کراچی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے جرائم پیشہ عناصر اور انسانی اسمگلرز کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے ایک اہم کارروائی انجام دی ہے۔ پاکستان رینجرز سندھ اور ضلعی پولیس نے مصدقہ خفیہ اطلاعات کی روشنی میں مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے بین الصوبائی انسانی اسمگلنگ میں ملوث ایک بڑے گروہ کا سراغ لگایا ہے۔
اس کامیاب کارروائی کے دوران پانچ اہم ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے جو غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کی نقل و حمل اور انہیں مختلف شہروں بالخصوص کراچی منتقل کرنے کے غیر قانونی دھندے میں فعال کردار ادا کر رہے تھے۔
ترجمان رینجرز کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گرفتار کیے جانے والے ملزمان کی شناخت عبدالعزیز بروہی، محمد بخش دشتی، علی حسن بروہی، ندیم بروہی اور جمیل بروہی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ یہ تمام ملزمان ایک منظم بین الصوبائی گروہ کا حصہ بتائے جاتے ہیں۔
مذکورہ ملزمان کارروائی کے وقت دو غیر قانونی افغان باشندوں، جن کی شناخت یار محمد اور رسول خان کے طور پر ہوئی ہے، کو حب سے کراچی منتقل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے اس کوشش کو ناکام بنا دیا۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ گرفتار ملزمان صرف انسانی اسمگلنگ تک محدود نہیں تھے بلکہ وہ دیگر سنگین جرائم بشمول اسلحہ اور منشیات کی غیر قانونی خرید و فروخت کے کاروبار میں بھی ملوث پائے گئے ہیں۔ ملزمان کے قبضے سے اسلحہ اور ممنوعہ اشیاء بھی برآمد کی گئی ہیں۔
آپریشن کے دوران ملزمان کے زیر استعمال ایک سوزکی لوڈر گاڑی بھی ضبط کی گئی ہے جسے غیر قانونی طور پر افراد کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اس گاڑی اور دیگر شواہد کی روشنی میں مزید تفتیش کر رہے ہیں۔
ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ گروہ حب شہر کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی افغان باشندوں کو عارضی رہائش فراہم کرتا تھا، جنہیں بعد ازاں مختلف طریقوں سے کراچی کے اندرونی حصوں تک پہنچایا جاتا تھا۔
سیکیورٹی اداروں کی سخت نگرانی اور چوکیوں سے بچنے کے لیے یہ اسمگلر عام شاہراہوں کے بجائے غیر روایتی اور پُراسرار راستوں کا انتخاب کرتے تھے۔ منگھوپیر، بند مراد، سرجانی ٹاؤن، نادرن بائی پاس اور ان کے گردونواح کے کچے راستے اس مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
اس گھناؤنے کاروبار کو چلانے کے لیے ملزمان باقاعدہ گائیڈز کی خدمات حاصل کرتے تھے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی نظروں سے بچ کر سفر کیا جا سکے۔ راستے کی تمام رکاوٹوں اور سیکیورٹی پوائنٹس کی پیشگی اطلاع کے لیے ایک نظام بنایا گیا تھا۔
تفتیش کے دوران گرفتار ملزمان نے ہوشربا انکشافات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فی افغان فیملی منتقلی کے عوض تقریبا دو لاکھ روپے تک کی بھاری رقم وصول کرتے تھے۔ غیر قانونی تارکین وطن کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر یہ رقوم نقد وصول کی جاتی تھیں۔
ملزمان نے یہ اعتراف بھی کیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آنکھ میں دھول جھونکنے کے لیے وہ بڑی گاڑیوں کے علاوہ موٹر سائیکلوں کا استعمال بھی کرتے تھے تاکہ قانون کی گرفت میں آنے سے بچ سکیں۔
گروہ کے کارناموں کے حوالے سے مزید انکشاف ہوا ہے کہ گزشتہ ایک ماہ کے مختصر عرصے کے دوران اس بین الصوبائی گروہ نے تقریبا ڈھائی سو کے قریب غیر قانونی افغان باشندوں کو کامیابی کے ساتھ کراچی کے مختلف علاقوں میں منتقل کیا۔
رینجرز اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں نیٹ ورک کے دیگر کارندوں اور سہولت کاروں کی تلاش کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں تاکہ اس پورے نیٹ ورک کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔
شہر میں غیر قانونی تارکین وطن کی نقل و حرکت اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اس طرح کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کو مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی قسم کے سیکیورٹی خدشات سے نمٹا جا سکے اور جرائم پیشہ افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔





اپنی رائے دیں