دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری موجودہ کشیدگی اور بحرانوں کی بنیادی وجہ اسرائیل کی توسیع پسندانہ اقدامات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال کی زد میں نہ صرف فلسطین بلکہ شام، لبنان اور دیگر ہمسایہ ممالک بھی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔
ترجمان نے ایک بیان میں واضح کیا کہ مکہ اتحاد کا ہدف کسی بھی ملک کی مخالفت کرنا نہیں ہے بلکہ اس کا اصل مقصد خطے بھر میں امن اور استحکام کا فروغ ہے۔
امریکی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں کسی بھی جماعت کی حکومت برسرِ اقتدار رہے، اسلام آباد اور امریکہ کے مابین تعلقات ہمیشہ بہترین رہے ہیں۔ پاکستان تجارت، سرمایہ کاری، سکیورٹی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت تمام شعبوں میں امریکی حکومت کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
بھارتی شہریوں کے لیے ویزا پالیسی کے بارے میں ترجمان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے بھارتی شہریوں کے ویزوں کا اجرا بند نہیں کیا گیا ہے۔ اگر بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان پاکستان کا دورہ کرنا چاہیں تو انہیں ویزا جاری کرنے پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔
انہوں نے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ برس نو ہزار سے زائد بھارتی سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے کے ویزے دیے گئے جبکہ رواں سال کے دوران بھی چار ہزار سے زائد یاتریوں کو ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق بھارت نے مئی 2025 کے بعد سے کرتارپور راہداری کے توسط سے زائرین کی آمدورفت معطل کر رکھی ہے۔ جیسے ہی یہ پابندیاں اٹھائی جائیں گی، پاکستان سکھ یاتریوں کے استقبال اور انہیں تمام ضروری سہولتیں فراہم کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہوگا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان نے کرتارپور راہداری اس وقت قائم کی تھی جب دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ مذاکرات کا سلسلہ بھی معطل تھا۔ پاکستان نے اس منصوبے پر اربوں روپے صرف کیے تاکہ سکھ یاتریوں کو ان کے مقدس مقام تک آسان رسائی دی جا سکے۔
اس کے علاوہ ترجمان نے تصدیق کی کہ پاکستان کو بیس سے بائیس نومبر تک نئی دہلی میں منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی باضابطہ دعوت موصول ہو چکی ہے۔ اس اجلاس میں شرکت کرنے یا نہ کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ تمام متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد ملکی قیادت کرے گی۔


اپنی رائے دیں