اسلام آباد میں پاکستان علماء کونسل کے زیرِ اہتمام اکیس اکتوبر دو ہزار چھبیس بروز بدھ کو ایک عظیم الشان تعظیمِ حرمین شریفین کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس کی تیاریاں اس وقت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہیں اور منتظمین کی جانب سے تمام انتظامات کو تیزی سے حتمی شکل دی جا رہی ہے۔
اس اہم ترین تقریب میں شرکت کے لیے ملک بھر کی مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین کو دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں تاکہ تمام اکائیاں اس پلیٹ فارم پر یکجا ہو سکیں، اور ملی یکجہتی کا ایک بہترین نمونہ دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
کانفرنس کے انعقاد کا بنیادی مقصد حرمین شریفین کے تقدس اور تحفظ کو اجاگر کرنا ہے، جس کے لیے دینی حلقوں میں ایک طویل عرصے سے بیداری مہم جاری ہے اور عوام کو اس مقدس مقام کی حرمت کے حوالے سے مزید آگاہی فراہم کی جارہی ہے۔
مذکورہ اجتماع میں پاکستان بھر کے مدارسِ عربیہ کے ذمہ داران، جید علماء کرام، مشائخ عظام اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات اور نمائندگان بھی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے، جو اس کانفرنس کی اہمیت کو دوچار کر رہے ہیں۔
اس پُروقار کانفرنس کی صدارت پاکستان علماء کونسل کے چیئرمین اور انٹرنیشنل تعظیمِ حرمین شریفین کونسل کے سیکرٹری جنرل حافظ محمد طاہر محمود اشرفی خود فرمائیں گے، جو اس تقریب کے اہم ترین خطابات میں سے ایک شمار ہوگا۔
کانفرنس کے دوران حرمین شریفین کے تقدس و تحفظ کے ساتھ ساتھ مملکت سعودی عرب کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اعادہ بھی کیا جائے گا، جو دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان تاریخی، دینی اور دیرینہ تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
موجودہ دور میں امتِ مسلمہ کو درپیش لاتعداد چیلنجز اور پیچیدہ مسائل بھی اس کانفرنس کے اہم ایجنڈے کا حصہ ہوں گے، جن پر شرکاء سنجیدہ غور و فکر کریں گے تاکہ عالمِ اسلام کو درپیش خطرات کا مؤثر طریقے سے مقابلہ کیا جا سکے۔
تقریب کے دوران تمام مکاتبِ فکر کے مابین اتحاد و اتفاق کی فضا کو فروغ دینے کے لیے تجاویز پیش کی جائیں گی، کیونکہ موجودہ حالات میں امت مسلمہ کا شیرازہ بکھرنے سے بچانے کے لیے اتحاد وقت کی سب سے اہم اور لازمی ضرورت بن چکا ہے۔
عالمی سطح پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہونے والی سازشوں کا ادراک کرتے ہوئے، کانفرنس میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ مسلم حکمران اور عوام باہم متحد ہو کر مشترکہ لائحہ عمل تیار کریں تاکہ اسلام کے تشخص کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اس پُر وقار اجتماع کے موقع پر وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ ملک بھر سے آنے والے مہمانوں، علماء اور سیاسی رہنماؤں کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں اور تقریب خوش اسلوبی کے ساتھ اپنے انجام کو پہنچ سکے۔
کانفرنس کے اختتام پر ایک متفقہ اعلامیہ بھی جاری کیے جانے کا قوی امکان ہے، جس میں حرمین شریفین کے تحفظ اور امت مسلمہ کے اتحاد سے متعلق اہم نکات شامل ہوں گے اور یہ اعلامیہ آئندہ کے لیے ایک اہم فکری دستاویز ثابت ہوگا۔
ملک کے دینی حلقوں، ممتاز شخصیات اور مختلف اداروں کی جانب سے اس کانفرنس کے انعقاد کو انتہائی تحسین کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور اسے موجودہ حالات میں ایک انتہائی بروقت اور مستحسن قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان علماء کونسل کے تمام کارکنان اور رضاکاران اس تاریخی کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے شبانہ روز محنت میں مصروف ہیں، اور توقع کی جا رہی ہے کہ یہ اجتماع پاکستان سمیت پورے عالمِ اسلام میں اتحاد اور یگانگت کا ایک روشن پیغام لے کر ابھرے گا۔




اپنی رائے دیں