مواد پر جائیں
ہفتہ 26، جمادی الاول 1448ھ 7، نومبر 2026ء آخری اپ ڈیٹ:
تازہ
ڈونلڈ ٹرمپ نے سٹی فن ملر کو نیا وائٹ ہاؤس چیف آف اسٹاف مقرر کر دیااسرائیل کی توسیع پسندانہ کوششیں علاقائی بحرانوں کی جڑ ہیں: دفتر خارجہامریکی کانگریس میں کنٹرول سنبھالنے پر ڈیموکریٹس کی جانب سے اے آئی بلز لانے کی تیاریفریڈ واسور نے لویس ہملٹن اور چارلس لیکلیرک کے درمیان میکسیکو گرینڈ پر کس کے تنازع پر بات چیت کیمشرق وسطیٰ میں امن تل ابیب کے مفاد میں نہیں، دفتر خارجہامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا سٹی فن ملر کو وائٹ ہاؤس کا نیا چیف آف سٹاف مقرر کرنے کا اعلانپاکستان اور سوڈان کا سیکیورٹی اور انسدادِ دہشت گردی میں تعاون بڑھانے پر اتفاقاین ایف ایل: شیڈور سینڈرز اتوار کو کلیولینڈ براؤنز کی قیادت کریں گےپاکستان کا بیرونی قرض 10 برس میں دگنا ہو کر 135 ارب ڈالر تک پہنچ گیاامریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کا عہدے پر برقرار رہنے کا عزم، ایران جنگ کا دفاعوزیراعظم مولانا فضل الرحمان کی عزت کرتے ہیں، سیاسی مخالفت نہیں چاہتے: رانا ثنا اللہامریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج: 2028 کے صدارتی مقابلے کی ہلچل شروعنیو انگلینڈ پیٹریٹس کے رننگ بیک ٹریویون ہینڈرسن نیورولوجیکل مسائل کے باعث ٹیم سے باہرٹیسلا کا سائبر ٹرک کی پیداوار بند کرنے کا اعلان، توجہ سائبر کیب پر مرکوزوائٹ ہاؤس نے پیٹ ہیگسیٹھ اور مارکو روبیو کے مستعفی ہونے کی خبروں کی تردید کر دیپاکستان کی سعودی عرب کے مقدس مقامات پر حوثی میزائل حملوں کی شدید مذمتپیرس اولمپک گولڈ میڈلسٹ ایمان خلیف کا پروفیشنل باکسنگ میں ڈیبیو کا اعلانکرکٹ میں دھوکہ دہی کا اسکینڈل، برائن ڈیوائن پر دو سال کی پابندی عائدانگلینڈ کو 2027 ورلڈ کپ تک فٹ ترین ٹیم بنانا ہدف ہے، ہیری بروکقائدِ اعظم ٹرافی: بابر اعظم کا مایوس کن مظاہرہ، آؤٹ ہونے پر غصے کا اظہار
دنیا

امریکی کانگریس میں کنٹرول سنبھالنے پر ڈیموکریٹس کی جانب سے اے آئی بلز لانے کی تیاری

ڈیموکریٹک رہنماؤں کا جنوری میں کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے پر مصنوعی ذہانت کے شعبے سے متعلق قوانین لانے کا ارادہ ہے۔

امریکی کانگریس میں جنوری میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام اور ڈیٹا سینٹرز کے فروغ کو ہدف بنانے والے نئے قوانین کا ایک سیلاب لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

قانون سازوں، کانگریس کے معاونین اور اس شعبے کے حامیوں کے مطابق یہ مجوزہ منصوبے ریپبلکن پارٹی کی زیرِ قیادت کانگریس سے ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کریں گے۔

ریپبلکن دور میں قانون سازوں کی اکثریت نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز رکھی تھی اور اس ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں کو محدود کرنے والے قوانین پاس کرنے سے گریز کیا تھا۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے ایسے بلز متعارف کرانے کا منصوبہ ہے جن کا مقصد صارفین کو ڈیٹا سینٹرز سے جڑے بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچانا ہے۔

