مواد پر جائیں
ہفتہ، 17 اکتوبر 2026 6 جمادی الاول 1448ھ آخری اپ ڈیٹ: رات 2:57
بریکنگ
پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں کمی کا امکانپٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لٹر کمی، ڈیزل کی قیمت برقرارخالصتان تحریک کے رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کو ایک بار پھر قاتلانہ حملے کی دھمکیعازمین حج و عمرہ کیلئے ویکسین خریداری میں بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا حکمپیٹرول کی قیمت میں 3 روپے 93 پیسے فی لیٹر کمی کا اعلانبولی وڈ اداکارہ کریتی سینن کا مصنوعی ذہانت کے غلط استعمال کیخلاف عدالت سے رجوعلاہور: پولیس حراست میں دھوکہ دہی کے ملزم کی دورانِ علاج ہلاکتٹرمپ کا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ترجمان وائٹ ہاؤس کیٹی زکریا کو عہدے سے برطرف کر دیافرسٹ کلاس کرکٹ کھلاڑیوں کو ذہنی اور جسمانی طور پر مضبوط بناتی ہے: فخر زمانون ڈے ٹرائی سیریز: پاکستان اور سری لنکا کی راولپنڈی میں بھرپور پریکٹسآئیسکو کا بجلی کی فراہمی معطل رکھنے کا شیڈول جاریلاہور: خود کو سرکاری افسر ظاہر کرنے والا ملزم پولیس حراست میں دورانِ علاج جاں بحقمعدنیات کے ٹھیکے امریکا کو نہیں دیے، وزیر دفاع خواجہ آصف کا واضح بیانایران کی سلامتی کیخلاف اقدام پورے خطے کیلئے تباہ کن ہوگا: ابراہیم عزیزیآرمینیا ایران کی سلامتی کیخلاف کوئی اقدام نہیں کرے گا: عباس عراقچیپاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ، حجم 43 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیایوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر کڑی تنقیدیمن کے حوثیوں کے خلاف اسرائیل کی مدد قبول کرنے پر امریکی صدر کا بیانکراچی: ایف آئی اے کا ہنڈی حوالہ نیٹ ورک کیخلاف کریک ڈاؤن، دو ملزمان گرفتار
دنیا

ایران کی سلامتی کیخلاف اقدام پورے خطے کیلئے تباہ کن ہوگا: ابراہیم عزیزی

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے چیئرمین نے خبردار کیا کہ تہران کیخلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کے نتائج سنگین ہوں گے۔

ایران کی سلامتی کیخلاف اقدام پورے خطے کیلئے تباہ کن ہوگا: ابراہیم عزیزی

ایران کی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین ابراہیم عزیزی نے ایک اہم بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی کوئی کوشش کی گئی تو اس کے نتائج پورے خطے کیلئے ناقابل تلافی ہوں گے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی غلط فہمی یا غلط اندازے کا شکار ہونے سے گریز کیا جانا چاہیے کیونکہ ایسی کوئی بھی کارروائی پورے خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتی ہے جس کے اثرات طویل المدتی ہوں گے۔

ابراہیم عزیزی نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایرانی قوم اپنی خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پوری طرح تیار ہے اور کسی بھی بیرونی دباؤ یا دھمکی کو قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی دفاعی صلاحیتیں کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے کافی ہیں۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ ابھی تک دنیا میں ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا جو ایران کی عظیم قوم کے خلاف کسی بھی قسم کے مہلک ہتھیار یا بم کا استعمال کرنے کی جرات کر سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تہران اپنی دفاعی پالیسیوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ نام نہاد 'مدر آف آل بم' جیسی دھمکیوں کا استعمال کر کے ایران کو خوفزدہ نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی دھمکیاں دینے والے درحقیقت اپنی کمزوری کا اظہار کرتے ہیں اور ایران ایسی کسی بھی مہم جوئی کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

خطے کی موجودہ صورتحال کے تناظر میں ابراہیم عزیزی کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خطے میں کشیدگی بڑھانے والے عناصر کے خلاف محتاط رہے اور امن و استحکام کو ترجیح دے۔

ایران کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سیاسی اور سفارتی ہلچل دیکھی جا رہی ہے۔ تہران کا موقف رہا ہے کہ خطے میں امن کے لیے غیر ملکی مداخلت کا خاتمہ اور باہمی احترام ضروری ہے تاکہ کسی بھی قسم کے تصادم سے بچا جا سکے۔

ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ دفاعی خود انحصاری ہی ان کی سلامتی کی ضمانت ہے۔ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ایران کسی بھی قسم کی جارحیت کا سامنا کرنے کے لیے اپنی عسکری اور سیاسی حکمت عملی کو مستحکم رکھنے کے لیے پرعزم ہے اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے اس طرح کے سخت بیانات کا مقصد اپنی دفاعی پوزیشن کو واضح کرنا اور کسی بھی ممکنہ بیرونی مداخلت کو روکنا ہے۔ تہران مسلسل یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ خطے میں کسی بھی قسم کی جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن اپنی سالمیت پر آنچ نہیں آنے دے گا۔

ابراہیم عزیزی نے مزید کہا کہ ایران کی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور خطے کے ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا قیام ہے۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کی سلامتی کو نشانہ بنایا گیا تو تہران خاموش تماشائی نہیں بنے گا اور سخت جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی طاقتوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ایران نے بارہا کہا ہے کہ خطے کی سلامتی صرف علاقائی ممالک کے باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے اور بیرونی مداخلت صرف مسائل میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کے چیئرمین کا یہ بیان تہران کے اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنی قومی سلامتی کو ہر چیز پر مقدم رکھتا ہے۔ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔

آخر میں، ابراہیم عزیزی نے ایک بار پھر زور دیا کہ ایران کی سلامتی کے خلاف کسی بھی اقدام کا خمیازہ پورے خطے کو بھگتنا پڑے گا، اس لیے تمام فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تاکہ خطے کو کسی بھی بڑی تباہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

دنیا کی مزید خبریں

تمام خبریں ←

تبصرے

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔

ڈیلی پاکستان آن لائن کے بارے میں

باخبر پاکستان، باوقار صحافت

ڈیلی پاکستان آن لائن ایک آزاد اور غیر جانبدار اردو نیوز پلیٹ فارم ہے جو پاکستان اور دنیا بھر کی اہم، تازہ ترین اور مستند خبریں لمحہ بہ لمحہ آپ تک پہنچاتا ہے۔ سیاست، کاروبار، کھیل، شوبز، صحت، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر اہم موضوعات پر بروقت، درست اور جامع معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔

ہر خبر شائع ہونے سے پہلے معتبر ذرائع سے پرکھی جاتی ہے اور شستہ، رواں اردو میں پیش کی جاتی ہے، تاکہ قارئین تک صرف سچی، واضح اور قابلِ اعتماد خبر پہنچے۔

محمد عمران خان
اسپورٹس و بزنس ایڈیٹرمحمد عمران خان

سینئر اسپورٹس جرنلسٹ جو کئی بڑے بین الاقوامی مقابلوں کی کوریج کر چکے ہیں۔ ڈیلی پاکستان آن لائن کی کھیل اور کاروبار کی ہر خبر ان کی ادارت میں شائع ہوتی ہے۔

ہمیں فالو کریں