مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 6:57
بریکنگ
سعودی عرب: حوثی ملیشیا کے میزائل حملے ناکام، ریاض اور ظہران میں نقصاناتاسلام آباد میں خودکشی کیس کا ملزم مانسہرہ میں بھی فراڈ کا اشتہاری نکلاپنجاب: آئی جی جیل خانہ جات کو رشوت دینے کی کوشش کرنے والا سپرنٹنڈنٹ گرفتارکیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہپی ٹی آئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقویکوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید میجر حسنین اور کیپٹن عبدالصمد کی نمازِ جنازہ ادادہشت گردی کے خاتمے کیلئے وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی ناگزیر ہےبلاول بھٹو کا فیصل کریم کنڈی کو پارلیمانی پارٹی اجلاس سے باہر جانے کا حکمتماشہ 5 کی رنر اپ اسرا عائشہ کا اپنے ساتھی امیدواروں کے رویے پر ردعملخیبر پختونخوا میں امن و امان اور سیاسی استحکام کا چیلنجچیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی نجی دورے پر انگلینڈ روانہ ہوں گےمانسہرہ: غیرت کے نام پر دوہرا قتل، مقتولین کے بھائی گرفتارامریکی ریپر ٹوپاک شکور کے قتل میں ملوث سابق گینگ لیڈر کو 40 سال قید کی سزاامریکی کارنیل یونیورسٹی میں طالبات سے زیادتی کے الزامات کے بعد تقریبات پر پابندیکراچی میں غیر قانونی حراستی مراکز کا انکشاف، پولیس کے فرسودہ نظام پر سوالاتکراچی میں پولیس کے مبینہ مقابلے، ایک ڈاکو ہلاک اور 5 زخمی حالت میں گرفتاروزیراعظم شہباز شریف سے یورپی کمشنر میگنس برونر کی ملاقات، باہمی تعاون پر تبادلہ خیالروس اور پاکستان کا سیکیورٹی و انسدادِ جرائم میں تعاون بڑھانے پر اتفاقوفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا یورپین کمشنر میگنس برنر کے اعزاز میں عشائیہ
پاکستان

کراچی میں غیر قانونی حراستی مراکز کا انکشاف، پولیس کے فرسودہ نظام پر سوالات

کراچی میں سول ڈیفنس کمپاؤنڈ سے 30 افراد کی بازیابی نے پولیس کے تفتیشی نظام اور تھانہ کلچر کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

کراچی میں غیر قانونی حراستی مراکز کا انکشاف، پولیس کے فرسودہ نظام پر سوالات

ملک کے تجارتی مرکز کراچی میں پولیس کے فرسودہ نظام اور غیر قانونی حراستی مراکز کے قیام کا معاملہ ایک بار پھر بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ حال ہی میں ایک عدالتی کارروائی کے دوران کراچی کے علاقے نبی بخش تھانے کی حدود میں واقع سول ڈیفنس کمپاؤنڈ سے 30 افراد کو بازیاب کرایا گیا، جنہیں مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر حراست میں رکھا گیا تھا۔

واقعہ اس وقت پیش آیا جب ایک شہری شیر زمان کی والدہ نے اپنے بیٹے کے لاپتہ ہونے پر عدالت سے رجوع کیا۔ ڈیوٹی مجسٹریٹ نے مذکورہ کمپاؤنڈ پر چھاپہ مارا تو وہاں موجود افراد نے انکشاف کیا کہ انہیں مختلف مقامات سے اٹھایا گیا تھا اور ان میں سے کئی افراد کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ بازیاب ہونے والوں میں ایک کینسر کی مریضہ خاتون بھی شامل تھیں۔

