مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: صبح 11:38
بریکنگ
مصر کا سعودی عرب کے دفاع کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھانے کا اعلانجدہ ایئرپورٹ پر پروازوں کا آپریشن 45 منٹ کی معطلی کے بعد بحالفرانس اور البانیہ میں حکومت مخالف مظاہرے، متعدد عمارتیں نذرِ آتشبھارت: کولکتہ میں مذہبی تہوار کے دوران بھگدڑ، 17 افراد ہلاکسعودی عرب: امریکا اور برطانیہ کی اپنے شہریوں کو سکیورٹی الرٹ جاریپشاور: یکہ توت میں نامعلوم افراد کی رکشے پر فائرنگ سے دو خواتین جاں بحقمشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکی فضائیہ کا ری فیولنگ طیارہ مشن کے لیے تیارلاوینیا فونتانا: عریاں فن پارے تخلیق کرنے والی پہلی خاتون مصورہبلوچستان میں کرکٹ ٹیلنٹ کی تلاش، پی سی بی کے زیر اہتمام ٹرائلز کا انعقادامریکا: فٹبال میچ کے دوران گاڑی میدان میں گھس گئی، بچہ سمیت 2 افراد ہلاکپاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاریراولپنڈی: کہوٹہ میں موٹر سائیکل کھائی میں گرنے سے میاں بیوی جاں بحقپھیپھڑوں کے کینسر کی سرجری کے بعد پوپ لیو اسپتال سے ڈسچارج ہو کر ویٹیکن پہنچ گئےقدرت کا انوکھا کرشمہ، اندھیرے میں روشنی بکھیرنے والے مشروم دریافتجدہ میں علمی و سماجی مجلس کا انعقاد، سوشل میڈیا کے مثبت استعمال پر زورلائن آف کنٹرول پر پاک فوج اور محکمہ صحت کا فری میڈیکل کیمپلاہور میں چھٹی کا دن، شہریوں کا روایتی ناشتے کے پوائنٹس پر رشاسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر خصوصی افراد کے لیے سن فلاور لین یارڈ پروگرام کا آغازاسلام آباد کے مختلف علاقوں میں گیس کی عارضی بندش کا اعلانخیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور وفاقی اقدامات
سائنس و ٹیکنالوجی

قدرت کا انوکھا کرشمہ، اندھیرے میں روشنی بکھیرنے والے مشروم دریافت

سائنسی تحقیق کے مطابق یہ مشروم بایولومینیسینس نامی عمل کے ذریعے سبز روشنی خارج کرتے ہیں جو جنگلوں میں کیڑوں کو متوجہ کرنے کا باعث بنتی ہے۔

قدرت کا انوکھا کرشمہ، اندھیرے میں روشنی بکھیرنے والے مشروم دریافت

قدرت کے کارخانے میں ایسی کئی حیران کن چیزیں موجود ہیں جو انسان کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ حال ہی میں سائنسدانوں نے جنگلوں میں مشروم کی ایسی اقسام دریافت کی ہیں جو مکمل اندھیرے میں بھی سبز روشنی خارج کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

یہ کوئی جادو یا مصنوعی روشنی نہیں بلکہ ایک حقیقی سائنسی مظہر ہے جسے ماہرین بایولومینیسینس (Bioluminescence) کا نام دیتے ہیں۔ یہ عمل فنگس کے اندر ہونے والے مخصوص کیمیائی تعاملات کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتا ہے جو اسے منفرد بناتا ہے۔

تحقیق کے مطابق مشروم کی ان اقسام سے خارج ہونے والی روشنی کی شدت میں فرق پایا جاتا ہے۔ کچھ اقسام مسلسل روشنی خارج کرتی رہتی ہیں جبکہ دیگر میں یہ عمل دن اور رات کے قدرتی دورانیے کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ چمکدار روشنی جنگلی حیات کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اس روشنی کی بدولت چھوٹے کیڑے مکوڑے مشروم کی جانب متوجہ ہوتے ہیں جو ان کے تولیدی ذرات یعنی سپورز کو پھیلانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔

اگرچہ اس مظہر پر کافی تحقیق ہو چکی ہے تاہم سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ ہر قسم کے مشروم میں اس روشنی کا کردار مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ اس حوالے سے مزید سائنسی مطالعہ جاری ہے تاکہ اس کے دیگر پہلوؤں کو سمجھا جا سکے۔

یہ دریافت قدرت کے ان چھپے ہوئے رازوں میں سے ایک ہے جو جنگلات کے ماحولیاتی نظام میں توازن برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایسے مظاہر نہ صرف سائنسی حلقوں میں دلچسپی کا باعث بنتے ہیں بلکہ عام لوگوں کو بھی حیران کر دیتے ہیں۔

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ بایولومینیسینس کا عمل صرف مشروم تک محدود نہیں بلکہ سمندری حیات اور دیگر جانداروں میں بھی پایا جاتا ہے۔ یہ قدرت کا ایک ایسا نظام ہے جو تاریکی میں بھی زندگی کی موجودگی کا احساس دلاتا ہے۔

اس دریافت نے نباتیات کے شعبے میں نئی راہیں کھول دی ہیں۔ محققین اب اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا ان مشروم کے کیمیائی عمل سے انسانیت کے لیے کوئی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

جنگلوں کی گہرائیوں میں پائے جانے والے یہ چمکدار مشروم ماحول کی خوبصورتی میں اضافے کے ساتھ ساتھ سائنسی تحقیق کے لیے بھی ایک بہترین موضوع ہیں۔ ان کی موجودگی سے جنگل کا ماحول رات کے وقت ایک پرسرار منظر پیش کرتا ہے۔

اس قسم کی سائنسی دریافتیں ہمیں یہ بتاتی ہیں کہ ہماری زمین پر ابھی بھی بہت کچھ ایسا ہے جسے دریافت کرنا باقی ہے۔ قدرت کے ان انوکھے کرشموں کا مشاہدہ کرنا انسانی تجسس کو مزید بڑھاتا ہے۔

مستقبل میں اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے جس سے یہ واضح ہو سکے گا کہ یہ مشروم کن مخصوص حالات میں زیادہ روشنی خارج کرتے ہیں۔ یہ تحقیق ماحولیاتی تحفظ کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

قدرت کے اس انوکھے مظہر نے دنیا بھر کے سائنسدانوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروا لی ہے۔ یہ دریافت اس بات کا ثبوت ہے کہ فطرت کے ہر ذرے میں ایک خاص مقصد اور حکمت پوشیدہ ہے۔

ہمیں اپنے جنگلات اور قدرتی وسائل کی حفاظت کرنی چاہیے تاکہ ایسی نایاب اقسام اور ان کے سائنسی راز محفوظ رہ سکیں۔ یہ تحقیق فطرت کے ساتھ جڑے رہنے اور اسے سمجھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں