راولپنڈی کے نواحی علاقے کہوٹہ میں ایک دردناک ٹریفک حادثے کے نتیجے میں میاں بیوی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب میاں بیوی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر ایک تفریحی مقام سے واپس اپنے گھر کی جانب گامزن تھے۔
ریسکیو حکام کے مطابق جاں بحق ہونے والے شہری کی شناخت مبارک حسین کے نام سے ہوئی ہے، جو اپنی اہلیہ کے ہمراہ پنج پیر راکس نڑھ کے مقام پر گئے ہوئے تھے۔ واپسی کے سفر کے دوران موٹر سائیکل بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔
حادثے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122 کی ٹیمیں فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں۔ امدادی کارکنوں نے گہری کھائی سے میاں بیوی کی لاشوں کو نکال کر قریبی ہسپتال منتقل کیا، جہاں ڈاکٹروں نے ان کی موت کی تصدیق کر دی۔
مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ حادثے کے بعد جب میاں بیوی اپنے گھر نہیں پہنچے تو ان کے اہل خانہ نے تلاش شروع کی۔ اس دوران کھائی میں موٹر سائیکل اور قریب ہی دونوں میاں بیوی کی لاشیں ملیں، جس کے بعد ریسکیو ٹیم کو طلب کیا گیا۔
پولیس حکام نے واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متوفیان کے ورثاء نے اسے ایک اتفاقی حادثہ قرار دیا ہے اور کسی بھی قسم کی قانونی کارروائی کرنے سے گریز کیا ہے، جس کے بعد پولیس نے ضابطے کی کارروائی مکمل کر لی ہے۔
پہاڑی علاقوں میں سفر کے دوران موٹر سائیکل جیسے چھوٹے سواریوں کا استعمال انتہائی احتیاط کا متقاضی ہوتا ہے۔ نڑھ اور کہوٹہ کے گردونواح میں سڑکوں کی پیچیدہ ساخت اور موڑ حادثات کا سبب بنتے رہتے ہیں، جس پر مقامی انتظامیہ نے شہریوں کو محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔
اس المناک واقعے پر علاقے میں سوگ کی فضا چھا گئی ہے۔ سماجی حلقوں نے مبارک حسین اور ان کی اہلیہ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت کی ہے۔
ریسکیو 1122 کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق راولپنڈی کے دیہی علاقوں میں اس طرح کے حادثات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے سیاحوں اور مقامی افراد کو پہاڑی راستوں پر ڈرائیونگ کے دوران اضافی احتیاط برتنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
پولیس نے حادثے کے بعد قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد لاشیں ورثاء کے حوالے کر دی ہیں۔ ورثاء کی جانب سے کسی قسم کی کارروائی نہ کرنے کے بیان کے بعد پولیس نے رپورٹ درج کر کے معاملہ نمٹا دیا ہے۔
پنج پیر راکس نڑھ کا علاقہ اپنی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں میں مقبول ہے، تاہم یہاں کے دشوار گزار راستے اکثر حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ کی جانب سے سیاحتی مقامات پر حفاظتی اقدامات کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔
حادثے کے بعد علاقے کے مکینوں نے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ کر امدادی کاموں میں حصہ لیا۔ ریسکیو ٹیموں کی بروقت آمد نے لاشوں کو کھائی سے نکالنے میں مدد فراہم کی، ورنہ دشوار گزار راستے کے باعث یہ عمل مزید مشکل ہو سکتا تھا۔
مبارک حسین اور ان کی اہلیہ کی اچانک وفات نے ان کے خاندان کو صدمے سے دوچار کر دیا ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر بھی لوگوں کی جانب سے ان کی مغفرت کے لیے دعائیں کی جا رہی ہیں۔
انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ پہاڑی علاقوں میں سفر کرتے وقت اپنی سواری کی حالت کو چیک کریں اور خاص طور پر موٹر سائیکل سوار تیز رفتاری سے گریز کریں۔ حادثات سے بچاؤ کے لیے ٹریفک قوانین کی پاسداری کرنا ہی واحد حل ہے۔





اپنی رائے دیں