وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا 37واں اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کی مجموعی صورتحال اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس کے دوران ماحولیاتی آلودگی کے بڑھتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اہم فیصلے کیے گئے۔
کابینہ نے فیصلہ کیا ہے کہ صوبے بھر میں آلودگی پھیلانے والے عناصر کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔ اس پالیسی کا مقصد فضائی اور زمینی آلودگی کو کم کرنا ہے تاکہ شہریوں کو ایک صاف ستھرا اور صحت مند ماحول فراہم کیا جا سکے۔
اجلاس میں واضح کیا گیا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی بھی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ حکومتی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کے لیے ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی کہ وہ آلودگی کے ذرائع کی نشاندہی کریں اور ان کے تدارک کے لیے فوری اقدامات کریں۔ اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ کو بھی متحرک کیا گیا ہے تاکہ فیلڈ میں قوانین کی خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھی جا سکے۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ پنجاب میں سموگ اور آلودگی ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جس کے لیے طویل مدتی اور ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومتی سطح پر زیرو ٹالرنس کا فیصلہ اس مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔
اجلاس کے دوران دیگر انتظامی امور اور ترقیاتی منصوبوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ کابینہ نے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی جن کا مقصد صوبے میں حکومتی کارکردگی کو بہتر بنانا اور عوام کو درپیش مسائل کا فوری حل نکالنا ہے۔
صوبائی وزراء اور اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی اور اپنے متعلقہ محکموں کی کارکردگی پر بریفنگ دی۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ عوامی فلاحی منصوبوں کی تکمیل میں شفافیت اور معیار کو ہر صورت برقرار رکھا جائے تاکہ عوام کو ان کا مکمل فائدہ پہنچ سکے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق ماحولیاتی تحفظ کے لیے عوامی آگاہی مہم بھی چلائی جائے گی۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آلودگی کے خاتمے کے لیے حکومتی اقدامات میں تعاون کریں اور ماحول کو صاف رکھنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
اس کے علاوہ اجلاس میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر توانائی اویس لغاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ بجلی چوری کی روک تھام کے لیے نئی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے جس کے تحت آئندہ سال سے ٹرانسفارمرز پر لوڈشیڈنگ کا نظام نافذ ہوگا۔
توانائی کے شعبے میں ان اصلاحات کا مقصد بجلی کے نقصانات کو کم کرنا اور صارفین کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔ حکومت کا ماننا ہے کہ ٹرانسفارمرز کی سطح پر لوڈشیڈنگ سے بجلی چوری کے رجحان میں نمایاں کمی آئے گی۔
صوبائی کابینہ نے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے بھی جائزہ لیا۔ وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو علاج معالجے اور تشخیصی سہولیات کی فراہمی میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بہتری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان شعبوں میں درپیش مسائل کو حل کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے تاکہ عام آدمی کو ریلیف مل سکے۔
پنجاب حکومت کے یہ اقدامات صوبے میں گڈ گورننس کے قیام اور عوامی مشکلات کے ازالے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ ان فیصلوں کے مثبت اثرات جلد ہی عوام تک پہنچنا شروع ہو جائیں گے۔




اپنی رائے دیں