مواد پر جائیں
اتوار، 18 اکتوبر 2026 7 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: شام 6:37
تازہ
دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں تو پیپلز پارٹی تیار ہے، بلاول بھٹومحکمہ موسمیات کی پیشگوئی، ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم خشک رہے گاریاضی کی دلچسپ پہیلی، کیا آپ گمشدہ ہندسہ تلاش کر سکتے ہیں؟ملک میں زرعی ایمرجنسی نافذ کی جائے، پاکستان کسان اتحاد کا مطالبہپاکستان کی اسی فیصد کم آمدن والی آبادی دیہی علاقوں کی مکین ہے، عالمی بینکایمنڈ کے انتخابات، اظہر عباس صدر اور طارق محمود جنرل سیکرٹری منتخباسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ کا رابطہ، سفارت کاری پر زورخیبر پختونخوا میں مائننگ لائسنسز اور مبینہ بے ضابطگیوں پر اہم انکشافاتبیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالاتنائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ سے ٹیلی فونک رابطہدہشت گردی کے نام پر سیاست نہیں ہونی چاہیے: بلاول بھٹودہشت گردی کیخلاف جنگ کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے: بلاول بھٹوامریکا کا ایران سے جوہری پروگرام دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانت کا مطالبہمعیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرنا اولین ترجیح ہے، وزیراعظم شہباز شریفلاہور بورڈ کا کھیلوں کے فروغ کیلئے بجٹ بڑھا کر ساڑھے 6 کروڑ کر دیا گیاپاکستان کا پہلا خلا باز 25 نومبر کو خلائی مشن پر روانہ ہوگا، احسن اقباللاہور میں پٹرولنگ آفیسر سے بدتمیزی کرنے والا نوجوان گرفتار، مقدمہ درجلاہور میں پولیس حراست میں موجود ملزم ہسپتال میں دم توڑ گیاپنجاب پولیس کے سب انسپکٹرز کی ترقی کے لیے کمیٹی کا اجلاس کل ہوگامالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو 20 تا 22 اکتوبر پاکستان کا سرکاری دورہ کریں گے
پاکستان

بیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالات

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری افسران کے بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرنے کے معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

بیوروکریٹس کی بیرونِ ملک ہجرت پر وزیر دفاع خواجہ آصف کے سوالات

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سرکاری بیوروکریسی کے بعض اہم افسران کی جانب سے بیرونِ ملک مستقل سکونت اختیار کرنے کے رجحان پر سخت سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک تفصیلی بیان میں اس بات کا ذکر کیا ہے کہ سرکاری ملازمت کے دوران ہی بیرونی ممالک میں رہائش کے انتظامات کرنے سے ان کی قومی ذمہ داریوں پر سوالیہ نشان لگتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ملکی انتظامی ڈھانچے میں بے پناہ قابل اور دیانت دار افسران بھی موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ایک بڑی تعداد نے کینیڈا، برطانیہ، امریکا اور یورپی ممالک کو اپنا مستقل ٹھکانہ بنانے کو ترجیح دی ہے۔ اس روش سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ بعض افراد کے نزدیک ملکی خدمات شاید ایک عارضی مرحلہ ہوتی ہیں جب کہ اصل منزل کوئی اور ہوتی ہے۔

خواجہ آصف نے اس بات کی بھی نشاندہی کی ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران سرکاری افسران کی منتقلی کے حوالے سے پرتگال کا نام بہت زیادہ سامنے آ رہا ہے۔ وہ اس اہم معاملے پر پہلے بھی اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں کیونکہ یہ قومی مفاد اور حکومتی کارکردگی سے براہِ راست جڑا ہوا ایک سنجیدہ موضوع ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ جن افسران کے نام اس طرح کی منتقلیوں میں لیے جا رہے ہیں وہ طویل عرصے تک مختلف ادوار میں حکومتوں کی خصوصی توجہ اور سرپرستی کا مرکز رہے ہیں۔ یہ افراد ہمیشہ اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز رہ کر سرکاری امور چلاتے رہے ہیں لیکن اندرونی طور پر ان کے ذاتی منصوبے کچھ اور ہی ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ اس پورے عمل میں مبینہ طور پر سہولت کاری کرنے والا ایک شخص دولت مند بیوروکریٹس سے بھاری رقوم بٹورنے کے بعد ملک سے فرار ہو چکا ہے۔ اس معاملے کے حوالے سے معاشرے اور حلقوں میں مختلف قسم کی کہانیاں گردش کر رہی ہیں جو انتظامی بدعنوانی کی ایک نئی تصویر پیش کرتی ہیں۔

