کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں پولیس نے ایک اہم کارروائی کے دوران رکن قومی اسمبلی کے بھائی کے گھر سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کر لی ہیں۔ اس واقعے کے بعد پولیس نے سرکاری مدعیت میں دو علیحدہ مقدمات درج کر کے تفتیش کا عمل شروع کر دیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق یہ کارروائی درخشاں تھانے کی حدود میں کی گئی۔ ابتدائی طور پر پولیس نے خیابانِ راحت کے قریب ایک مشکوک موٹر سائیکل سوار نعیم حسین کو حراست میں لیا، جس کے قبضے سے کوکین اور آئس جیسی مہلک منشیات برآمد ہوئیں۔
گرفتار ملزم نے دورانِ تفتیش انکشاف کیا کہ یہ منشیات آزاد جاکھرانی کی ملکیت ہیں، جو مبینہ طور پر منشیات کے کاروبار میں ملوث ہیں اور اپنے بنگلے سے منشیات کی فراہمی کا نیٹ ورک چلاتے ہیں۔ ملزم نے پولیس کو بنگلے میں مزید منشیات کی موجودگی کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے ڈی ایچ اے فیز 6 میں واقع بنگلہ نمبر 105/2 پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران بنگلے سے بھاری مقدار میں آئس اور دیگر منشیات برآمد کی گئیں۔ بنگلے کے چوکیدار عالم خان نے پولیس کو بتایا کہ مالک اس وقت ملک سے باہر موجود ہے۔
پولیس نے منشیات برآمدگی کے بعد آزاد جاکھرانی کو مقدمے میں نامزد کر لیا ہے۔ سندھ کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹنس ایکٹ کے تحت درج کیے گئے اس مقدمے میں مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
واقعے کے حوالے سے دوسرا مقدمہ کار سرکار میں مداخلت اور پولیس پر حملے کی دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق چھاپے کے دوران کچھ افراد نے مزاحمت کی اور اہلکاروں پر حملہ کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد جوابی کارروائی کی گئی۔
اس دوسرے مقدمے میں محمد بلال، خالد، زکریا، امیر حسن، شاہد، اشرف اور خان سمیت سات افراد کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس نے ان میں سے ایک ملزم کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ شہر میں منشیات کے خلاف جاری مہم کے تحت یہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ منشیات کے عادی افراد اور اس کاروبار میں ملوث عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے تاکہ نوجوان نسل کو تباہی سے بچایا جا سکے۔
تفتیشی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے ملنے والے شواہد کو فرانزک کے لیے بھجوا دیا ہے۔ پولیس کا مزید کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے ہونے والی تفتیش کی روشنی میں مزید اہم انکشافات متوقع ہیں، جس سے منشیات کے بڑے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے میں مدد ملے گی۔
علاقہ مکینوں نے پولیس کی اس کارروائی کو سراہا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ منشیات فروشی میں ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ پولیس نے یقین دہانی کرائی ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہے اور کسی بھی بااثر شخصیت کو رعایت نہیں دی جائے گی۔
اس کیس کی پیروی کے لیے قانونی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں تاکہ عدالت میں مضبوط چالان پیش کیا جا سکے۔ پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق تفتیش کو شفاف اور میرٹ پر مکمل کیا جائے گا۔
شہر میں منشیات کے خاتمے کے لیے پولیس کی جانب سے مختلف علاقوں میں گشت اور خفیہ آپریشنز میں تیزی لائی گئی ہے۔ حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں کی اطلاع فوری طور پر قریبی تھانے یا ہیلپ لائن پر دیں۔
آنے والے دنوں میں اس کیس کے حوالے سے مزید پیش رفت متوقع ہے۔ پولیس حکام نے واضح کیا ہے کہ منشیات کے کاروبار سے وابستہ کسی بھی گروہ کو کراچی کے امن کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور کارروائیاں جاری رہیں گی۔





اپنی رائے دیں