ہندی سنیما کی تاریخ کی یادگار فلم 'پاکیزہ' ایک بار پھر شائقین کے لیے بڑی سکرین پر جلوہ گر ہونے کو تیار ہے۔ اس کلاسک فلم کو جدید ڈیجیٹل معیار یعنی فور کے (4K) ریسٹوریشن کے ساتھ دوبارہ بحال کیا گیا ہے، جس کے بعد اسے لندن کے بی ایف آئی آئی میکس سنیما میں نمائش کے لیے پیش کیا جائے گا۔
فلم کی اس خصوصی نمائش کا انعقاد 18 اکتوبر 2026 کو طے پایا ہے۔ فلم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ نمائش کے تمام ٹکٹ ایک ماہ قبل ہی فروخت ہو چکے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ریلیز کے 54 برس بعد بھی اس فلم کا سحر برقرار ہے۔
اس شاہکار فلم کو فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے امروہی خاندان کے تعاون سے محفوظ اور ڈیجیٹل طریقے سے بحال کیا ہے۔ یہ نیا ورژن سب سے پہلے فرانس کے شہر لیون میں ہونے والے فیسٹیول لومیئر میں دکھایا جائے گا، جس کے بعد اسے بی ایف آئی لندن فلم فیسٹیول میں پیش کیا جائے گا۔
ہدایت کار کمال امروہی کے اس خوابوں کے منصوبے کی تکمیل میں 15 برس کا طویل عرصہ لگا تھا۔ فلم کا آغاز 1957 میں ہوا تھا اور اس کے دوران کئی اتار چڑھاؤ آئے۔ کمال امروہی نے اسے ایک شاہکار بنانے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی اور اس کے لیے ہالی وڈ سے خصوصی سنیما سکوپ لینز بھی منگوائے تھے۔
فلم کی تیاری کے دوران کمال امروہی کی باریک بینی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے ہالی وڈ کی لیبارٹری سے تصدیق کروائی کہ کیمرے کے فوکس میں ایک ملی میٹر کے ہزارویں حصے کا فرق بھی موجود ہے۔ ان کی اس لگن کے باعث ایم جی ایم سٹوڈیوز نے لینز کا کرایہ بھی معاف کر دیا تھا۔
فلم کے 'بازارِ حسن' والے سیٹ کی تعمیر پر 10 لاکھ روپے سے زائد کی لاگت آئی تھی۔ چار منزلہ اس سیٹ کی تعمیر پر 600 افراد نے آٹھ ماہ تک دن رات کام کیا تھا۔ حقیقت سے قریب تر دکھانے کے لیے ملک بھر سے دکانیں لا کر اس سیٹ کا حصہ بنائی گئی تھیں جو ایک سال سے زائد عرصے تک وہاں موجود رہیں۔
فلم کی شوٹنگ کے دوران کمال امروہی اور مینا کماری کے نجی تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہوئی، جس کے باعث فلم کی تکمیل کی رفتار سست پڑ گئی تھی۔ مارچ 1964 میں دونوں کے درمیان علیحدگی ہو گئی تھی، جس کے بعد مینا کماری کی صحت بھی متاثر ہونے لگی تھی۔
تاہم، کمال امروہی نے ہمت نہ ہاری اور 25 اگست 1968 کو مینا کماری کو ایک جذباتی خط لکھا جس میں انہوں نے فلم کی تکمیل کے لیے ان کی مدد مانگی۔ اس خط میں انہوں نے لکھا کہ یہ فلم ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کی مانند ہے جسے صرف مینا کماری ہی کنارے تک پہنچا سکتی ہیں۔
اس اپیل کے بعد دونوں کے درمیان مفاہمت ہوئی اور 16 مارچ 1969 کو مینا کماری نے دوبارہ فلم کی شوٹنگ شروع کی۔ اس وقت تک ہندی سنیما کا مزاج بدل چکا تھا اور راجیش کھنہ جیسے نئے اداکار مقبولیت حاصل کر چکے تھے، لیکن مینا کماری کی واپسی نے فلم میں نئی روح پھونک دی۔
فلم کی موسیقی موسیقار غلام محمد نے ترتیب دی تھی، جن کے گیت 'انہی لوگوں نے'، 'ٹھاڑے رہیو' اور 'چلتے چلتے' آج بھی مقبول ہیں۔ بدقسمتی سے غلام محمد فلم کی کامیابی دیکھنے کے لیے زندہ نہ رہے اور 1968 میں انتقال کر گئے۔
فلم کی شوٹنگ دسمبر 1971 میں مکمل ہوئی، تاہم اس وقت تک مینا کماری کی صحت انتہائی تشویشناک ہو چکی تھی۔ چار فروری 1972 کو جب یہ فلم ریلیز ہوئی تو اس سے ایک روز قبل ممبئی کے مراٹھا مندر سنیما میں اس کا شاندار پریمیئر منعقد کیا گیا تھا۔
مینا کماری کی وفات کے بعد اس فلم کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا اور سنیما گھروں میں شائقین کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ لوگ صرف فلم دیکھنے نہیں بلکہ اپنی پسندیدہ اداکارہ کو آخری بار سکرین پر دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں سنیما گھروں کا رخ کر رہے تھے۔
آج بھی 'پاکیزہ' کو ہندی سنیما کی بہترین فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔ اس کی ڈیجیٹل بحالی نئی نسل کو اس کلاسک شاہکار سے روشناس کرانے کا ایک بہترین موقع ہے، جو کمال امروہی کی محنت اور مینا کماری کی لازوال اداکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔



اپنی رائے دیں