پاکستان نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات میں اسرائیل کو رکاوٹ ڈالنے والے عناصر میں شامل قرار دے دیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مؤقف اختیار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام تل ابیب کے مفاد میں نہیں۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ خطے میں موجودہ حالات کی ایک بڑی وجہ اسرائیل کی بلاجواز توسیع پسندانہ کوششیں ہیں۔
ان کے مطابق یہ پالیسیاں صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ فلسطین، شام، لبنان اور دیگر قریبی ممالک تک پھیلی ہوئی ہیں۔
ترجمان نے مزید بتایا کہ پاکستان نے ماضی میں ایران اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے حل کے لیے دیانت دار ثالث کا کردار ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں مفاہمتی یادداشت پر دستخط اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔
ترجمان کے مطابق مسائل کا حل جنگ میں نہیں بلکہ سیاسی مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان نے تصدیق کی کہ اسلام آباد افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے ملک بدر کرنے کی امریکی تجویز پر غور کر رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کے تمام متعلقہ پہلوؤں کا تمام فریقوں سے مشاورت کے ساتھ بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ترجمان نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر باہمی اتفاق رائے سے کوئی قابل قبول لائحہ عمل نکال لیا جائے گا۔
امریکہ میں ہونے والے انتخابات سے متعلق پوچھے گئے سوال پر ترجمان نے کہا کہ پاکستان واشنگٹن کے ساتھ اپنے قریبی اور دیرینہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے۔
دفتر خارجہ کی اس بریفنگ میں اس بات کا بھی اعادہ کیا گیا کہ اسلام آباد خطے کے تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔
ترجمان نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ پاکستان نے ماضی میں بھی دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور کوششیں کی تھیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بھی عالمی اور علاقائی امن کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا۔


اپنی رائے دیں