حیران کن طور پر، جب مجسٹریٹ نے وہاں موجود اہلکاروں سے ان افراد کی گرفتاری کا ریکارڈ طلب کیا تو کوئی بھی دستاویزی ثبوت پیش نہ کیا جا سکا۔ یہ کمپاؤنڈ پولیس تھانے کا حصہ نہیں تھا، جس کے باعث قانون کی سنگین خلاف ورزی کا یہ واقعہ سامنے آیا۔ تاہم، بعد ازاں درخواست گزار کی جانب سے کارروائی آگے نہ بڑھانے کی استدعا پر یہ معاملہ داخلِ دفتر کر دیا گیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں 'شارٹ ٹرم کڈنیپنگ' یا مختصر دورانیے کے لیے اغوا کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ اکثر متاثرین پولیس کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں، خاص طور پر جب ان کے ساتھ خواتین بھی موجود ہوں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجرمانہ عناصر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرتے ہیں۔

پولیس کے محکمہ میں اصلاحات کا مطالبہ طویل عرصے سے کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کے مطابق، سندھ میں پولیس ایکٹ 1861 کا نفاذ آج کے دور کے تقاضوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔ یہ قانون برطانوی دور میں بنایا گیا تھا جس کا مقصد عوام کو کنٹرول کرنا تھا، نہ کہ ان کی حفاظت کرنا۔

سابقہ ادوار میں پولیس ایکٹ 2002 کے تحت سیفٹی کمیشن کا تصور متعارف کرایا گیا تھا، جس میں سول سوسائٹی، وکلاء اور منتخب نمائندوں کو شامل کر کے عوامی احتساب کا نظام وضع کیا گیا تھا۔ تاہم، بعد ازاں اس ایکٹ کو منسوخ کر کے دوبارہ پرانے قانون کو رائج کر دیا گیا، جس سے احتساب کا عمل کمزور پڑ گیا۔

پولیس حکام کا موقف ہے کہ محکمہ کے اندر احتساب کا اپنا نظام موجود ہے اور اب پڑھے لکھے نوجوانوں کی شمولیت سے بہتری کی امید ہے۔ تاہم، زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ تفتیش کا انحصار اب بھی تشدد اور ملزمان کے رشتہ داروں کو حراست میں لینے پر ہے، جو کہ غیر قانونی ہے۔

تفتیشی افسران اکثر فنڈز کی کمی کا شکوہ کرتے ہیں، جس کے باعث پولیس کے نظام میں خود انحصاری کے نام پر کرپشن کے کلچر کو فروغ ملتا ہے۔ تھانوں کی نیلامی اور پولیس اہلکاروں کی جرائم پیشہ افراد کے ساتھ ملی بھگت کی شکایات بھی اکثر ذرائع ابلاغ کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

شہروں میں کرپٹو ٹریڈرز اور بینک ملازمین کے اغوا کے حالیہ واقعات نے پولیس کی کارکردگی پر مزید سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کیسز میں بعض اوقات پولیس اہلکاروں کے ملوث ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس سے عوام کا اعتماد مجروح ہوتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ میٹروپولیٹن پولیس کا قیام اور تفتیشی نظام میں شفافیت لانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب تک پولیس کے نظام میں عوامی احتساب کو یقینی نہیں بنایا جائے گا، تب تک چیرہ دستیوں کا سلسلہ نہیں تھمے گا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی ساکھ بحال کرنے کے لیے غیر قانونی حراستی مراکز کا خاتمہ کریں اور تفتیش کے لیے جدید سائنسی طریقوں کو اپنائیں۔ پولیس کے نظام میں اصلاحات کے بغیر امن و امان کا قیام ایک خواب ہی رہے گا۔

حکومت کو چاہیے کہ وہ پولیس ایکٹ میں ایسی ترامیم لائے جو عوامی احتساب کو یقینی بنائیں اور پولیس کو ایک جدید، جوابدہ اور عوام دوست ادارہ بنائیں۔ صرف قانون سازی کافی نہیں، بلکہ اس پر عمل درآمد کے لیے سخت نگرانی اور احتساب کا نظام ناگزیر ہے۔

مستقبل میں پولیس کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پولیس افسران کی بھرتی اور تربیت کے عمل کو مزید شفاف بنایا جائے۔ جب تک پولیس کا محکمہ خود کو احتساب کے عمل سے نہیں گزارے گا، تب تک عوام کا اعتماد بحال کرنا ایک مشکل چیلنج رہے گا۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں