مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:37
بریکنگ
اسلام آباد میں تمام شیشہ کیفے بند کرنے کا فیصلہ، ہائیکورٹ کی سخت ہدایتوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی واشک میں سکیورٹی فورسز کے کامیاب آپریشن پر خراج تحسینڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان کے پیش نظر دفعہ 144 نافذڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 نافذ، جلسے جلوسوں اور ڈبل سواری پر پابندی عائدڈیرہ اسماعیل خان: والی بال میچ سے واپسی پر فائرنگ، 5 افراد جاں بحقسعودی عرب: ریاض اور جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے 3 میزائل اور 2 ڈرون تباہڈیرہ اسماعیل خان میں دفعہ 144 کا نفاذ، ڈبل سواری اور اسلحہ کی نمائش پر پابندیملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس حادثہ: ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ جاریبحیرہ اسود میں ڈرون حملہ، مال بردار جہاز ڈوبنے سے 11 افراد لاپتاسوات: سیدو شریف ہسپتال میں 6 افغان ڈاکٹرز کی ہاؤس جاب معطل، پاکستان چھوڑنے کا حکمسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتروسی وزیر داخلہ کا جی ایچ کیو دورہ، پاک فوج کی قربانیوں کا اعترافکے الیکٹرک نے شہر میں عارضی لوڈ مینجمنٹ ختم کرنے کا اعلان کر دیالاہور میں آج رات بارش کا امکان، موسم خوشگوار ہوگیاسینیٹ میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظورنومبر میں سرکاری ملازمین اور طلبا کو مسلسل تین چھٹیاں ملنے کا امکانموسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے عالمی تعاون اور سائنسی تحقیق ناگزیر ہے، مصدق ملکبیرونِ ملک ملازمت کی تصدیق کے لیے سرکاری پورٹل متعارفکالعدم فنانس کارپوریشنز کے متاثرین کو منافع سمیت ادائیگیوں کا عمل شروعرمضان قادروف کا حوثیوں کو سعودی عرب کے بجائے امریکی اڈوں کو نشانہ بنانے کا مشورہ
دنیا

سعودی اتحاد کا صنعا کے لیے انخلا کا حکم، یمن میں کشیدگی بڑھ گئی

یمن کے دارالحکومت میں بڑی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے انخلا کا حکم جاری کر دیا ہے۔

سعودی اتحاد کا صنعا کے لیے انخلا کا حکم، یمن میں کشیدگی بڑھ گئی

یمن کے دارالحکومت صنعا اور اس کے اطراف کے علاقوں میں حوثی باغیوں اور سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد کے درمیان جاری تنازعے میں ایک بار پھر شدید کشیدگی دیکھنے میں آئی ہے جس کے بعد خطے میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے ایک دوسرے کے اہم ترین توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو براہ راست نشانہ بنانے کے تازہ واقعات سامنے آئے ہیں جن سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔

سعودی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ ہدایات کے مطابق یمن کے دارالحکومت صنعا سے شہریوں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کا حکم دے دیا گیا ہے جو کہ رواں برس جولائی کے بعد اس نوعیت کا پہلا انتہائی اہم اور سخت حکم نامہ ہے۔ اس پیشرفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ آنے والے دنوں میں عسکری کارروائیوں کے دائرہ کار میں نمایاں وسعت آسکتی ہے اور زمینی صورتحال مزید پیچیدہ رخ اختیار کر سکتی ہے۔

تازہ ترین واقعات میں سعودی عرب کے مشرقی حصے میں واقع معروف تیل کمپنی آرامکو کی ایک عمارت کو ہدف بنایا گیا جس کے نتیجے میں وہاں محدود پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ تیل تنصیبات پر ہونے والے اس حملے نے خطے میں توانائی کی سپلائی اور معاشی سرگرمیوں کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑا دی ہے کیوں کہ عالمی منڈی کے لیے اس خطے کی اہمیت مسلّم ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کی فضا میں حوثی باغیوں کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کو دفاعی نظام کے ذریعے فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ تاہم ان میزائلوں کا جلتا ہوا ملبہ زمین پر گرنے کے نتیجے میں چار عام شہری زخمی ہو گئے جنہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

