معروف پاکستانی یوٹیوبر رجب بٹ کی اہلیہ کی جانب سے خلع یا طلاق کے تنازع کے دوران عدالت میں ایک اہم قانونی چارہ جوئی کی گئی ہے جس میں جہیز کا سامان اور ماہانہ اخراجات کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ معاملہ لاہور کی ایک عدالت میں زیر سماعت ہے جہاں درخواست گزار خاتون نے اپنے شوہر کے خلاف باضابطہ طور پر دعوی دائر کر رکھا ہے۔
عدالت نے اس مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے یوٹیوبر رجب بٹ کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیے ہیں اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہو کر اپنا جواب جمع کروائیں۔ گارڈین کورٹ کی جانب سے جاری کردہ اس حکم نامے کے تحت فریقین کو نوٹس موصول ہو چکے ہیں اور معاملے کی آئندہ سماعت کے لیے تاریخ مقرر کر دی گئی ہے۔
عدالت نے اس کیس کی اگلی سماعت کے لیے 30 اکتوبر کی تاریخ مقرر کی ہے جس میں رجب بٹ کو اپنے وکلا کے ساتھ پیش ہو کر عدالت کے سامنے موقف پیش کرنا ہوگا۔ اس عدالتی کارروائی کے دوران یوٹیوبر کی اہلیہ کے وکیل نے عدالت کے سامنے اپنے موکلہ کے مطالبات تفصیل سے رکھے ہیں جن پر عدالت نے غور شروع کر دیا ہے۔
درخواست گزار خاتون نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کی شادی کے کچھ ہی ماہ بعد انہیں ان کے شوہر رجب بٹ کی جانب سے مبینہ طور پر گھر سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں طلاق کا نوٹس بھی بھجوا دیا گیا ہے تاہم قانونی طور پر وہ طلاق تاحال مؤثر نہیں ہو سکی ہے۔
خاتون نے عدالت کو آگاہ کیا کہ رجب بٹ نے انہیں گھر سے نکالنے کے بعد ازدواجی تعلقات کو جاری رکھنے سے انکار کر دیا اور معاملات اس نہج پر پہنچ گئے کہ انہیں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ اس خاندانی تنازع کے بعد اب دونوں فریقین کے درمیان قانونی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جس پر عدالتی فیصلے کا انتظار ہے۔
مقدمے کی درخواست میں جہیز کے سامان کی واپسی کے حوالے سے بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ سامان کی بازیابی کے احکامات جاری کرے۔ درخواست گزار کے مطابق شادی کے پروقار موقع پر ان کے والدین نے قیمتی اشیا بطور جہیز دی تھیں جن کی کل مالی مالیت لاکھوں روپے بنتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست میں بتایا گیا ہے کہ شادی کے وقت لڑکی کے والدین کی جانب سے دیا جانے والا کل جہیز 87 لاکھ 92 ہزار روپے مالیت کا تھا جو رجب بٹ اور ان کے اہل خانہ کے پاس موجود ہے۔ خاتون کا کہنا ہے کہ رجب بٹ اور ان کے گھر والوں نے شادی کا یہ تمام سامان تاحال واپس نہیں کیا ہے اور وہ اس پر قابض ہیں۔
خاتون نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے رجب بٹ اور ان کے اہل خانہ کو حکم دے کہ وہ شادی کا یہ سارا سامان بحفاظت واپس کریں۔ عدالت اس نکته پر بھی غور کر رہی ہے کہ آیا یہ سامان کس طرح اور کب واپس کیا جائے گا تاکہ مزید قانونی پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔
اس قانونی چارہ جوئی کا ایک اور اہم ترین حصہ کم سن بچے کے ماہانہ اخراجات کی ادائیگی سے متعلق ہے جو اس وقت اپنی والدہ کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔ درخواست گزار کے مطابق رجب بٹ اور ان کے باہمی اشتراک سے ان کا ایک بیٹا ہے جس کا نام کیوان ہے اور اس کی پرورش اس وقت ماں کی ذمہ داری ہے۔
خاتون نے عدالت کو بتایا کہ بچے کی پیدائش اور دیکھ بھال کے اخراجات کافی زیادہ ہیں لیکن والد کی جانب سے بچے کی کفایت شعاری کے لیے کوئی مالی معاونت فراہم نہیں کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بچے کی تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایک معقول رقم کی فوری ضرورت ہے۔
یوٹیوبر رجب بٹ کی ماہانہ آمدنی کے حوالے سے بھی درخواست میں بڑے انکشافات کیے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ وہ مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کروڑوں روپے کماتے ہیں۔ خاتون کے مؤقف کے مطابق ان کے شوہر کی مالی پوزیشن انتہائی مستحکم ہے اور وہ اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اہل خانہ کو تمام مالی سہولیات فراہم کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔
اسی مالی حیثیت کو بنیاد بناتے ہوئے عدالت میں یہ استدعا کی گئی ہے کہ بچے اور اہلیہ کے لیے ماہانہ بنیادوں پر ایک خاص رقم بطور خرچہ مقرر کی جائے۔ درخواست میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ یوٹیوبر بیٹے کیوان کے لیے ماہانہ 5 لاکھ روپے اور اہلیہ اپنے ذاتی اخراجات کی مد میں 2 لاکھ روپے ماہانہ عدالت کے حکم پر ادا کریں۔
عدالت اب اس تمام صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ صادر کرے گی جو دونوں فریقین کے لیے پابند ہوگا۔ اس نوعیت کے خاندانی تنازعات میں عدالتیں عام طور پر بچوں کے مفاد کو مقدم رکھتی ہیں اور فریقین کے مالی وسائل کا بغور جائزہ لے کر احکامات جاری کرتی ہیں۔
رجب بٹ پاکستان کے ایک معروف اور نامور یوٹیوبر اور ڈیجیٹل کریئیٹر ہیں جن کے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں فالوورز موجود ہیں اور ان کے ویوز کی تعداد بھی کروڑوں میں ہوتی ہے۔ سوشل میڈیا صارفین اور عوام کی ایک بڑی تعداد اس نجی نوعیت کے قانونی تنازع پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اس کے آئندہ عدالتی مراحل کا انتظار کر رہی ہے۔





اپنی رائے دیں