مواد پر جائیں
اتوار، 25 اکتوبر 2026 14 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: سہ پہر 3:17
بریکنگ
قلعہ سیف اللہ میں سکیورٹی فورسز کا آپریشن، فتنہ الخوارج کا اہم کمانڈر ہلاکسہ ملکی ون ڈے سیریز، پاکستان کا انگلینڈ کے خلاف فیلڈنگ کا فیصلہسعودی عرب: حوثی ملیشیا کے مکہ اور مدینہ پر بیلسٹک میزائل حملے ناکامسندھ میں عام استعمال کی 6 ادویات کے 7 بیچز جعلی قرارپاک چین دوستی کے 75 برس، چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ کل پاکستان پہنچیں گیوزیراعظم شہباز شریف کا سکول و مدارس کے 5 لاکھ طلبہ میں کروم بکس تقسیم کرنے کا آغازامریکا کی ایران پر ممکنہ فوجی کارروائی کے لیے جنگی بیڑے پر تیاریاں شروعسابقہ پاکستانی اداکارہ کومل عزیز خان کا شوبز سے مستقل کنارہ کشی کا اعلاناسلام آباد میں سعودی سرمایہ کاری سے جدید تھیم پارک بنانے کا معاہدہ طےنائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور چینی سفیر کی ملاقات، سی پیک اور تجارت پر تبادلہ خیالالیکٹرک بائیکس کے فروغ کا منصوبہ، شہریوں کو 80 ہزار روپے سبسڈی کی تجویزپاکستان بزنس کونسل دبئی کے چیئرمین شبیر مرچنٹ کی برج ٹو بزنس 2026 میں شرکتیورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرےجنوبی افریقا کے خلاف آخری ٹیسٹ، آسٹریلوی آل راؤنڈر کیمرون گرین کی واپسی یقینیفیفا انڈر 15 ورلڈ کپ: گیمبیا نے پاکستان کو 2 کے مقابلے میں 4 گول سے ہرادیاپاکستان اور قطر کا دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری بڑھانے پر اتفاقادارے کیخلاف بیانیے سے لاتعلقی، پی ٹی آئی کا پرامن احتجاج کا عندیہلاہور: بیدیاں روڈ پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بڑا آپریشن، تین مارکیز مسمارمحکمہ اوقاف کے تین اہلکاروں کی اپیلیں مسترد، مالی بے ضابطگیوں پر سزائیں برقرارایک لاکھ الیکٹرک بائیکس کی فراہمی، کمپنیوں سے درخواستیں طلب
دنیا

یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے

اٹلی، اسپین، فرانس اور بیلجیئم سمیت کئی یورپی ممالک میں عوام نے مہنگائی اور بیروزگاری کے خلاف سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا۔

یورپ کے مختلف ممالک میں مہنگائی اور حکومتی پالیسیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرے

یورپ کے کئی ممالک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے خلاف شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق ان مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر مظاہرین اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔

اٹلی کے دارالحکومت روم میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جن میں صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ اطالوی حکام کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گیارہ افراد کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا جبکہ مجموعی طور پر چھیانوے افراد کو تحویل میں لے لیا گیا ہے۔

اٹلی کے دیگر کئی شہروں میں بھی شہریوں کی کثیر تعداد نے سڑکوں پر آ کر حکومتی معاشی اقدامات کے خلاف اپنے غم و غصے کا اظہار کیا اور مہنگائی پر قابو پانے کا مطالبہ کیا۔

اسپین کے دارالحکومت بارسلونا میں بھی ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آئے جہاں مظاہرین اور پولیس کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ہسپیشی حکام نے امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے تھے۔

بیلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں بھی حکومت مخالف مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ برسلز میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے آنسو گیس اور مرچوں کے اسپرے کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔

البانیہ میں بھی شہریوں نے موجودہ معاشی حالات اور گرانی کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے جن میں عامتہ الناس کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ البانیہ کے مختلف شہروں میں مہنگائی کے خلاف آواز بلند کی گئی اور حکومت سے فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی تحریک جاری ہے جس کے تحت دارالحکومت پیرس میں ایک بڑا مارچ نکالا گیا۔ فرانسیسی وزارتِ داخلہ کی طرف سے جاری کردہ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق پیرس میں ہونے والے اس مرکزی مارچ میں ایک لاکھ دس ہزار افراد نے شرکت کی۔

فرانسیسی دارالحکومت میں نکالا جانے والا یہ مارچ بڑی حد تک پرامن رہا تاہم مارچ کے اختتامی مراحل میں بعض مقامات پر مظاہرین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپیں شروع ہو گئیں۔

پیرس میں احتجاج کے دوران ہونے والی جھڑپوں میں شرکاء نے مبینہ طور پر جلاؤ گھیراؤ کا راستہ اپنایا، مختلف مقامات پر کچرے کے ڈبوں کو آگ لگائی گئی اور توڑ پھوڑ کی گئی۔

فرانسیسی وزارتِ داخلہ کے مطابق امن و امان کی اس تشویشناک صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک بھر میں ستر ہزار پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مظاہروں کے دوران توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے واقعات میں ایک ہزار کے قریب پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔

فرانس میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تخریب کاری کے شبے میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔ فرانسیسی وزیر داخلہ نے اپنے ایک بیان میں بتایا کہ ہفتے کے روز ہونے والے نئے احتجاجی مظاہروں کے دوران بھی پولیس نے مختلف اقسام کے ہتھیار ضبط کیے اور مزید ایک سو پینتیس افراد کو گرفتار کیا۔

یورپ کے انمختلف ممالک میں جاری ان احتجاجی مظاہروں کی بنیادی وجہ حالیہ برسوں میں بڑھنے والی مہنگائی، اشیائے خوردونوش اور توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے۔ عوام کا موقف ہے کہ حکومتی پالیسیاں عام آدمی کو ریلیف دینے میں ناکام ہو چکی ہیں جس کی وجہ سے روزمرہ زندگی انتہائی مشکل ہو گئی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یورپ بھر میں پھیلا یہ عوامی احتجاج حکومتی معاشی اور سیاسی حلقوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ مختلف حکومتوں کی جانب سے صورتحال کو قابو میں لانے اور شہریوں کے مطالبات پر غور کرنے کے لیے رابطے جاری ہیں تاکہ مزید کشیدگی سے بچا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں