پاکستانی کرکٹ کو درپیش چیلنجز اور ٹیم کی کارکردگی میں تسلسل کے فقدان پر کھیلوں کے حلقوں میں بحث جاری ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ محض کپتان یا بورڈ کے سربراہ کی تبدیلی سے نتائج میں بہتری ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے گہری اور ساختی اصلاحات کی ضرورت ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں سیاسی مداخلت ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ پیٹرن ان چیف کے عہدے کے ذریعے سربراہ کی نامزدگی کا عمل بورڈ کی خودمختاری کو متاثر کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بورڈ کو ایک خود مختار ادارے کے طور پر چلایا جائے۔
بورڈ کا اپنا ایک مستحکم آئین ہونا چاہیے جس کے تحت ڈومیسٹک ریجنز اور کلبز کے منتخب نمائندے بورڈ آف گورنرز تشکیل دیں۔ اس سے سیاسی اثر و رسوخ ختم ہوگا اور ادارے کے معاملات میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر استوار ہو سکیں گے۔
ماضی میں اقربا پروری اور پسند ناپسند کی بنیاد پر کھلاڑیوں کے انتخاب نے ٹیم کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹیم کے اندر 'دوست نواز' کلچر کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ باصلاحیت کھلاڑیوں کو آگے آنے کا موقع مل سکے اور میرٹ کی بالادستی قائم رہے۔
سلیکشن کمیٹی کا کردار انتہائی اہم ہے، جس پر کھلاڑیوں کا اعتماد ہونا چاہیے۔ ماضی کے تجربات سے سیکھتے ہوئے ایسی کمیٹی تشکیل دی جائے جو کسی بھی قسم کے دباؤ سے آزاد ہو کر صرف کارکردگی کی بنیاد پر کھلاڑیوں کا انتخاب کرے۔
فرسودہ سوچ سے نجات حاصل کرنا کامیابی کی کنجی ہے۔ انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم نے 2015ء کے بعد اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لا کر عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کیا۔ پاکستان کو بھی جدید تقاضوں کے مطابق اپنی حکمت عملی ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔
کھلاڑیوں کی فٹنس کا معیار بین الاقوامی سطح کے مطابق ہونا چاہیے۔ جدید کرکٹ میں فٹنس کا کردار کلیدی ہے، جس کے لیے کھلاڑیوں کو سخت ڈائٹ پلان اور ٹریننگ کے اصولوں پر عمل کرنا ہوگا، جیسا کہ ماضی میں عمران خان کے دور میں کیا جاتا تھا۔
ڈومیسٹک کرکٹ کے نظام میں بار بار تبدیلیوں سے گریز کرنا چاہیے۔ ایک مستقل 5 سے 10 سالہ ڈومیسٹک ماڈل تشکیل دیا جائے تاکہ کھلاڑیوں کو تسلسل کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملے اور وہ بین الاقوامی کرکٹ کے لیے بہتر طور پر تیار ہو سکیں۔
ملک میں پچز کا معیار بہتر بنانا بھی ضروری ہے۔ ہر علاقے کی مٹی کے مطابق پچز تیار کی جائیں تاکہ بلے بازوں اور باؤلرز دونوں کی صلاحیتیں نکھر سکیں۔ جدید سپورٹس سائنس، بائیو مکینکس اور ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال اب وقت کی اہم ضرورت ہے۔
بورڈ کے انتظامی اخراجات کو کم کر کے ان وسائل کو انفرااسٹرکچر کی بہتری پر خرچ کیا جانا چاہیے۔ اسٹیڈیمز میں شائقین کے لیے سہولیات کی فراہمی، سیٹنگ کے بہتر انتظامات اور سیکیورٹی عملے کی تربیت سے کرکٹ کا ماحول مزید بہتر ہو سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر موجود بعض زہریلے اور خوشامدی مداحوں کے گروہ بھی کھلاڑیوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔ کھلاڑیوں کو ان گروہوں کے اثر سے بچانا اور ادارہ جاتی سطح پر حقائق پر مبنی بیانیہ قائم کرنا ضروری ہے تاکہ ٹیم کا مورال بلند رہے۔
کوچنگ اور انتظامی عہدوں پر محض نامور کھلاڑیوں کو نوازنے کے بجائے پیشہ ورانہ ڈگریاں اور جدید کوچنگ کی صلاحیت رکھنے والے افراد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ میرٹ پر مبنی تقرریاں ہی ٹیم کو کامیابی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہیں۔
آخر میں، یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ حقیقی تبدیلی کا آغاز اپنی کوتاہیوں کو ماننے سے ہوتا ہے۔ اگر بورڈ اور کھلاڑی مل کر ان تجاویز پر عمل کریں تو پاکستانی کرکٹ دوبارہ عالمی سطح پر اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کر سکتی ہے۔





اپنی رائے دیں