تاہم انہوں نے اپنے اس بیان میں کسی بھی مخصوص افسر، نامزد سہولت کار یا مالی لین دین کے حوالے سے کوئی تفصیلی شواہد یا نام سامنے نہیں رکھه‌ ہیں۔ ان کا مقصد اس سنگین مسئلے کی طرف اعلیٰ سطحی توجہ مبذول کرانا تھا تاکہ اس پر سنجیدگی سے غور کیا جا سکے اور اصلاح احوال کی جا سکے۔

خواجہ آصف نے اپنے بیان میں یہ بنیادی نکتہ اٹھایا ہے کہ جن لوگوں نے اعلیٰ سرکاری کرسیوں پر بیٹھ کر ملک کی دولت اور عزت سمیٹی اور جو سیاسی حلقوں کی آنکھ کا تارا رہے، کیا ان کی حب الوطنی کو ہمیشہ شک و شبہے سے بالاتر مانا جا سکتا ہے؟

انہوں نے سوال کیا کہ جو لوگ پہلے ہی بیرونِ ملک منتقل ہونے کے منصوبے بنائے بیٹھے ہوں، وہ کس حد تک اپنی سرکاری ملازمت کے دوران پاکستان کے ساتھ مخلص رہ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک ایسے تمام معاملات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ایک جامع اور شفاف جانچ پڑتال ناگزیر ہو چکی ہے۔

اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ متعلقہ افسران کے اثاثوں، ان کی آمدن کے ذرائع اور بیرونِ ملک کی جانے والی سرمایہ کاری کا از سر نو جائزہ لیا جائے۔ اس طرح کی تحقیقات سے ہی واضح ہو سکے گا کہ قانونی تقاضوں کی کتنی پاسداری کی گئی ہے اور کتنا استحصال کیا گیا ہے۔

ملکی بیوروکریسی کو مضبوط اور شفاف بنانے کے لیے اس قسم کے چیلنجز سے نمٹنا ریاست کے لیے انتہائی ضروری ہو چکا ہے تاکہ کوئی بھی شخص سرکاری عہدے کا فائدہ اٹھا کر ذاتی مفادات کی تکمیل نہ کر سکے۔

عوام اور حلقوں کی طرف سے بھی ایسے امور پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے اور یہ توقع کی جا رہی ہے کہ حکومتی سطح پر اس معاملے کی روشنی میں مناسب دائرہ کار وضع کیا جائے۔ ملک کی معاشی اور انتظامی ترقی کے لیے بیوروکریسی کا دیانت دار اور وطن کے ساتھ پرعزم ہونا بنیادی شرط ہے۔

موجودہ حالات میں اس بیان کے بعد سیاسی و انتظامی حلقوں میں ایک نئی بحث کا آغاز ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ اس ضمن میں مزید حقائق بھی سامنے آئیں گے۔ قومی مفاد کا تقاضا ہے کہ سرکاری ذمہ داریوں کی انجام دہی میں شفافیت کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ عوام کا ریاستی اداروں پر اعتماد بحال رہ سکے۔

بیوروکریسی کے اندر اس طرح کے رجحانات کا تدارک کرنے کے لیے ملک کے تمام اہم دارالحکومتوں اور متعلقہ وزارتوں کو فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ شفافیت اور قانون کی بالادستی سے ہی ایسے مسائل کا مستقل حل نکالا جا سکتا ہے جو ملکی ترقی کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

پاکستان کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں