ملک کے بالائی علاقوں میں موسم کی اچانک تبدیلی اور شدید برف باری کے بعد گزشتہ تین روز سے بند رہنے والے تاریخی بابوسر ٹاپ کو اب ہر قسم کی نقل و حرکت کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ اس اہم پہاڑی راستے کی بندش کے باعث سیاحوں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جنہیں اب روڈ کھلنے کے بعد بڑی راحت مل گئی ہے۔
محکمہ پولیس کے ذرائع کے مطابق حالیہ شدید برف باری کے نتیجے میں گلگت کی سمت سے بابوسر ٹاپ کا راستہ مکمل طور پر بند ہو گیا تھا جس سے دونوں صوبوں کے درمیان آمدورفت معطل ہو گئی تھی۔ حکام کی جانب سے فوری طور پر رابطہ سڑکوں کی بحالی کا عمل شروع کیا گیا تاکہ وہاں پھنسے ہوئے شہریوں اور گاڑیوں کو بحفاظت نکالا جا سکے۔
متعلقہ پولیس حکام نے اس بات کی باضابطہ تصدیق کی ہے کہ اب گلگت اور خیبر پختونخوا دونوں اطراف سے بابوسر ٹاپ روڈ کو تمام چھوٹی اور بڑی گاڑیوں کے لیے مکمل طور پر بحال کر دیا گیا ہے۔ ٹریفک کی روانی بحال ہونے کے بعد اب مسافر بلا کسی تعطل کے اپنی منزل مقصود کی طرف سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔
شاہراہ کی اس اچانک بندش کے دوران مانسہرہ اور گردونواح کے راستوں پر بھی مسافروں اور سیاحوں کو مشکلات پیش آئیں جبکہ گلگت اور دیگر شمالی علاقوں میں آنے جانے والے افراد کو شدید پریشانی اٹھانی پڑی تھی۔ ضلعی انتظامیہ نے صورتحال پر فوری قابو پاتے ہوئے راستہ جلد از جلد صاف کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔
برف باری کے اس ناگہانی سلسلے اور شدید سردی کی لہر کی وجہ سے تین تیل بردار ٹینکرز بھی بابوسر ٹاپ کے دشوار گزار مقام پر پھنس گئے تھے جنہیں متعلقہ محکموں کے عملے نے انتہائی کٹھن حالات میں محفوظ طریقے سے نکالا۔ ان تمام آئل ٹینکرز کو بحفاظت ان کی اگلی منزل کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے تاکہ ایندھن کی رسد متاثر نہ ہو۔
شمالی علاقوں میں سیاحتی سیزن اور روزمرہ کی معمول کی آمدورفت کے لیے اس گزرگاہ کی انتہائی زیادہ اہمیت ہے جس کے پیش نظر متعلقہ اداروں نے انتہائی بروقت کارروائی کرتے ہوئے برف ہٹانے کا کام مکمل کیا۔ مقامی انتظامیہ، ریسکیو ورکرز اور پولیس اہلکاروں نے اس شاہراہ کو دوبارہ سے کلیئر کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
محکمہ موسمیات اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس موقع پر مسافروں اور سیاحوں کو خصوصی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بالائی اور پہاڑی علاقوں میں سفر کرنے سے پہلے موسمی صورتحال کا جائزہ ضرور لیں۔ موسم سرما کی آمد کے ساتھ ہی ان بلند مقامات پر درجہ حرارت تیزی سے نقطہ انجماد سے نیچے گر جاتا ہے۔
بابوسر ٹاپ کا شمار ملک کے ان بلند ترین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے جہاں سال کے مختلف حصوں میں موسم کی خرابی یا برفباری کے باعث راستے عارضی طور پر بند ہو جاتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے ہمیشہ یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مسافروں کو کم سے کم وقت میں متبادل سہولیات فراہم کی جائیں۔
گزشتہ تین روز کے دوران سیاحوں کی بڑی تعداد مانسہرہ اور دیگر قریبی مقامات پر ہی رکی رہی تاکہ روڈ کے کھلنے کا انتظار کیا جا سکے۔ روڈ بحال ہونے کی اطلاع ملتے ہی ان سیاحوں اور مسافروں نے سکون کا سانس لیا اور اپنے قافلوں کی صورت میں سفر دوبارہ شروع کیا۔
آئل ٹینکرز کے پھنس جانے کی وجہ سے مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں تعطل کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا لیکن بروقت ریسکیو آپریشن کی بدولت ان گاڑیوں کو نکال لیا گیا۔ ٹینکرز کے ڈرائیوروں نے بھی مشکل ترین موسمی حالات میں متعلقہ اداروں کے بروقت اقدام پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
پاکستان کے ان بالائی علاقوں میں سیاحت کو فروغ دینے کے لیے سڑکوں کی بحالی کا یہ نظام انتہائی اہمیت کا حامل ہے تاکہ ملکی اور غیر ملکی سیاح بلا خوف و خطر سیر و تفریح کے لیے آ سکیں۔ حکومت کی طرف سے بھی اس طرح کے راستوں کو ہنگامی بنیادوں پر صاف رکھنے کے لیے خصوصی مشینری تعینات کی جاتی ہے۔
مقامی دکانداروں اور ہوٹل مالکان نے بھی بابوسر ٹاپ کھلنے پر خوشی کا اظہار کیا ہے کیونکہ سڑک بند ہونے سے ان کے کاروبار پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے تھے۔ اب دوبارہ سے مسافروں کی آمدورفت شروع ہونے سے علاقے میں تجارتی اور سیاحتی سرگرمیاں ایک بار پھر معمول کے مطابق بحال ہو گئی ہیں۔
سفر کرنے والے تمام شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ دوران سفر ٹریفک قوانین کی مکمل پاسداری کریں اور غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے لیے ضلعی انتظامیہ کے جاری کردہ ہدایات ناموں پر سختی سے عمل کریں۔ محکمہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکار کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تاحال الرٹ پوزیشن پر موجود ہیں۔





اپنی رائے دیں