اس کے علاوہ جدید اے آئی سسٹمز کی آزادانہ جانچ پڑتال کو لازمی بنانا اور یہ واضح کرنا بھی شامل ہے کہ اے آئی کمپنیاں اپنی مصنوعات سے ہونے والے نقصانات کی کب ذمہ دار ٹھہرائی جا سکتی ہیں۔

نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے جمعرات کو واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیٹا سینٹرز کی تیز رفتار توسیع سے منسلک توانائی کے زیادہ اخراجات سے صارفین کا تحفظ آئندہ سال ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔

میساچوٹس سے ڈیموکریٹ نمائندہ لوری ٹریہان کے نائب چیف آف اسٹاف فرانسس گروبر نے بتایا کہ لوری ٹریہان ایسی قانون سازی پر زور دینے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے تحت آزاد ماہرین کے لیے نمایاں اے آئی ماڈلز کا حفاظتی معیارات کے مطابق جائزہ لینا لازمی قرار دیا جائے۔

کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ نمائندہ زو لوفرین جو ہاؤس سائنس کمیٹی کی چیئرمین شپ کی خواہاں ہیں، کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس مصنوعی ذہانت کے لیے ذمہ دارانہ ضوابط تیار کرنے کے ساتھ ساتھ جدت کو فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز کریں گے۔

ٹیکساس سے ڈیموکریٹ نمائندہ اور کانگریس پروگریسو کا کس کے چیئرمین گریگ کی سر نے اس ہفتے بیان دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حامل بڑی کمپنیوں کے سینیئر حکام کو حلف یہ گواہی کے لیے طلب کیا جانا چاہیے۔

مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ عبدالایس سید، جنہوں نے حال ہی میں سینیٹ کی نشست جیتی ہے، نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت کے ضوابط کی نگرانی کے لیے ایک ایسے آزاد ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جو اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے والی ٹیک کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی طاقت رکھتا ہو۔

رپورٹس کے مطابق ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی کے باعث کسی بھی قانون سازی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے لیے لازمی اصول بنانے کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔

جمعہ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان امریکی ریاستوں کے ساتھ کام کریں گے جو اے آئی کو اپناتے ہوئے خوشحال بننا چاہتی ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلی بات نہیں کی۔

رےمنڈ جیمز میں پالیسی ریسرچ کے نگران ایڈ ملز کا کہنا ہے کہ اگر کسی بحران کی صورت میں صورتحال بنتی ہے تو صدر کی مخالفت پر قابو پانے کے لیے کافی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔

کانگریس کے دونوں ایوانوں میں قانون سازوں کی دو تہائی اکثریت کی تائید سے صدارتی وی ٹو کو بھی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔

ڈیموکریٹس روایتی بلز میں بھی اے آئی کے ضوابط کو شامل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جن کی منظوری ہر سال کانگریس سے لینا لازمی ہوتی ہے۔

اکتوبر کے مہینے میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق امریکی ووٹرز کی اکثریت کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس مصنوعی ذہانت کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔

ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹیکنالوجی کی دنیا کی طاقتور ترین کمپنیوں بشمول اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی کڑی نگرانی کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔

زو لوفرین اور ایوان کی دیگر ڈیموکریٹ کمیٹیوں کے رہنماؤں نے اکتوبر میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، میٹا، الفابیٹ کے گوگل اور اسپیس ایکس کو خط لکھ کر ان کے سیکیورٹی طریق کار کی تفصیلات طلب کی تھیں۔

اس موضوع پر مزید خبریں

دنیا کی تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
چیف ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر صحافی جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی ادارتی پالیسی، خبروں کی تصدیق اور معیار ان کی نگرانی میں ہے۔

  • نیوز ڈیسک — قومی، بین الاقوامی، عدالت اور جرم و سزا کی خبریں

ہمیں فالو کریں