حکومت پاکستان نے ملک میں موسم سرما کے دوران گیس کی طلب کو پورا کرنے اور صارفین کو بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی تشکیل دے دی ہے۔ اس منصوبے کے تحت سردیوں کے چار ماہ کے دوران ایل این جی کے 18 کارگوز درآمد کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے وزیر اعظم کو گیس کی متوقع کھپت اور دستیابی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ایل این جی کے ان کارگوز کی خریداری کا عمل نومبر 2026 سے شروع ہو کر فروری 2027 تک جاری رہے گا تاکہ سرد موسم میں گیس کے بحران سے بچا جا سکے۔
حکمت عملی میں اس بات کو ترجیح دی گئی ہے کہ قطر سے سستی ایل این جی کی درآمد کو یقینی بنایا جائے۔ قطر کے ساتھ طویل مدتی معاہدوں کے تحت گیس کی فراہمی کو اولیت دی جائے گی، تاہم اگر قطر سے سپلائی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش آئی تو اسپاٹ مارکیٹ سے کارگوز خریدے جائیں گے۔
خیال رہے کہ قطر کی جانب سے 6 نومبر سے ایل این جی سپلائی کے حوالے سے فورس میجور کا اعلان کیا گیا ہے، جس کے پیش نظر حکومت متبادل ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے۔ اسپاٹ مارکیٹ سے خریداری کے لیے فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت کا تخمینہ 30 ڈالر تک لگایا گیا ہے۔
ملک میں گیس کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو سوئی ناردرن اور سوئی سدرن گیس کمپنیوں کے پاس مقامی گیس کی مجموعی دستیابی ایک ارب 40 کروڑ مکعب فٹ یومیہ ہے۔ یہ مقدار سردیوں میں بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ثابت ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق صرف پنجاب میں سردیوں کے دوران گیس کی ضروریات ایک ارب مکعب فٹ یومیہ تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کے باعث گھریلو صارفین کو بھی گیس کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس کے پیش نظر ایل این جی درآمد ضروری ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ گیس کی لوڈشیڈنگ کو کم سے کم کیا جائے اور ترجیحی بنیادوں پر گھریلو صارفین کو گیس فراہم کی جائے۔ اس مقصد کے لیے گیس کے شعبے میں اصلاحات اور بہتر انتظام پر توجہ دی جا رہی ہے۔
پٹرولیم ڈویژن کے حکام کا کہنا ہے کہ گیس کی درآمد کے لیے بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھاؤ کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ حکومت کی اولین ترجیح ہے کہ عوام کو سردی کی شدت میں گیس کی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ملک میں گیس کے ذخائر میں کمی ایک طویل مدتی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے حکومت نئے گیس فیلڈز کی تلاش اور توانائی کے متبادل ذرائع پر بھی کام کر رہی ہے۔ تاہم فوری طور پر ایل این جی کی درآمد ہی گیس کی کمی کو پورا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔
حکومتی ذرائع نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ گیس کی فراہمی کے نظام کو شفاف بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی علاقے میں غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ نہ ہو۔ اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی ملک کے مختلف حصوں میں گیس کے دباؤ میں کمی کی شکایات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ ایل این جی کے نئے کارگوز کی آمد سے صورتحال میں بہتری آئے گی اور صارفین کو ریلیف ملے گا۔
عوام سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ موسم سرما میں گیس کا استعمال احتیاط سے کریں تاکہ سسٹم پر غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔ گیس کی بچت ہی اس بحران سے نمٹنے کا ایک مؤثر طریقہ ہے جس پر عمل کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے۔
حکومت کی جانب سے ایل این جی کی خریداری کا یہ ہدف ملکی توانائی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ بروقت اقدامات سے سردیوں کے دوران گیس کی قلت پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور صنعتوں سمیت گھریلو صارفین کو سہولت ہوگی۔




اپنی رائے دیں