مشرقِ وسطیٰ میں امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے خطے کے دیگر ممالک کی طرح عراق کی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا ہے۔ عراقی وزیر خارجہ فواد حسین نے روم میں اپنے اطالوی ہم منصب سے ملاقات کے دوران انکشاف کیا ہے کہ اس تناؤ کے نتیجے میں عراق کو مجموعی طور پر 60 ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
عراقی وزیر خارجہ نے اطالوی ہم منصب کو خطے کی موجودہ صورتحال اور اس کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ تیل کی برآمدات میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں گراوٹ نے ملکی معیشت کو ایک سنگین بحران کی طرف دھکیل دیا ہے۔
عراق کی معیشت کا دارومدار بڑی حد تک تیل کی برآمدات پر ہے، جو ملکی آمدنی کا تقریباً 90 فیصد حصہ فراہم کرتی ہیں۔ تاہم، حالیہ کشیدگی کے باعث تیل کی پیداوار اور برآمدات متاثر ہوئی ہیں، جس سے حکومتی خزانے پر شدید دباؤ پڑا ہے۔
وزارتِ تیل کے اعداد و شمار کے مطابق، ستمبر کے دوران عراق کی تیل کی برآمدات یومیہ 26 لاکھ بیرل تک محدود رہیں۔ تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی یہ آمدنی عراق کے لیے درآمدات کی ادائیگی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی فراہمی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔
معاشی مشکلات کے پیشِ نظر عراق کے زرمبادلہ کے ذخائر میں 20 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے، جس نے ملکی مالیاتی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کی شرح میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس سے عام شہریوں کی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔
معاشی دباؤ کو کم کرنے اور صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے عراقی مرکزی بینک نے گزشتہ ہفتے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار عراقی دینار کی قدر میں ڈالر کے مقابلے میں کمی کی گئی ہے تاکہ ملکی کرنسی کو مستحکم رکھا جا سکے۔
عراقی حکام کا کہنا ہے کہ وہ مستقبل میں اپنی معیشت کا تیل پر انحصار کم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ اس مقصد کے تحت 2037 تک غیر تیل ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدنی کا تناسب موجودہ 10 فیصد سے بڑھا کر 45 فیصد تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
اگرچہ جنگی حالات کے دوران تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی دیکھی گئی تھی، تاہم گزشتہ ماہ کے دوران عراق کی برآمدات میں معمولی بہتری کے آثار نمایاں ہوئے ہیں۔ اس کے باوجود ملکی معیشت تاحال شدید چیلنجوں کا سامنا کر رہی ہے اور حکومتی سطح پر اصلاحات جاری ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ کشیدگی نہ صرف عراق بلکہ پورے خطے کی ترقی کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور سپلائی چین میں خلل نے عالمی منڈیوں کو بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر رکھا ہے۔
عراقی حکومت اب اپنی معاشی پالیسیوں کو ازسرِ نو ترتیب دینے پر غور کر رہی ہے تاکہ بیرونی دباؤ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس میں مقامی صنعتوں کو فروغ دینا اور برآمدات کے متنوع ذرائع تلاش کرنا شامل ہے تاکہ تیل پر انحصار کو بتدریج ختم کیا جا سکے۔
بین الاقوامی برادری اور مالیاتی ادارے بھی عراق کی معاشی بحالی کے لیے مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ عراقی وزیر خارجہ کی اطالوی ہم منصب سے ملاقات کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ عراق عالمی سطح پر اپنے معاشی تعلقات کو مزید مستحکم کرنا چاہتا ہے۔
مستقبل میں عراق کی معاشی بہتری کا انحصار خطے میں امن و امان کی بحالی اور تیل کی مستحکم برآمدات پر ہے۔ اگر کشیدگی میں کمی آتی ہے تو عراق اپنی معاشی اصلاحات کو زیادہ تیزی سے نافذ کرنے کے قابل ہو سکے گا، جس سے عوام کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
مجموعی طور پر، عراق کی معاشی صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ کس طرح جغرافیائی سیاسی تنازعات کسی بھی ملک کی ترقی اور استحکام کو متاثر کر سکتے ہیں۔ عراق کے لیے اب وقت ہے کہ وہ اپنی معاشی بنیادوں کو مضبوط کرے تاکہ کسی بھی بیرونی بحران کا مقابلہ کیا جا سکے۔





اپنی رائے دیں