملزم نے اپنے گھر کے باہر انہیں موٹر سائیکل روکنے کا اشارہ کیا اور بیٹے کو زبردستی گھر کے اندر لے جا کر گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ عدالت نے اس موقع پر وقوعے کے جغرافیائی محل وقوع اور راستے کا خصوصی طور پر جائزہ لیا۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں اس اہم نکتے کو اجاگر کیا کہ وقوعہ والے گاؤں میں مدعیہ کی بیٹی کا گھر پہلے آتا ہے جبکہ ملزم کا گھر اس کے بعد آتا ہے۔ فیصلے میں یہ بنیادی سوال اٹھایا گیا کہ مدعیہ اپنی بیٹی کا گھر پیچھے چھوڑ کر آگے ملزم کے گھر کی طرف کیوں گئی۔

عدالت نے موقع پر گواہوں کی موجودگی کے دعوے کو بھی انتہائی مشکوک قرار دیا کیونکہ استغاثہ وقوعے کے وقت گواہوں کی وہاں موجودگی کو قانونی طور پر ثابت نہیں کرا سکا۔ ان تمام قانونی نقائص، ابہام اور شواہد کی کمزوری کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت نے ملزم کے خلاف سنائی گئی عمر قید کی سزا کالعدم قرار دے دی۔

لاہور ہائیکورٹ نے ملزم محمد اشرف کی جانب سے دائر کردہ اپیل کو منظور کرتے ہوئے اسے فوری طور پر رہا کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے بشرطیکہ وہ کسی اور مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔ اس کے ساتھ ہی عدالت نے مدعیہ کی جانب سے عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں تبدیل کرنے کی اپیل کو بھی مسترد کرتے ہوئے خارج کر دیا۔

عدالت کے اس فیصلے سے منڈی بہاوالدین کے اس پرانے قتل کیس میں ایک نیا موڑ آ گیا ہے جہاں سات سال تک قانونی لڑائی جاری رہی۔ یہ فیصلہ پاکستان کے فوجداری نظامِ انصاف میں تفتیش کے معیار اور تاخیر سے ایف آئی آر درج ہونے کے قانونی اثرات کے حوالے سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں کے دوران استغاثہ کا اپنے مؤقف کو بغیر کسی شک کے ثابت کرنا اور بروقت کارروائی عمل میں لانا انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ اس فیصلے میں بھی انہی بنیادی قانونی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ملزم کو شک کا فائدہ دیا گیا ہے۔

اس موضوع پر مزید خبریں

عدالت کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں