فلم سازی کی دنیا میں آئی میکس (IMAX) ٹیکنالوجی ایک منفرد مقام رکھتی ہے، جو ناظرین کو ایک الگ اور شاندار بصری تجربہ فراہم کرتی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے ارتقاء میں سیلولائڈ فلم اور جدید ڈیجیٹل سسٹم دونوں کا اہم کردار رہا ہے اور ان کا موازنہ دلچسپ ہے۔
روایتی آئی میکس فلم سازی میں بنیادی طور پر 65 ایم ایم کی سیلولائڈ فلم استعمال کی جاتی رہی ہے۔ بعد ازاں اسے زوم کرکے 70 ایم ایم کے پرنٹ میں تبدیل کیا جاتا تھا، جس سے تصویر کا معیار انتہائی شفاف اور جاندار بن جاتا ہے جو بڑے پردے پر نمایاں ہوتا ہے۔
حقیقی آئی میکس (Real IMAX) کے تحت کچھ تجربات میں براہ راست 70 ایم ایم کی فلم کے فیتے کو شوٹنگ کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس عمل سے نہ صرف وقت، پیسہ اور محنت بچی بلکہ تصویر کی کوالٹی میں بھی نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی جو 70 ایم ایم کے عام پروجیکٹرز پر بہترین دکھائی دیتی ہے۔
دوسری جانب ڈیجیٹل آئی میکس کا نظام مکمل طور پر مختلف ہے۔ اس میں سیلولائڈ فلم کے بجائے میموری کارڈز اور جدید ڈیجیٹل کیمرے استعمال کیے جاتے ہیں، جو تصویر کو براہ راست ڈیجیٹل سگنلز کی صورت میں محفوظ کر لیتے ہیں۔
ڈیجیٹل آئی میکس کا سب سے بڑا فائدہ اس کی سہولت اور کم لاگت ہے۔ ایڈیٹنگ کے بعد ان ڈیجیٹل سگنلز کو خاص پروجیکٹرز کے ذریعے بڑی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے، جس میں 24 فریم فی سیکنڈ کا معیاری فارمولا اپنایا جاتا ہے تاکہ روانی برقرار رہے۔
تاہم، فلمی صنعت کے کئی نامور پروڈیوسرز اور ہدایت کار اب بھی پرانی طرز کی سیلولائڈ فلم کو ترجیح دیتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ سیلولائڈ پر بننے والی فلم کے رنگوں کی گہرائی اور صفائی ڈیجیٹل سسٹم کے مقابلے میں زیادہ فطری اور پرکشش ہوتی ہے۔
آئی میکس سنیما کے قیام کے اخراجات انتہائی زیادہ ہوتے ہیں۔ پاکستان میں آئی میکس کے ایک پرنٹ کی تیاری پر ایک کروڑ روپے سے زائد لاگت آتی ہے، جس کی وجہ سے ٹکٹ کی قیمتیں بھی عام فلموں سے تقریباً 2 سے 3 گنا زیادہ رکھی جاتی ہیں۔
ایک آئی میکس اسکرین کی بلندی تقریباً 80 فٹ تک ہوتی ہے، جو سات سے آٹھ منزلہ عمارت کے برابر ہے۔ اس دیوہیکل اسکرین کی خاص بناوٹ کی وجہ سے سنیما ہال کا ڈیزائن بھی عام سنیما سے مختلف اور زیادہ پیچیدہ ہوتا ہے۔
سنیما ہال کے اندر نشستوں کی ترتیب بھی ایک خاص تکنیکی معیار کے مطابق رکھی جاتی ہے جس میں راستے اور خالی جگہ چھوڑنا پڑتی ہے۔ عام سنیما کے مقابلے میں آئی میکس ہال میں نشستوں کی تعداد کم ہوتی ہے تاکہ ہر ناظر کو بہترین ویو مل سکے۔
سنیما کی عمارت، اسکرین، نشستیں، ساؤنڈ سسٹم اور پروجیکشن سسٹم پر کروڑوں روپے کے اخراجات اٹھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئی میکس سنیما کو چلانا ایک مہنگا اور تکنیکی طور پر مشکل عمل سمجھا جاتا ہے۔
جہاں ڈیجیٹل آئی میکس کی سہولت دستیاب نہیں ہوتی، وہاں ڈیجیٹل فلم سے روایتی آئی میکس کے فلم پرنٹ بنوا لیے جاتے ہیں۔ یہ عمل اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ناظرین کو ہر جگہ ایک جیسا معیاری اور اعلیٰ درجے کا بصری تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
آئی میکس کے ڈیجیٹل پروجیکٹرز ڈیجیٹل سگنل کو کارڈ سے اٹھا کر دوبارہ تصویری روپ دیتے ہیں۔ اس تصویر کو طاقتور روشنی اور خاص عدسوں کے ذریعے بڑی اسکرین پر دکھایا جاتا ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کا ایک بہترین شاہکار تصور کیا جاتا ہے۔
مجموعی طور پر آئی میکس ٹیکنالوجی نے فلم دیکھنے کے انداز کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ چاہے وہ روایتی سیلولائڈ ہو یا جدید ڈیجیٹل سسٹم، دونوں کا مقصد ناظرین کو ایک ایسا تجربہ فراہم کرنا ہے جو عام اسکرین پر ممکن نہیں ہوتا۔





اپنی رائے دیں