اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں تعینات نرس رضیہ نورین نے اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کا بہترین مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نوزائیدہ بچے کی زندگی بچا لی۔ ان کی اس بروقت کارروائی کو ہسپتال انتظامیہ اور اعلیٰ حکام کی جانب سے بے حد سراہا گیا ہے۔
واقعہ ہسپتال کی نرسری میں پیش آیا جہاں ایک شیر خوار بچہ اچانک طبی پیچیدگی کا شکار ہو گیا تھا۔ نرس رضیہ نورین نے فوری طور پر صورتحال کا ادراک کیا اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے بچے کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی۔
رضیہ نورین کی جانب سے دکھائی گئی مستعدی کے باعث بچے کی حالت خطرے سے باہر ہو گئی اور اس کی جان بچ گئی۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں نے بھی نرس کی اس فوری کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے ایک قابل تقلید مثال قرار دیا ہے۔
اس شاندار کارکردگی کے اعتراف میں نرس رضیہ نورین کیلئے خصوصی تمغے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز ان کی فرض شناسی اور انسانیت کی خدمت کے جذبے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔
پمز ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ رضیہ نورین جیسے عملے کے ارکان ادارے کا اثاثہ ہیں۔ ان کی اس کاوش سے نہ صرف ہسپتال کا وقار بلند ہوا ہے بلکہ یہ دیگر طبی عملے کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بنی ہے۔
نرسری میں زیر علاج بچوں کی دیکھ بھال انتہائی حساس نوعیت کا کام ہے جس میں ایک لمحے کی غفلت بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ رضیہ نورین نے جس مہارت اور ہمت کا مظاہرہ کیا، وہ شعبہ طب میں ان کی لگن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو رہی ہے جس میں لوگ رضیہ نورین کی تعریف کر رہے ہیں۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایسے فرائض سرانجام دینے والے طبی عملے کی حوصلہ افزائی کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
حکومت اور محکمہ صحت کے حکام نے بھی اس واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے نرس کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اس طرح کے اقدامات سے طبی عملے میں اپنے فرائض کو مزید بہتر انداز میں سرانجام دینے کا جذبہ پیدا ہوگا۔
پمز ہسپتال میں نرسنگ کا شعبہ انتہائی مصروف رہتا ہے جہاں روزانہ کی بنیاد پر مریضوں کو طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ رضیہ نورین کی کامیابی اس بات کی عکاس ہے کہ اگر جذبہ صادق ہو تو مشکل حالات میں بھی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
اس اعزاز کے اعلان کے بعد ہسپتال کے دیگر عملے نے بھی رضیہ نورین کو مبارکباد پیش کی ہے۔ تقریب کا انعقاد جلد متوقع ہے جس میں انہیں یہ تمغہ دیا جائے گا تاکہ ان کی خدمات کو سرکاری سطح پر تسلیم کیا جا سکے۔
شعبہ صحت میں نرسوں کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ مریضوں کی تیمارداری اور ہنگامی صورتحال میں ان کا کردار انتہائی کلیدی ہوتا ہے۔
رضیہ نورین کی یہ کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر طبی عملے کی حوصلہ افزائی کی جائے تو وہ اپنی ذمہ داریوں کو مزید احسن طریقے سے نبھا سکتے ہیں۔ یہ واقعہ دیگر ہسپتالوں کے عملے کے لیے بھی ایک مثال ہے۔
ہم امید کرتے ہیں کہ رضیہ نورین کا یہ جذبہ مستقبل میں بھی برقرار رہے گا اور وہ اسی طرح انسانیت کی خدمت کرتی رہیں گی۔ ان کی یہ کاوش یقیناً شعبہ طب کے لیے ایک روشن مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔





اپنی رائے دیں