ان حملوں سے ایک روز قبل سعودی قیادت میں قائم عسکری اتحاد نے مغربی یمن میں تیل کی تنصیبات سمیت حوثیوں سے وابستہ متعدد اہم اہداف کو فضائی کارروائیوں میں نشانہ بنایا تھا۔ ان جوابی کارروائیوں کا بنیادی مقصد حوثی باغیوں کی جنگی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور انہیں مزید جارحانہ اقدامات سے باز رکھنا بتایا گیا ہے۔

سعودی اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے جاری کردہ بیان میں واضح کیا کہ یمن کے دارالحکومت صنعا کے علاوہ مغربی صوبوں ذمار اور صعدہ میں بھی حوثیوں کے عسکری ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ تنصیبات حوثی جنگجوؤں کو اسلحے اور رسد کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کر رہی تھیں اور ان کے خلاف کارروائی ناگزیر تھی۔

ترجمان نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ ان عسکری تنصیبات کو نہ صرف سعودی عرب بلکہ یمن، بحیرۂ احمر کے جنوبی حصوں اور خطے کی اہم بحری گزرگاہوں کی سلامتی کے لیے بھی بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا۔ ان اہم بحری راستوں کا محفوظ رہنا بین الاقوامی تجارت، جہاز رانی اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی ضروری تصور کیا جاتا ہے۔

سعودی اتحاد کی جانب سے جاری کردہ انخلا کے اس نئے حکم نامے میں اگرچہ متاثرہ علاقوں کی حتمی حدود، متوقع کارروائی کے وقت یا متاثر ہونے والے شہریوں کی حتمی تعداد کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ تاہم اس وارننگ نے صنعا کے رہائشیوں میں گہری تشویش پیدا کر دی ہے اور لوگ ممکنہ کارروائی سے بچنے کے لیے ضروری تیاریاں کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق توانائی کی تنصیبات پر مسلسل حملے اور ان کے جواب میں ہونے والی عسکری کارروائییاں نہ صرف اس خطے کے ممالک کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ اس سے بین الاقوامی سمندری سلامتی کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ تیل کی ترسیل کے راستوں پر پڑنے والے ان منفی اثرات سے عالمی منڈی میں بھی ہلچل مچنے کا خدشہ موجود رہتا ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران یمن کے تنازعے میں سفارتی سطح پر امن کی کوششیں خاصی سست پڑی ہیں اور زمینی حقائق ایک بار پھر کھلی محاذ آرائی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ فریقین کے مابین بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اس بات کی غماز ہے کہ فوری طور پر کسی بڑے سیاسی حل کے آثار نظر نہیں آ رہے ہیں اور کشیدگی برقرار رہے گی۔

حالیہ کشیدہ واقعات کے بعد سے خطے میں سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات نافذ کر دیے گئے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے موثر انداز میں نمٹا جا سکے اور تمام اہم تنصیبات کو مزید نقصان سے محفوظ رکھا جا سکے۔ متعلقہ حکام مجموعی صورتحال پر گہری اور کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ آئندہ کی حکمت عملی طے کی جا سکے۔

یمن میں جاری اس طویل تنازعے نے خطے کے امن کو بری طرح متاثر کیا ہے اور عام شہریوں کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی برادری کی جانب سے بھی فریقین پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی طرف واپس آئیں تاکہ مزید تباہی کو روکا جا سکے۔

آئندہ آنے والے دنوں میں عسکری اور سفارتی میدان میں ہونے والی پیشرفت خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گی۔ تمام متعلقہ فریقین کی طرف سے حالات پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے اور سیکیورٹی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر چوکس اور تیار بیٹھے ہیں۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں