ملک بھر میں ماحولیاتی آلودگی میں کمی لانے اور شہریوں کو سفر کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کی غرض سے الیکٹرک بائیکس کے استعمال کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک جامع منصوبہ تیار کر لیا گیا ہے جس کے تحت ملک بھر میں مقررہ مدت کے اندر ایک لاکھ الیکٹرک بائیکس فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کا بنیادی مقصد شہریوں کو ماحول دوست اور سستی سواری کی فراہمی کو یقینی بنانا ہے تاکہ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔
منصوبے کے تحت الیکٹرک بائیکس خریدنے والے شہریوں کو اسی ہزار روپے تک کی سبسڈی فراہم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس حکومتی اقدام سے عوام پر مالی بوجھ کم ہوگا اور وہ روایتی پیٹرول سے چلنے والی موٹر سائیکلوں کے مقابلے میں الیکٹرک بائیکس کی جانب راغب ہوں گے۔ اس سے ملک میں روزانہ کی بنیاد پر بڑھتے ہوئے ایندھن کے اخراجات میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔
انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ نے اس اہم منصوبے کے تحت الیکٹرک بائیکس کی تیاری اور ان کی بروقت فراہمی کے لیے مختلف کمپنیوں سے باضابطہ طور پر درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ اس مقصد کے لیے شفاف اور مسابقتی عمل کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ اعلیٰ معیار کی بائیکس مناسب قیمت پر عوام تک پہنچائی جا سکیں۔
منصوبے کے دائرہ کار کو وسیع تر بنانے کے لیے الیکٹرک بائیکس کی فراہمی کے لیے دو سو مختلف بیچز بنائے جائیں گے۔ ہر ایک بیچ کے اندر پانچ سو بائیکس شامل ہوں گی جو مرحلہ وار طریقے سے مارکیٹ میں لائی جائیں گی تاکہ طلب اور رسد کا توازن برقرار رہے۔
کمپنیوں کے انتخاب کا یہ سارا عمل شفاف مسابقتی بولی کے ذریعے مکمل کیا جائے گا تاکہ بہترین کارکردگی کی حامل کمپنیوں کو موقع مل سکے۔ اس منصوبے میں بالخصوص مقامی صنعت کو فروغ دینے اور اس کی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
متعلقہ اداروں کے مطابق الیکٹرک بائیکس کی فراہمی اور مینوفیکچرنگ کے لیے کمپنیاں اپنی درخواستیں مقررہ تاریخ یعنی تین نومبر دو ہزار چھبیس کو صبح گیارہ بجے تک پی پی آر اے کے ای پورٹل پر جمع کرا سکتی ہیں۔ مقررہ وقت کے بعد موصول ہونے والی کسی بھی درخواست پر غور نہیں کیا جائے گا۔
درخواست جمع کرانے کے عمل کے لیے پانچ ہزار روپے کی ناقابلِ واپسی فیس مقرر کی گئی ہے جو تمام خواہشمند کمپنیوں کو جمع کرانا ہوگی۔ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ جو کمپنیاں پہلے ہی اس مقصد کے لیے اہل قرار دی جا چکی ہیں، انہیں دوبارہ درخواست جمع کرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات سے ملک میں برقی گاڑیوں کے شعبے کو وسعت ملے گی اور نئی صنعتیں قائم ہوں گی۔ اس سے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ درآمدی تیل پر انحصار بھی کم ہوگا جس سے قومی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومت کا یہ قدم پائیدار ترقی اور سبز توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا۔
الیکٹرک بائیکس کی تیاری اور فراہمی کا یہ عمل ملک بھر میں پائیدار اور ماحول دوست نقل و حمل کے فروغ میں معاون ثابت ہوگا۔ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والے شہریوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ وہ جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سواری حاصل کر سکیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے ذریعے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے رجحان میں اضافہ ہوگا اور مقامی سطح پر اچھے معیار کی بائیکس تیار کی جا سکیں گی۔ مقامی مینوفیکچررز کو اس عمل کا حصہ بننے کے لیے بہترین مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔
درخواستوں کی وصولی کا عمل مکمل ہونے کے بعد تمام موصولہ تجاویز کا تکنیکی اور مالی جائزہ لیا جائے گا تاکہ شفافیت کے ساتھ بہترین کمپنیوں کا انتخاب کیا جا سکے۔ اس مرحلے کے دوران تمام قواعد و ضوابط کی سختی سے پابندی یقینی بنائی جائے گی۔
منصوبے کے نفاذ سے شہروں میں دھوئیں اور شور کی آلودگی میں کمی متوقع ہے جو کہ حالیہ برسوں میں ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ ماحول دوست سواریوں کے فروغ سے شہریوں کی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور فضائی معیار بہتر ہوگا۔
حکومت اور متعلقہ ادارے اس پورے عمل کی کڑی نگرانی کریں گے تاکہ مقررہ اہداف کو وقت پر حاصل کیا جا سکے۔ اس نوعیت کے اقدامات سے ملکی معیشت کو استحکام ملے گا اور عوام کو طویل المدتی بنیادوں پر مالی ریلیف فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔





اپنی رائے دیں