امریکی کانگریس میں جنوری میں کنٹرول سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس کی جانب سے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے نظام اور ڈیٹا سینٹرز کے فروغ کو ہدف بنانے والے نئے قوانین کا ایک سیلاب لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
قانون سازوں، کانگریس کے معاونین اور اس شعبے کے حامیوں کے مطابق یہ مجوزہ منصوبے ریپبلکن پارٹی کی زیرِ قیادت کانگریس سے ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کریں گے۔
ریپبلکن دور میں قانون سازوں کی اکثریت نے مصنوعی ذہانت کی ترقی کو فروغ دینے پر توجہ مرکوز رکھی تھی اور اس ٹیکنالوجی کے مختلف پہلوؤں کو محدود کرنے والے قوانین پاس کرنے سے گریز کیا تھا۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے ایسے بلز متعارف کرانے کا منصوبہ ہے جن کا مقصد صارفین کو ڈیٹا سینٹرز سے جڑے بجلی کے بڑھتے ہوئے نرخوں سے بچانا ہے۔
اس کے علاوہ جدید اے آئی سسٹمز کی آزادانہ جانچ پڑتال کو لازمی بنانا اور یہ واضح کرنا بھی شامل ہے کہ اے آئی کمپنیاں اپنی مصنوعات سے ہونے والے نقصانات کی کب ذمہ دار ٹھہرائی جا سکتی ہیں۔
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے جمعرات کو واشنگٹن میں ایک تقریب کے دوران گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈیٹا سینٹرز کی تیز رفتار توسیع سے منسلک توانائی کے زیادہ اخراجات سے صارفین کا تحفظ آئندہ سال ان کی ترجیحات میں شامل ہوگا۔
میساچوٹس سے ڈیموکریٹ نمائندہ لوری ٹریہان کے نائب چیف آف اسٹاف فرانسس گروبر نے بتایا کہ لوری ٹریہان ایسی قانون سازی پر زور دینے کا ارادہ رکھتی ہیں جس کے تحت آزاد ماہرین کے لیے نمایاں اے آئی ماڈلز کا حفاظتی معیارات کے مطابق جائزہ لینا لازمی قرار دیا جائے۔
کیلیفورنیا سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ نمائندہ زو لوفرین جو ہاؤس سائنس کمیٹی کی چیئرمین شپ کی خواہاں ہیں، کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس مصنوعی ذہانت کے لیے ذمہ دارانہ ضوابط تیار کرنے کے ساتھ ساتھ جدت کو فروغ دینے پر بھی توجہ مرکوز کریں گے۔
ٹیکساس سے ڈیموکریٹ نمائندہ اور کانگریس پروگریسو کا کس کے چیئرمین گریگ کی سر نے اس ہفتے بیان دیا کہ مصنوعی ذہانت کی حامل بڑی کمپنیوں کے سینیئر حکام کو حلف یہ گواہی کے لیے طلب کیا جانا چاہیے۔
مشی گن سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ عبدالایس سید، جنہوں نے حال ہی میں سینیٹ کی نشست جیتی ہے، نے اپنی انتخابی مہم کے دوران مصنوعی ذہانت کے ضوابط کی نگرانی کے لیے ایک ایسے آزاد ادارے کے قیام کا مطالبہ کیا تھا جو اس ٹیکنالوجی کو تیار کرنے والی ٹیک کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی طاقت رکھتا ہو۔
رپورٹس کے مطابق ریپبلکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں موجودگی کے باعث کسی بھی قانون سازی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ وہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے لیے لازمی اصول بنانے کی مخالفت کرتے آئے ہیں۔
جمعہ کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ان امریکی ریاستوں کے ساتھ کام کریں گے جو اے آئی کو اپناتے ہوئے خوشحال بننا چاہتی ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے کوئی تفصیلی بات نہیں کی۔
رےمنڈ جیمز میں پالیسی ریسرچ کے نگران ایڈ ملز کا کہنا ہے کہ اگر کسی بحران کی صورت میں صورتحال بنتی ہے تو صدر کی مخالفت پر قابو پانے کے لیے کافی حمایت حاصل کی جا سکتی ہے۔
کانگریس کے دونوں ایوانوں میں قانون سازوں کی دو تہائی اکثریت کی تائید سے صدارتی وی ٹو کو بھی کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے۔
ڈیموکریٹس روایتی بلز میں بھی اے آئی کے ضوابط کو شامل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں جن کی منظوری ہر سال کانگریس سے لینا لازمی ہوتی ہے۔
اکتوبر کے مہینے میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق امریکی ووٹرز کی اکثریت کا خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اور کانگریس مصنوعی ذہانت کے خطرات کو سنجیدگی سے نہیں لے رہی ہے۔
ڈیموکریٹس کی جانب سے ٹیکنالوجی کی دنیا کی طاقتور ترین کمپنیوں بشمول اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی کڑی نگرانی کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔
زو لوفرین اور ایوان کی دیگر ڈیموکریٹ کمیٹیوں کے رہنماؤں نے اکتوبر میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، میٹا، الفابیٹ کے گوگل اور اسپیس ایکس کو خط لکھ کر ان کے سیکیورٹی طریق کار کی تفصیلات طلب کی تھیں۔




اپنی رائے دیں