مواد پر جائیں
پیر، 19 اکتوبر 2026 8 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 12:57
بریکنگ
بالی وڈ اداکار ٹائیگر شروف فائرنگ کے واقعے میں محفوظ رہےکراچی میں غیر ملکیوں کو لوٹنے والا بڑا سائبر فراڈ نیٹ ورک بے نقاببولان: مزدا اور کار میں تصادم، خواتین اور بچوں سمیت 4 افراد جاں بحقممبئی میں بالی ووڈ اداکار ٹائیگر شیروف کی گاڑی پر فائرنگ، اداکار محفوظراولپنڈی: ون ویلنگ سے روکنے پر فائرنگ، خاتون سمیت 3 افراد زخمیبھارتی اداکار ٹائیگر شروف پر قاتلانہ حملہ، ڈرائیور سمیت تین افراد زخمیمشہور ریسلر بینجمن سیٹرلی کی موت کی وجہ سامنے آ گئیامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کا اعلانکراچی: گھگھر پھاٹک کے قریب ڈکیتی مزاحمت پر نوجوان قتلجہلم: ویٹنری ہسپتال میں جدید آپریشن تھیٹر کا افتتاح، موبائل وینز کی فراہمی کا اعلانستاروں کی روشنی میں آپ کا آج کا دن کیسا رہے گا؟راولپنڈی: موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے میاں بیوی جاں بحقصوبائی وزیر عظمیٰ بخاری کی صاحبزادی ودیعت فاطمہ رشتہ ازدواج میں منسلکجاپان کا امریکا میں سیمی کنڈکٹر چپس کی تیاری کیلئے 21 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا اعلانسعودی عرب: عمرہ زائرین کے لیے ڈیجیٹل سہولیات کا آغازواٹس ایپ کا نیا فیچر، اسٹیکرز میں اپنی آواز شامل کرنا ممکن ہوگاٹائپ 3 ذیابیطس کیا ہے؟ طبی ماہرین کی نئی تحقیق میں اہم انکشافکراچی: نجی کمپنی کے فنڈز میں خردبرد کرنے والے دو ملزمان ایف آئی اے کے ہتھے چڑھ گئےالٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال دماغی صحت اور فالج کے لیے خطرہ قرارپشاور: گیس کنکشن کے تنازع پر ہمسایوں کی فائرنگ سے ایک شخص جاں بحق
صحت

ٹائپ 3 ذیابیطس کیا ہے؟ طبی ماہرین کی نئی تحقیق میں اہم انکشاف

طبی ماہرین نے ذیابیطس کی ایک نئی قسم کی نشاندہی کی ہے جس کا تعلق انسانی دماغ میں انسولین کے نظام میں خرابی اور الزائمر کے مرض سے جوڑا جا رہا ہے۔

ٹائپ 3 ذیابیطس کیا ہے؟ طبی ماہرین کی نئی تحقیق میں اہم انکشاف

طبی دنیا میں ذیابیطس کی دو بنیادی اقسام یعنی ٹائپ 1 اور ٹائپ 2 کے بارے میں معلومات عام ہیں، جن پر دہائیوں سے تحقیق جاری ہے۔ تاہم، حالیہ طبی جائزوں اور ماہرین کی تحقیقات سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ذیابیطس کی ایک تیسری قسم بھی موجود ہو سکتی ہے جو انسانی صحت، بالخصوص دماغی افعال پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔

عام طور پر ذیابیطس اس وقت لاحق ہوتی ہے جب انسانی جسم میں انسولین کی پیداوار ناکافی ہو یا جسمانی خلیات انسولین کے خلاف مناسب ردعمل ظاہر نہ کر سکیں۔ اس عمل کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی ہے جو طویل مدتی پیچیدگیوں کا باعث بنتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹائپ 3 ذیابیطس کا تصور بنیادی طور پر الزائمر کے مرض سے جڑا ہوا ہے۔ تحقیق کے مطابق، الزائمر میں مبتلا افراد کے دماغ میں ایسی کیفیات دیکھی گئی ہیں جو انسولین کے نظام میں خرابی کی عکاسی کرتی ہیں، جسے طبی اصطلاح میں ٹائپ 3 ذیابیطس کا نام دیا گیا ہے۔

ویک فاریسٹ یونیورسٹی اسکول آف میڈیسن کی پروفیسر اور الزائمر ڈیزیز ریسرچ سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سوزین کرافٹ کے مطابق، یہ اصطلاح اس تصور کو واضح کرتی ہے کہ الزائمر کے مریضوں کے دماغ میں انسولین کے سگنلز کی ترسیل میں شدید خلل پیدا ہو جاتا ہے جو کہ ایک خاص طبی کیفیت ہے۔

ڈاکٹر سوزین کرافٹ نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیفیت ٹائپ 1 ذیابیطس سے بالکل مختلف ہے، جس میں مدافعتی نظام لبلبے کو انسولین بنانے سے روک دیتا ہے۔ اسی طرح یہ ٹائپ 2 سے بھی الگ ہے، جس میں جسم انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرتا ہے اور گلوکوز کا میٹابولزم متاثر ہوتا ہے۔

الزائمرز سوسائٹی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار اور تحقیقات کے مطابق، الزائمر کے مرض میں مبتلا افراد کے دماغی خلیات میں آنے والی تبدیلیاں جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہ عمل دماغی صحت کو براہ راست متاثر کرتا ہے۔

ٹائپ 3 ذیابیطس کا تصور طبی حلقوں میں نیا نہیں ہے، بلکہ اس پر گزشتہ کئی برسوں سے بحث جاری ہے۔ سن 2017 میں بھی مختلف طبی مضامین میں ٹائپ 3 سی ذیابیطس کی نشاندہی کی گئی تھی، جو لبلبے کو پہنچنے والے مختلف نقصانات کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کی یہ قسم انسانی صحت کے لیے ایک نئی چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ اس کے علاج اور بچاؤ کے لیے بہتر حکمت عملی وضع کی جا سکے۔

ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ طرز زندگی میں تبدیلیاں، متوازن غذا کا استعمال اور باقاعدہ ورزش ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچنے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ الٹرا پراسیسڈ غذاؤں کا زیادہ استعمال بھی دماغی نقصان اور دیگر بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتا ہے۔

تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سگریٹ نوشی اور مسلسل ایک جگہ بیٹھ کر کام کرنے کی عادت بھی ذیابیطس اور دل کی بیماریوں کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔ لہذا، صحت مند طرز زندگی کو اپنانا ہی ان بیماریوں سے بچاؤ کا واحد مؤثر ذریعہ ہے۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے معالج کے مشورے سے باقاعدگی سے شوگر کی سطح کی جانچ کروائیں اور ادویات کے ساتھ ساتھ خوراک پر بھی خصوصی توجہ دیں۔ بروقت تشخیص سے پیچیدگیوں کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

مستقبل میں ٹائپ 3 ذیابیطس پر ہونے والی مزید تحقیق سے الزائمر اور دیگر دماغی امراض کے علاج میں نئی راہیں کھلنے کی امید ہے۔ طبی سائنس مسلسل ارتقاء پذیر ہے اور نئی دریافتیں انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

عوام کو چاہیے کہ وہ طبی ماہرین کی تجاویز پر عمل کریں اور کسی بھی غیر معمولی علامت کی صورت میں فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ صحت سے متعلق آگاہی ہی ان پیچیدہ بیماریوں سے نمٹنے کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔

صحت کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں