بولی وڈ کے معروف اداکار ٹائیگر شروف پر ہونے والے حالیہ حملے کے کیس میں ممبئی کرائم برانچ نے ایک انتہائی حیران کن انکشاف کیا ہے۔ تحقیقاتی اداروں کے مطابق، فائرنگ کے اس واقعے میں ٹائیگر شروف دراصل ملزمان کا بنیادی ہدف نہیں تھے، بلکہ شوٹرز کسی اور مشہور شخصیت کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، ملزمان نے ابتدا میں ایک دوسرے معروف اداکار کو نشانہ بنانے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم اس اداکار کی سخت سکیورٹی کے باعث وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سخت حفاظتی حصار کے پیشِ نظر ملزمان نے اپنا رخ موڑ لیا اور ٹائیگر شروف کو ایک آسان ہدف کے طور پر منتخب کر لیا۔
اس اہم پیش رفت کے بعد ممبئی پولیس نے راجستھان کے علاقے کوٹہ سے گرفتار کیے گئے تینوں ملزمان کی تحویل حاصل کر لی ہے۔ مقامی عدالت نے مہاراشٹر پولیس کو ملزمان کی مزید تفتیش کے لیے ممبئی منتقلی کی غرض سے 48 گھنٹے کا ٹرانزٹ ریمانڈ فراہم کر دیا ہے۔
گرفتاری کے بعد ملزمان کو سخت سکیورٹی میں کوٹہ کے ریلوے کالونی پولیس اسٹیشن میں رکھا گیا تھا۔ اس دوران ممبئی کرائم برانچ اور راجستھان پولیس کے اہلکاروں نے ملزمان کے گرد ایک مضبوط سکیورٹی حصار قائم رکھا تاکہ کسی بھی قسم کی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
پولیس حکام نے ابتدائی طور پر ملزمان کو راتوں رات ممبئی منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا تھا، تاہم سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اس فیصلے کو تبدیل کر دیا گیا۔ ریلوے کالونی پولیس اسٹیشن کے افسر رام سوروپ مینا نے تصدیق کی ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ملزمان کو ممبئی منتقل کیا جا رہا ہے۔
تفتیشی ذرائع کے مطابق، ملزمان کو اس حملے کے لیے مبینہ طور پر پچاس ہزار روپے ایڈوانس رقم کے طور پر فراہم کیے گئے تھے۔ مزید برآں، حملہ مکمل کرنے کی صورت میں انہیں اضافی رقم کی ادائیگی اور بیرون ملک ملازمتوں کے پرکشش وعدے بھی کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ اس واقعے کی ایک نئی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں شوٹرز کی ناکامی کا پہلو نمایاں تھا۔ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آوروں کی بندوق میں گولی پھنس گئی تھی، جس کی وجہ سے وہ بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے اور ٹائیگر شروف بال بال بچ گئے۔
ممبئی پولیس اس کیس کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ ملزمان کے پیچھے موجود ماسٹر مائنڈز تک پہنچنے کے لیے ان تینوں افراد سے ہونے والی تفتیش کلیدی کردار ادا کرے گی۔ پولیس اس بات کا بھی پتہ لگا رہی ہے کہ یہ منصوبہ بندی کہاں سے کی گئی تھی۔
اداکار ٹائیگر شروف پر حملے کے بعد سے بولی وڈ انڈسٹری میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ معروف شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے بھی نئے سرے سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں، جس کے بعد ممبئی پولیس نے سکیورٹی انتظامات کو مزید سخت کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
تفتیش کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان کا تعلق ایک منظم گروہ سے ہو سکتا ہے جو مختلف فنکاروں کو دھمکانے یا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پولیس اب ان کے رابطوں اور مالی لین دین کی تفصیلات اکٹھی کر رہی ہے۔
عدالتی ریمانڈ کے دوران ممبئی کرائم برانچ ملزمان سے ان کے اصل ہدف کے بارے میں مزید پوچھ گچھ کرے گی۔ پولیس اس بات کا تعین کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ وہ دوسرا اداکار کون تھا جسے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تھی اور اس کے پیچھے محرکات کیا تھے۔
اس کیس میں پیش رفت کے بعد اب یہ توقع کی جا رہی ہے کہ جلد ہی اس گروہ کے دیگر ارکان کو بھی گرفتار کر لیا جائے گا۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے پر کسی بھی قسم کی افواہوں پر کان نہ دھریں اور صرف سرکاری ذرائع سے ملنے والی معلومات پر یقین رکھیں۔
ممبئی پولیس کی جانب سے اس کیس کو انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے کیونکہ یہ معروف شخصیات کی حفاظت اور شہر میں امن و امان کی صورتحال سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ تفتیشی ٹیمیں اب ملزمان کے موبائل فون ڈیٹا اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کا بھی تجزیہ کر رہی ہیں۔





اپنی رائے دیں