مشرقِ وسطیٰ میں جاری موجودہ بحرانی کیفیت نے عالمی برادری کی تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بڑھتے ہوئے جنگی دعوے اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے خطے کو ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے، جہاں معمولی سا تصادم بھی وسیع جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
امریکی قیادت کی جانب سے ایران کے خلاف سخت بیانات اور عسکری آپشنز پر غور کے اعلانات کو تجزیہ کار داخلی سیاسی تقاضوں اور انتخابی مہم کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ دوسری جانب ایران نے بھی دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیا ہے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کا معاملہ یقیناً عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے، تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے اختیار کیے جانے والے ذرائع کی افادیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ عسکری کارروائیوں سے جوہری تنصیبات کو وقتی نقصان تو پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن اس سے تکنیکی مہارت اور سیاسی محرکات ختم نہیں ہوتے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگی منصوبہ بندی میں اہداف کی تباہی کو سیاسی کامیابی سمجھنا ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے۔ کسی تنصیب کو نشانہ بنانے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال، جیسے کہ بحری راستوں میں رکاوٹ اور توانائی کی رسد میں خلل، پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے۔
اسرائیلی قیادت کی جانب سے بھی وقتاً فوقتاً پیشگی حملوں کے اشارے دیے جاتے رہے ہیں، جو کشیدگی کو مزید ہوا دیتے ہیں۔ کسی بھی ملک کے لیے جنگ کا فیصلہ صرف دفاعی ضرورت نہیں ہوتا، بلکہ اس پر داخلی سیاست اور اتحادیوں کے دباؤ کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
پاکستان کے لیے مشرقِ وسطیٰ کی یہ صورتحال انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ پاکستان کے برادرانہ تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے اسلام آباد پر یہ سفارتی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کشیدگی کم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
پاکستان کا اصولی مؤقف رہا ہے کہ تنازعات کا حل پرامن مذاکرات اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری میں ہی مضمر ہے۔ پاکستان خلیجی ممالک اور اسلامی تعاون تنظیم کے فورمز کے ذریعے رابطوں کی بحالی اور جنگ بندی کے لیے کوششیں کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سفارتی ماہرین کے مطابق، پاکستان کو کسی ایک فریق کے جنگی بیانیے کی حمایت کرنے کے بجائے متوازن اور اصولی مؤقف اپنانا چاہیے۔ خودمختاری کا احترام اور شہری آبادی کا تحفظ کسی بھی پرامن حل کے لیے بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔
موجودہ صورتحال میں طاقت کے مظاہرے سے وقتی سرخیاں تو حاصل کی جا سکتی ہیں، مگر پائیدار امن کی ضمانت صرف سنجیدہ مذاکرات ہی دے سکتے ہیں۔ دنیا کو اس وقت عسکری نمائش کے بجائے قابلِ تصدیق ضمانتوں اور سفارتی گنجائش پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم نہ ہوئی تو اس کے اثرات صرف تیل کی منڈیوں تک محدود نہیں رہیں گے، بلکہ یہ عالمی تجارت اور کروڑوں انسانوں کے مستقبل کو متاثر کریں گے۔ جنگ کا حقیقی فاتح وہی ہوگا جو تباہی کے پھیلاؤ کو روکنے میں کامیاب رہے۔
عالمی طاقتوں کو چاہیے کہ وہ انتخابی مفادات اور طاقت کے نشے سے بالاتر ہو کر انسانی زندگیوں اور عالمی استحکام کو ترجیح دیں۔ وقت کا تقاضا ہے کہ دھمکیوں کی سیاست کو ترک کر کے مذاکرات کی میز پر مسائل کا حل تلاش کیا جائے۔
پاکستان اپنے قومی مفادات، توانائی کی ضروریات اور خطے میں مقیم لاکھوں پاکستانیوں کے تحفظ کے پیشِ نظر کشیدگی کے خاتمے کے لیے کوشاں ہے۔ اسلام آباد کی سفارتی کوششیں خطے میں امن کی بحالی کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہیں۔
آخر میں، یہ حقیقت واضح ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ یہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ عالمی برادری کو مل کر ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جن سے خطے میں دیرپا امن قائم ہو سکے اور انسانیت کو تباہی سے بچایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں