مواد پر جائیں
بدھ، 14 اکتوبر 2026 3 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 4:17
بریکنگ
کیتھولک مسیحیوں کے مذہبی پیشوا پوپ لیو پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلاپاک فوج کا ہائپرسونک بیلسٹک میزائل ‘فتح ٹو (ای آر)’ کا کامیاب تجربہپی ٹی آئی رہنماؤں کے کالعدم ٹی ٹی پی سے رابطے ہیں، وقت آنے پر ثبوت دیں گے: محسن نقویکوئٹہ طیارہ حادثے میں شہید میجر حسنین اور کیپٹن عبدالصمد کی نمازِ جنازہ اداجوڈیشل کمیشن نے احسن بھون کی تعلیمی ڈگری کو اصلی قرار دے دیاملک میں گندم کا وافر ذخیرہ موجود ہے، کسانوں کو فصل کا مناسب معاوضہ ملے گا: وزیرِ اعظمکینیڈا: سدھو موسے والا کے کمسن بھائی کا کنسرٹ میں اپنے بھائی کے انداز کی نقلمائیکل جیکسن کی مشہور ’تھرلر‘ جیکٹ دسمبر میں نیلامی کے لیے پیش کی جائے گیملتان ٹرین حادثہ: ڈاؤن ٹریک کلیئر، ٹرینوں کی آمد و رفت بحالبرازیلی وفد کی پاک بحریہ اور پاک فضائیہ کے سربراہان سے ملاقاتیںکراچی میں مختلف حادثات، بزرگ شہری سمیت دو افراد جاں بحقخیبر پختونخوا میں امن کے لیے جامع حکمت عملی تیار کی گئی ہے، طارق فضل چوہدریبرازیلی مسلح افواج کے وفد کی نیول اور ایئر چیفس سے اہم ملاقاتیںوزیر دفاع خواجہ آصف سے برازیل کے جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی ملاقاتجمہوریت کو ری بوٹ کرنے اور نئی ٹیم کو کارکردگی دکھانا ہوگی: فیصل واوڈانووی پلّے کو 2026 کا نوبیل امن انعام دینے کا اعلانسعودی عرب نے یمن جنگ میں اسرائیلی شمولیت کی پیشکش مسترد کر دیٹرمپ کی حوثیوں کو دھمکی، انتخابات کے بعد دیکھ لینے کا اعلاناسرائیل نے یونان کو بائیس قدیم اور تاریخی نوادرات واپس کر دیےسعودی عرب میں ریاض میٹرو کی توسیع، اربوں ریال کی نئی ٹرینوں کا معاہدہ
پاکستان

پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرتی تو ایمرجنسی نہ لگاتے، رانا ثنااللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔

پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کردار ادا کرتی تو ایمرجنسی نہ لگاتے، رانا ثنااللہ

وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون اور لانگ مارچ ختم کرنے کی یقین دہانی نہیں کرائی، جس کے باعث وفاقی حکومت کو یہ اقدام کرنا پڑا۔

پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنااللہ نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں حالات ٹھیک ہوں گے اور دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہوگا اور پاکستان آگے بڑھے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی حکومت کے خلاف 12 اکتوبر کو لگنے والی ایمرجنسی مارشل لا تھا اور اس میں آئین کو معطل کردیا گیا تھا اور مارشل کو ایمرجنسی کا نام دیا تھا جبکہ یہ ایمرجنسی آئین کے اندر ہے اور کل پارلیمنٹ اس کی توثیق کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی کل خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی قرارداد کی منظوری دے گی۔

