بحیرہ اسود میں بلغاریہ کے ساحل کے قریب ایک مال بردار جہاز ڈرون حملے کا شکار ہو کر ڈوب گیا ہے، جس کے نتیجے میں عملے کے 11 ارکان لاپتا ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ ساحل سے تقریباً 15 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا۔
گنی بساؤ کے پرچم تلے چلنے والے اس مال بردار جہاز کا نام 'ایچ ایس ڈگنٹی' بتایا گیا ہے۔ حادثے کے وقت جہاز پر کل 16 افراد سوار تھے، جن میں سے 5 افراد کو قریبی تجارتی جہازوں کی مدد سے بحفاظت نکال لیا گیا ہے۔
لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق لاپتا ہونے والے عملے کے ارکان میں زیادہ تر شامی اور مصری شہری شامل ہیں، جن کے بارے میں تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
اس حملے کی ذمہ داری تاحال کسی گروہ یا ملک نے قبول نہیں کی ہے۔ بحیرہ اسود کا خطہ طویل عرصے سے جاری روس اور یوکرین تنازع کے باعث کشیدگی کی زد میں ہے، جہاں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اسی علاقے میں ایک اور مال بردار جہاز 'چیلسی تھری' کو ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ مالٹا کے پرچم بردار اس جہاز پر تین ڈرونز سے حملہ کیا گیا تھا، تاہم خوش قسمتی سے اس پر سوار تمام افراد محفوظ رہے تھے۔
بلغاریہ کے حکام نے اس صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بلغاریہ کے صدر اور وزیراعظم نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کا اعلان کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔
بلغاریہ کے وزیراعظم رومین رادیف نے اس معاملے پر روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی فریق پر الزام عائد کرنے سے قبل ٹھوس شواہد کی ضرورت ہے، جس کے لیے تحقیقاتی عمل جاری ہے۔
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فان ڈیر لاین نے بھی بحیرہ اسود میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے ان حملوں کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ سمندری حدود میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔
نیٹو کی جانب سے بھی جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ بحیرہ اسود میں اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا۔ اتحاد کا مقصد خطے میں جہاز رانی کی آزادی اور عالمی غذائی رسد کے راستوں کو محفوظ بنانا ہے۔
بحیرہ اسود میں جاری کشیدگی کے باعث بین الاقوامی تجارت اور خاص طور پر غذائی اجناس کی ترسیل کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ عالمی منڈیوں میں اس صورتحال کے اثرات کے پیش نظر سیکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال سمندری جنگی حکمت عملیوں کو تبدیل کر رہا ہے۔ تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے جس سے سمندری راستوں پر سفر کرنے والے عملے کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔
ریسکیو ٹیمیں لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں، تاہم خراب موسمی حالات اور سمندری لہروں کے باعث آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد ہی لاپتا افراد کے بارے میں کوئی اطلاع مل سکے گی۔
عالمی سطح پر اس واقعے کے بعد تجارتی جہاز رانی کرنے والی کمپنیوں نے اپنے روٹس اور سیکیورٹی پروٹوکولز پر نظر ثانی شروع کر دی ہے۔ بحیرہ اسود میں امن و امان کی بحالی کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں تیز ہونے کا امکان ہے۔





اپنی رائے دیں