بلوچستان کے حالات کا خیبرپختونخوا سے موازنے پر ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل تعاون کر رہی ہے جبکہ خیبرپختونخوا سے مکمل عدم تعاون تھا، یہ پچھلے 11 ماہ سے بالعموم اور دو ماہ سے بالخصوص اور کاموں میں لگے ہوئے تھے، ان کا صوبے کے امن و امان اور بڑھتی ہوئی دہشت گردی سے کوئی واسطہ نہیں تھا، اس لیے صوبائی حکومت کے اختیار وفاقی حکومت نے لے لیے ہیں تاکہ جو خلا تھا اس کو پر کیا جائے اور پوری طرح سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کی جائے تاکہ دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں کارکردگی دکھانے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں، دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے، ہمیں ہر قیمت پر اس دہشت گردی کے خلاف جنگ جیتنی ہے اور سیاسی سطح پر لوگ کنفیوژ کر رہے ہیں کہ مذاکرات کریں، بیٹھ کر بات کریں لیکن معاملہ یہ ہے کہ ان کا کوئی سیاسی مطالبہ نہیں ہے، کیا دہشت گرد جو بلوچستان یا خیبرپختونخوا میں ہیں ان کا یہ مطالبہ کیا کہ کسی سے ملاقات یا کسی کا علاج کیا جائے یا کوئی الیکشن کا مطالبہ ہے، ان کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ بلوچستان کو الگ کیا جائے اور کہتے ہیں خیبرپختونخوا کا 70 فیصد ہمارا ہے۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ وہ پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہے ہیں اور پاکستان کی سالمیت کے خلاف بات کر رہے ہیں، جو لوگ پاکستان کو توڑنے اور دہشت گردی کی بات کر رہے ہوں ان کے ساتھ کیسے مذاکرات ہوسکتے ہیں اور پی ٹی آئی کا بھی یہی بیانیہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی یہی کہتے تھے کہ ان کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں، ان کے ساتھ ہمارے دوست ممالک سعودی عرب، چین، ترکیہ اور قطر نے بات کی لیکن وہ کسی بات پر آتے نہیں ہیں تو آپ خواہ مخواہ کنفیوژن پھیلانے اور ان کی مدد کرنے کے لیے بیانیہ دے رہے ہیں، اس بیانیے میں کوئی جان نہیں ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور فتنۃ الخوارج کے لوگ جرائم کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں اور یہاں سے بھی ملوث ہیں، ان جرائم میں بھتہ، نان کسٹم پیڈ گاڑیاں، منشیات ہیں اور ان جرائم کے تلے یہ دہشت گردی پنپ رہی ہے اور اس کے خلاف کارروائی صوبائی حکومت کا کام تھا لیکن وہ کام نہیں کر رہی تھی اسی لیے یہ اقدام کیا گیا، اس اقدام کو کسی دوسرے واقعے سے موازنہ کرنا درست نہیں ہے۔

رانا ثنا اللہ کی پارلیمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کے دوران مولانا فضل الرحمان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کا ہمیں بے پناہ احترام ہے اور ان کی بات کو کسی صورت غلط کہنے کو تیار نہیں اور مولانا کو کنفیوژن ہوئی ہے یا شاید ہماری طرف بھی ہوئی ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ مولانا نے کہا پی ٹی آئی نے تسلی کرائی تھی کہ اصولی طور پر لانگ مارچ کال آف کرنے کو تیار ہیں اور وزیراعظم بھی یقین دہانی کرائیں کہ علاج اور اسپتال سمیت ساری چیزیں کریں گے اور مولانا نے کہا کہ ان میں سے پہلے کون سی بات ہوگی وہ فیصلہ مجھ پر چھوڑیں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ وزیراعظم نے دو ٹوک کہا تھا دو چیزیں یقینی بنائیں، پہلی شرط دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھرپور کردار ادا کرنے کی کمٹمنٹ دیں، دوسری شرط دھرنا کال آف کرنا تھا۔

دھرنا کال آف کرکے اپنی ذمہ داری کی طرف واپس آئیں تو ملاقات سمیت تمام مطالبات قانون کے مطابق پورے کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ دونوں شرائط پہلے تھیں، اس کے بعد مذاکرات تھے، پھر یہ بات وہ کرنے کو تیار نہیں تھے اور مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوئے اور مولانا کے ساتھ بھی وہ تیار نہیں ہوئے، ورنہ وہ مارچ ختم کرتے اور یقین دہانی کراتے کہ ہم ساتھ دیں گے تو یہ قدم بالکل نہیں اٹھاتے۔

انہوں نے بتایا کہ کابینہ اجلاس میں وقفے کے دوران بھی کہا اگر اس وقت بھی دونوں چیزیں میڈیا پر اناؤنس کر دیں تو یہ قدم نہیں اٹھائیں گے اور یہی بات ہم نے مذاکرات والے روز بھی کی تھی۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیلوں کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں